دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

{وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ:اور اگر کوئی مشرک ۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اگر کوئی مشرک مہلت کے مہینے گزرنے کے بعد آپ سے پناہ مانگے تاکہ آپ سے توحید کے مسائل اور قرآنِ پاک سنے جس کی آپ دعوت دیتے ہیں تو اسے پناہ دے دیں حتّٰی کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کلام سنے اور اسے معلوم ہو جائے کہ ایمان قبول کرنے کی صورت میں اسے کیا ثواب ملے گا اور کفر پر قائم رہنے کی وجہ سے اس پر کیا عذاب ہو گا اور  اگر ایمان نہ لائےتوپھر اُسے اُس کی امن کی جگہ پہنچا دیں ،یہ اس لیے کہ وہ ابھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دین اسلام اور اس کی حقیقت کوجانتے نہیں  تو انہیں امن دینا عین حکمت ہے تاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کلام سنیں اور سمجھیں۔(خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ ۶، ۲ / ۲۱۸، مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۶، ۱ / ۴۸۶، ملتقطاً)

آیت’’وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ‘‘سے معلوم ہونے والے مسائل:

            اس آیت سے 5مسئلے معلوم ہوئے

(1) …جس کافر کو امان دی گئی وہ ذمی کافر کی طرح دارُ الاسلام میں محفوظ ہے کہ نہ اسے قتل کیا جائے گا اور نہ اس کا مال چھینا جائے گا۔

(2)… جس کافر کو امان دی گئی اسے ہمیشہ دارُ الاسلام میں رہنے کی اجازت نہیں۔

(3)…اگر وہ مومن یا ذمی نہ بنے تو امن کی مدت گزر جانے کے بعد اسے سلامتی کے ساتھ دارُ الاسلام سے نکال دیا جائے ۔

(4)… جس کافر کو امان دی گئی اسے اسلام کی تبلیغ کی جائے شاید وہ ایمان لے آئے۔

(5)… اِسی آیت سے ایک بات یہ بھی سمجھ آتی ہے کہ کفار کیلئے تبلیغِ دین کے زیادہ سے زیادہ مواقع مہیا کرنا چاہئیں کہ وہ اسلام کو سنیں ، دیکھیں اور سمجھیں۔ بہت سے کفار اس لئے مسلمان نہیں ہوتے کہ انہوں نے اِسلام کی حقیقی تعلیمات کو سنا ہی نہیں ہوتا اور جب کبھی ان کو کہیں کچھ سننے کا موقع ملتا ہے تو وہ فوراً اسلام قبول کرلیتے ہیں۔ لہٰذا کتابوں ، کیسٹوں ، سی ڈیز، نیٹ اور میڈیا کے ذریعے اسلامی تعلیمات سیکھنے کے مَواقِع زیادہ سے زیادہ فراہم کرنے چاہئیں۔

كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِۚ-فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ(۷)

ترجمۂ کنزالایمان: مشرکوں کے لئے اللہ اور اس کے رسول کے پاس کوئی عہد کیونکر ہوگا مگر وہ جن سے تمہارا معاہدہ مسجد حرام کے پاس ہوا تو جب تک وہ تمہارے لیے عہد پر قائم رہیں تم ان کے لیے قائم رہو  بیشک پرہیزگار اللہ کو خوش آتے ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اللہ اور اس کے رسول کے پاس مشرکوں کے لئے کوئی عہد کیسے ہوگا؟ سوائے ان لوگوں کے جن سے تم نے مسجد حرام کے نزدیک معاہدہ کیا تو جب تک وہ تمہارے لیے عہد پر قائم رہیں توتم ان کے لیے قائم رہو۔ بیشک اللہ پرہیزگاروں سے محبت فرماتا ہے۔

{كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖ:اللہ اور اس کے رسول کے پاس مشرکوں کے لئے کوئی عہد کیسے ہوگا؟} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مشرکوں کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس کوئی عہد نہیں ہے کیونکہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے ساتھ کفر اور عہد شکنی کیا کرتے ہیں البتہ  بنی کنانہ اور بنی ضمرہ وغیرہ جن لوگوں سے تم نے صلحِ حدیبیہ کے موقع پر مسجد ِحرام کے نزدیک معاہدہ کیا تھا اور ان سے کوئی عہد شکنی ظہور میں نہ آئی تو ان کے معاہدہ کی مدت پوری کرو اور معاہدے کی مدت کے اندر جب تک وہ اپنے عہد پر قائم رہیں ، تم بھی قائم رہو اگر وہ اس دوران میں عہد توڑ دیں تو تم بھی ان سے جنگ کرو۔ (خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۷، ۲ / ۲۱۸، جلالین، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۷، ص۱۵۵-۱۵۶، مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۷، ص۴۲۷، ملتقطاً)

عہد شکنی حرام ہے:

            اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کفار سے کئے ہوئے معاہدے بھی پورے کرنے کا حکم دیا ہے تو اس پر افسوس ہے جو مومن کے ساتھ دھوکہ بازی اوربد عہدی سے باز نہ آئے۔ عہد شکنی حرام ہے چنانچہ حدیث مبارک ہے’’جس شخص میں یہ چار باتیں پائی جائیں وہ خالص منافق ہے (1) جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔(2)جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے۔ (3) جب معاہدہ کرے تو اسے توڑ دے۔ (4)جب جھگڑا کرے تو گالیاں دے۔ اگر کسی کے اندر ان میں سے ایک عادت پائی جائے تو اس میں نفاق کا ایک حصہ موجود ہے یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے۔( بخاری، کتاب الجزیۃ والموادعۃ، باب اثم من عاہد ثمّ غدر، ۲ / ۳۷۰، الحدیث: ۳۱۷۸)

كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةًؕ-یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْۚ-وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَۚ(۸)

ترجمۂ کنزالایمان: بھلا کیونکر ان کا حال تو یہ ہے کہ تم پر قابو پائیں تو نہ قرابت کا لحاظ کریں  نہ عہد کا اپنے منہ سے تمہیں راضی کرتے ہیں اور ان کے دلوں میں انکار ہے اور ان میں اکثر بے حکم ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بھلا کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ اگر وہ تم پر غالب آجائیں تو تمہارے بارے میں نہ کسی رشتے داری کا لحاظ کریں گے اور نہ ہی کسی معاہدے کا۔ وہ تمہیں اپنے منہ سے راضی کرتے ہیں اور ان کے دل انکار کرتے ہیں اور ان میں اکثر نافرمان ہیں۔

{ كَیْفَ:کیسے ہوسکتا ہے۔} یعنی مشرکین کیسے عہد پورا کریں گے اور کیسے قول پر قائم رہیں گے حالانکہ ان کا حال تو یہ ہے کہ  اگر وہ تم پر غالب آجائیں تو تمہارے بارے میں نہ کسی رشتے داری کا لحاظ کریں گے اور نہ ہی کسی معاہدے کا۔ وہ تمہیں ایمان لانے اور وفائے عہد کے وعدے کرکے اپنے منہ سے راضی کردیتے ہیں اور ان کے دل ایمان اور وفائے عہد کا انکار کرتے ہیں اور ان میں اکثر نافرمان یعنی عہد شکن ،کفر میں سرکش، بے مُرَوَّت اور جھوٹ سے نہ شرمانے والے ہیں۔(مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۸، ص۴۲۷)

کفار کا مسلمانوں کے ساتھ عمومی رویہ:

            کفار کا یہ حال عام طور پر رہا ہے کہ وہ مسلمان کے مقابلے میں نہ قرابت داری کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ معاہدے کا بلکہ جب کبھی موقع ملتا ہے تو کوئی بہانہ بنا کر عہد شکنی کردیتے ہیں جیسا کہ آج کے زمانے میں بھی کفار کی حکومتوں کا مسلمانوں کے ساتھ رویہ دیکھا جاسکتا ہے اور ان کا حال تو اپنی جگہ لیکن افسوس تو اس بات کا بھی ہے کہ یہ سب کچھ جاننے، دیکھنے اور سمجھنے کے باوجود مسلمان عبرت

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن