دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

مومنین، کفار اور منافقین کے حالات بیان کئے گئے، دیگر ممالک کے ساتھ ہونے والے معاہدوں اور عہدو پیمان کے احکام بیان کئے گئے البتہ سورۂ اَنفال میں مسلمانوں کو معاہدے پورے کرنے کاحکم دیاگیا تھا اور سورۂ توبہ میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر کفار کی طرف سے عہد شکنی کی ابتداء ہو تو وہ بھی ان کے ساتھ کئے ہوئے معاہدے توڑ دیں۔ نیز دونوں سورتوں میں مشرکین کو مسجدِ حرام سے روکنے کا حکم دیا گیا، راہِ خدا میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی، مشرکین اور اہلِ کتاب سے جہاد کرنے پر تفصیلی کلام کیا گیا اور منافقوں کی خصلتیں بیان کی گئی ہیں۔

بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَؕ(۱)

ترجمۂ کنزالایمان: بیزاری کا حکم سنانا ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکوں کو جن سے تمہارا معاہدہ تھا اور وہ قائم نہ رہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکوں کی طرف اعلانِ براء ت ہے جن سے تمہارا معاہدہ تھا۔

{بَرَآءَةٌ:براء ت کا اعلان ہے۔} مشرکینِ عرب اور مسلمانوں کے درمیان عہد تھا، ان میں سے چند کے سوا سب نےعہد شکنی کی تو ان عہد شکنوں کا عہد ساقط کردیا گیا اور حکم دیا گیا کہ چار مہینے وہ امن کے ساتھ جہاں چاہیں گزاریں ان سے کوئی تَعَرُّض نہ کیا جائے گا، اس عرصہ میں انہیں موقع ہے کہ خوب سوچ سمجھ لیں کہ ان کے لئے کیا بہتر ہے اور اپنی احتیاطیں کرلیں اور جان لیں کہ اس مدت کے بعد اسلام منظور کرنا ہوگا یا قتل۔ یہ سورت   9   ؁ ھ میں فتحِ مکہ سے ایک سال بعد نازل ہوئی، رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس سال حضرت ابوبکر صدیق  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو امیرِ حج مقرر فرمایا تھا اور ان کے بعد حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو حاجیوں کے مجمع میں یہ سورت سنانے کے لئے بھیجا ۔ چنانچہ حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے دس ذی الحجہ کو جَمرہ ٔعَقبہ کے پاس کھڑے ہو کر ندا کی ’’ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ (اے لوگو!)‘‘ میں تمہاری طرف رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا بھیجا ہوا آیا ہوں۔ لوگوں نے کہا : آپ کیا پیام لائے ہیں ؟ تو آپ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے تیس یا چالیس آیتیں اس سورتِ مبارکہ کی تلاوت فرمائیں ،پھر فرمایا :میں چار حکم لایا ہوں :

(1)… اس سال کے بعد کوئی مشرک کعبہ معظمہ کے پاس نہ آئے۔

(2)… کوئی شخص بَرَہنہ ہو کر کعبہ معظمہ کا طواف نہ کرے۔

(3)… جنت میں مؤمن کے سوا کوئی داخل نہ ہوگا۔

(4)… جس کارسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ عہدہے وہ عہد اپنی مدت تک رہے گا اور جس کی مدت مُعَیَّن نہیں ہے اس کی میعاد چار ماہ پر تمام ہوجائے گی۔ مشرکین نے یہ سن کر کہا : اے علی!کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم، اپنے چچا کے فرزند (یعنی سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)  کو خبر دے دیجئے کہ ہم نے عہد پسِ پُشت پھینک دیا ، ہمارے ان کے درمیان نیزہ بازی اور تیغ زنی کے سوا کوئی عہد نہیں ہے۔ (مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۲، ص۴۲۴-۴۲۵،ملتقطاً)

حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خلافت کی طرف اشارہ:

            اس واقعہ میں حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خلافت کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت ابوبکر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو تو امیر حج بنایا اور حضرت علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو ان کے پیچھے سورہ ٔبرا ء ت پڑھنے کے لئے بھیجا تو حضرت ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ امام ہوئے اور حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم مقتدی، اس سے حضرت ابوبکر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی تقدیم حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمپر ثابت ہوئی۔ اور خود حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی امامت و خلافت کے متعلق فرمایا ’’رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو نماز پڑھانے کا حکم دیا اور میں وہاں حاضر تھاغائب نہیں تھا اور نہ ہی مجھے کوئی مرض تھا تو ہم نے انہیں اپنی دنیا کے لئے پسند کر لیا جنہیں حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ہمارے دین(یعنی نماز) کے لئے پسند فرمایا تھا۔ (ابن عساکر، عبد اللہ ویقال عتیق بن عثمان بن قحافۃ۔۔۔ الخ، ۳۰ / ۲۶۵)

فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِۙ-وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِی الْكٰفِرِیْنَ(۲)

ترجمۂ کنزالایمان: تو چا ر مہینے زمین پر چلو پھرو اور جان رکھو کہ تم اللہ کو تھکا نہیں سکتے اور یہ کہ اللہ کافروں کو رسوا کرنے والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو (اے مشرکو!) تم چا ر مہینے تک زمین میں چلو پھرو اور جان لو کہ تم اللہکو تھکا نہیں سکتے اور یہ کہ اللہ کافروں کوذلیل و رسوا کرنے والا ہے۔

{فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ:تو تم چا ر مہینے تک زمین میں چلو پھرو۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے مشرکو! تم چا ر مہینے تک زمین میں امن وامان سے چلو پھرو اس کے بعد تمہارے لئے کوئی امان نہیں اور ساتھ ہی اس حقیقت کو ذہن نشین رکھنا کہ تم اللہ تعالیٰ کو تھکا نہیں سکتے اور اس مہلت کے باوجود اس کی گرفت سے نہیں بچ سکتے اور یہ بھی جان لو کہ اللہ تعالیٰ کافروں کودنیا میں قتل کے ساتھ اور آخرت میں عذاب کے ساتھ  رسوا کرنے والا ہے ۔ (جلالین، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۲، ص۱۵۵، خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۲، ۲ / ۲۱۶، ملتقطاً)

وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ﳔ وَ رَسُوْلُهٗؕ-فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْۚ-وَ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِؕ-وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ(۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور منادی پکار دینا ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے سب لوگوں میں بڑے حج کے دن کہ اللہ بیزار ہے مشرکوں سے اور اس کا رسول تو اگر تم توبہ کرو تو تمہا را بھلا ہے  اور اگر منہ پھیرو تو جان لو کہ تم اللہ کو نہ تھکا سکو گے اور کافروں کو خوشخبری سناؤ دردناک عذاب کی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور (یہ) اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمام لوگوں کی طرف بڑے حج کے دن اعلان ہے کہ اللہ مشرکوں سے بری ہے اور اس کا رسول بھی تو اگر تم توبہ کروتو تمہا رے لئے بہتر ہے اور اگر تم منہ پھیروتو جان لو کہ تم اللہ کو تھکا نہیں سکتے اور کافروں کو دردناک عذاب کی خوشخبری سناؤ ۔

{یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ: بڑے حج کے دن۔} حضرت حسن  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِاس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جس سال حضرت ابو بکر صدیق  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حج کیا تھا تو اس میں مسلمان

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن