30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خوابوں کی تعبیر بتانے کے آداب:
یاد رہے کہ خواب کی تعبیر بیان کرنا نہ ہر شخص کا کا م ہے اور نہ ہی ہر عالم خواب کی تعبیر بیان کر سکتا ہے بلکہ خواب کی تعبیر بتانے والے کے لئے ضروری ہے کہ اسے قرآنِ مجید اور اَحادیثِ مبارکہ میں بیان کی گئی خواب کی تعبیروں پر عبور ہو، الفاظ کے معانی، کنایا ت اور مجازات پر نظر ہو، خواب دیکھنے والے کے اَحوال اور معمولات سے واقفیت ہو اور خواب کی تعبیر بیان کرنے والا متقی و پرہیزگار ہو ۔موضوع کی مناسبت سے یہاں خواب کی تعبیر بیان کرنے کے 5آداب درج ذیل ہیں
(1)…جب تعبیر بیان کرنے والے کے سامنے کوئی اپنا خواب بیان کر نے لگے تو وہ دعائیہ کلمات کے ساتھ اس سے کہے:جو خواب آپ نے دیکھا اس میں بھلائی ہو، آپ اپنا خواب بیان کریں۔
(2)…اچھے طریقے سے خواب سنے اور تعبیر بیان کرنے میں جلد بازی سے کام نہ لے۔
(3)…خواب سن کر ا س میں غور کرے ،اگر خواب اچھا ہو تو خواب بیان کرنے والے کو خوشخبری دے کر اس کی تعبیر بیان کرے اور اگر برا ہو تو اس کے مختلف اِحتمالات میں جو سب سے اچھا احتمال ہو وہ بیان کرے اور اگر خواب کا اچھا یا برا ہونا دونوں برابر ہوں تو اصول کی روشنی میں جسے ترجیح ہو وہ بیان کرے اور اگر ترجیح دینا ممکن نہ ہو تو خواب بیان کرنے والے کا نام پوچھ کر ا س کے مطابق تعبیر بیان کر دے اور خواب بیان کرنے والے کو تعبیر سمجھا دے۔
(4)…سورج طلوع ہوتے وقت، زوال کے وقت اور غروب آفتاب کے وقت تعبیر بیان نہ کرے ۔
(5)…تعبیر بیان کرنے والے کو بتائے گئے خواب اس کے پاس امانت ہیں اس لئے وہ ان خوابوں کو کسی اور پر بلا ضرورت ظاہر نہ کرے۔
خواب کی تعبیر بیان کرنے والے مشہور علما اورتعبیر پر مشتمل کتابیں :
خوابوں کی تعبیر بیان کرنے میں مہارت رکھنے والے علما نے اس موضوع پر کئی کتابیں تصنیف کی ہیں ،ان میں سے ایک امام المعبرین حضرت امام محمد بن سیرین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی کتاب’’ تَفْسِیْرُ الْاَحْلَامِ الْکَبِیرْ‘‘ہے جو کہ’’ تعبیرُ الرُّؤیا‘‘ کے نام سے مشہور ہے اور ایک کتاب علامہ عبد الغنی نابُلسیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی ہے جو کہ ’’تَعْبِیْرُ الْمَنَامْ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔
خواب کی تعبیر سے متعلق نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا معمول اور دو خوابوں کی تعبیریں :
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں احادیثِ صحیحہ سے ثابت کہ حضورِ اقدس، سید عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہ وَسَلَّمَ اسے (یعنی خواب کو) امرِ عظیم جانتے اور اس کے سننے، پوچھنے، بتانے، بیان فرمانے میں نہایت درجے کا اہتمام فرماتے ۔ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت سمرہ بن جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ہے، حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نمازِ صبح پڑھ کر حاضرین سے دریافت فرماتے: آج کی شب کسی نے کوئی خواب دیکھا؟ جس نے دیکھا ہوتا (وہ ) عرض کرتا (اور) حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،اس خواب کی ) تعبیر فرماتے ۔ (بخاری، کتاب الجنائز، ۹۳-باب، ۱ / ۴۶۷، الحدیث: ۱۳۸۶)۔(فتاوی رضویہ، ۲۲ / ۲۷۰-۲۷۱)
اسی سلسلے میں دو اَحادیث ملاحظہ ہوں ،چنانچہ
حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دودھ کا پیالہ لایا گیا، میں نے اس میں سے پیا یہاں تک کہ ا س کی سیرابی میرے ناخنوں سے بھی نکلنے لگی، پھر میں نے اپنا بچا ہوا حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو دے دیا۔ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے عرض کی : یا رسولَ اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اس سے کیا مراد لیتے ہیں ؟ ارشاد فرمایا (اس سے مراد) علم (ہے)۔(بخاری، کتاب التعبیر، باب اللبن، ۴ / ۴۱۱، الحدیث: ۷۰۰۶)
حضرت عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : میں نے دیکھا کہ گویا میں ایک باغ میں ہوں اور باغ کے درمیان میں ایک ستون ہے جس کی چوٹی پر ایک حلقہ ہے، مجھ سے کہا گیا کہ اس پر چڑھو، میں نے کہا: مجھ میں اتنی طاقت نہیں ، پھر میرے پاس ایک ملازم آیا اور اس نے میرے کپڑے سنبھالے تو میں چڑھ گیا اور میں نے اُس حلقے کو پکڑ لیا، جب میں بیدار ہوا تو میں نے حلقہ پکڑ اہوا تھا، پھر میں نے رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے یہ خواب بیان کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’وہ باغ تواسلام کا باغ ہے اور وہ ستون بھی اسلام کا ستون ہے اور وہ حلقہ مضبوط حلقہ ہے یعنی آخری وقت تک تم اسلام کو ہمیشہ پکڑے رہو گے۔ (بخاری، کتاب التعبیر، باب التعلیق بالعروۃ والحلقۃ، ۴ / ۴۱۳، الحدیث: ۷۰۱۴)
وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَؕ-مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍؕ-ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ(۳۸)
ترجمۂ کنزالایمان: اور میں نے اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحق اور یعقوب کا دین اختیار کیا ہمیں نہیں پہنچتا کہ کسی چیز کو اللہ کا شریک ٹھہرائیں یہ اللہ کا ایک فضل ہے ہم پر اور لوگوں پر مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور میں نے اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے دین ہی کی پیروی کی۔ہمارے لئے ہرگز جائز نہیں کہ ہم کسی چیز کو اللہ کا شریک ٹھہرائیں ، یہ ہم پر اور لوگوں پر اللہ کا ایک فضل ہے مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔
{وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْ:اور میں نے اپنے باپ دادا کا دین اختیار کیا۔} حضرت یوسفعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے معجزے کا اظہار فرمانے کے بعدیہ بھی ظاہر فرما دیا کہ آپ خاندانِ نبوت سے ہیں اور آپ کے آباء و اَجداد انبیاءعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں ، جن کا بلندمرتبہ دنیا میں مشہور ہے۔ اس سے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا مقصد یہ تھا کہ سننے والے آپ کی دعوت قبول کریں اور آپ کی ہدایت مانیں اور فرمایا کہ ہمارے لئے ہرگز جائز نہیں کہ ہم کسی چیز کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرائیں۔ نیز توحید اختیار کرنا اور شرک سے بچنا ہم پر اور لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا ایک فضل ہے مگر اکثر لوگ اُن نعمتوں پر شکر نہیں کرتے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کی ہیں اور ان کی ناشکری یہ ہے کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّکی عبادت بجانہیں لاتے اور مخلوق پَرستی کرتے ہیں۔( تفسیرکبیر، یوسف، تحت الآیۃ: ۳۸، ۶ / ۴۵۶، خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۳۸، ۳ / ۲۰-۲۱، ملتقطاً)
یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ(۳۹)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع