دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِماکے نام ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں ’’فرزندانِ گرامی! مصیبت کا وقت اگرچہ تلخ و بے مزہ ہے لیکن اس میں فرصت میسر آ جائے تو غنیمت ہے، اس وقت تمہیں چونکہ فرصت میسر ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنے کام میں مشغول ہو جاؤ اور ایک لمحہ بھی فارغ نہ بیٹھو، تین باتوں میں سے ہر ایک کی پابندی ضرور ہونی چاہئے (1) قرآنِ پاک کی تلاوت۔ (2) لمبی قراء ت کے ساتھ نماز۔ (3) کلمہ ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہْ‘‘ کی تکرار۔ کلمہ لَا کے ساتھ نفس کے خود ساختہ خداؤں کی نفی کریں ، اپنی مرادوں اور مقصدوں کی بھی نفی کریں ، اپنی مرادیں چاہنا (یعنی جو ہم چاہیں وہی ہوجائے گویا) خدائی کا دعویٰ کرنا ہے ا س لئے چاہئے کہ سینے میں کسی مراد کی کوئی گنجائش نہ رہے اور ہوس کا خیال تک نہ آنے پائے تاکہ حیات کی حقیقت متحقق ہو۔ نفسانی خواہشات جو کہ جھوٹے خدا ہیں کو کلمہ’’ لَا‘‘ کے تحت لائیں تاکہ ان سب کی نفی ہو جائے اور تمہارے سینے میں کوئی مقصد و مراد باقی نہ رہے حتّٰی کہ میری رہائی کی آرزوبھی جو اس وقت تمہاری سب سے اہم آرزوؤں میں ہے، نہ ہونی چاہئے، تقدیر اور اللہ تعالیٰ کے فعل و مشیت پر راضی رہیں ، جہاں بیٹھے ہوئے ہیں اسے اپنا وطن سمجھیں۔ یہ چند روزہ زندگی جہاں بھی گزرے اللہ تعالیٰ کی یاد میں گزرنی چاہئے۔ (مکتوبات امام ربانی، دفتر سوم، حصہ ہشتم، مکتوب دوم، ۲ / ۷-۸)

            جیل میں تبلیغ کے حوالے سے ایک دوسرا واقعہ مُلا حظہ فرمائیں ،چنانچہ امامِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ پر نگہبانوں میں سے ایک شخص حسن بن قحطبہ نے امام اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے عرض کی: میرا کام آپ سے مخفی نہیں ہے ، کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے ؟آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا ’’اگر تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے کئے پر نادم ہو، اور جب تجھے کسی مسلمان کو قتل کرنے اور خود قتل ہونے میں اختیار دیا جائے تو تم اسے قتل کرنے پر اپنے قتل ہونے کو ترجیح دو اور اللہ تعالیٰ سے پختہ ارادہ کرو کہ آئندہ تم کسی مسلمان کو قتل نہیں کرو گے اور تم نے اس عہد کو پورا کر لیا تو سمجھ لینا کہ تیری توبہ قبول ہو گئی ہے۔(مناقب الامام الاعظم للکردری، الفصل السادس فی وفاۃ الامام رضی اللہ عنہ، ص۲۲، الجزء الثانی)

قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَاؕ-ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْؕ-اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ(۳۷)

ترجمۂ کنزالایمان: یوسف نے کہا جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے وہ تمہارے پاس نہ آنے پائے گا کہ میں اس کی تعبیر اس کے آنے سے پہلے تمہیں بتادوں گا یہ ان علموں میں سے ہے جو مجھے میرے رب نے سکھایا ہے بیشک میں نے ان لوگوں کا دین نہ مانا جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ آخرت سے منکر ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: فرمایا: تمہیں جو کھانا دیا جاتا ہے وہ تمہارے پاس نہیں آئے گا مگر یہ کہ اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں اس خواب کی تعبیر بتادوں گا۔ یہ ان علموں میں سے ہے جو مجھے میرے رب نے سکھایا ہے۔ بیشک میں نے ان لوگوں کے دین کونہ مانا جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ آخرت کا انکار کرنے والے ہیں۔

{قَالَ:فرمایا۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالَّلَامنے ان دونوں سے فرمایا: تمہیں جو کھانا دیا جاتا ہے اس کے تمہارے پاس آنے سے پہلے ہی میں تمہیں اس خواب کی تعبیر بتا دوں گا جو تم نے میرے سامنے بیان کیا ہے۔ (بیضاوی، یوسف، تحت الآیۃ: ۳۷، ۳ / ۲۸۷-۲۸۸) دوسری تفسیر یہ ہے کہ تم نے خواب میں جو کھانا دیکھا اور اس کے بارے میں مجھے خبر دی ہے، میں حقیقت میں اس طرح ہونے سے پہلے ہی تمہیں اس کی تعبیر بتا دوں گا۔ تیسری تفسیر یہ ہے کہ تمہارے گھروں سے جو کھانا تمہارے لئے آتا ہے اس کے آنے سے پہلے ہی میں تمہیں اس کی مقدار ، اس کا رنگ ، تمہارے پاس آنے سے پہلے اس کے آنے کا وقت اور یہ کہ تم نے کیا کھایا ،کتنا کھایا اور کب کھایا بتا دوں گا۔ (صاوی، یوسف، تحت الآیۃ: ۳۷، ۳ / ۹۵۶، خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۳۷، ۳ / ۲۰، ملتقطاً)

{ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ:یہ ان علموں میں سے ہے جو مجھے میرے رب نے سکھایا ہے۔}حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بات سن کر ان دونوں قیدیوں نے کہا ’’یہ علم تو کاہنوں اور نجومیوں کے پاس ہوتا ہے ،آپ کے پاس یہ علم کہاں سے آیا۔ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا ’’ میں کاہن یا نجومی نہیں ہوں ، جس کے بارے میں ، میں تمہیں خبر دوں گا وہ اللہ تعالیٰ کی وحی ہے جو اس نے میری طرف فرمائی اور یہ وہ علم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے سکھایا ہے۔ بیشک میں نے ان لوگوں کے دین کونہ مانا جو اللہ عَزَّوَجَلَّ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ آخرت کا انکار کرنے والے ہیں۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۳۷، ۳ / ۲۰)

            یہاں خواب کی تعبیر سے متعلق ذکر ہوا،اس مناسبت سے ہم یہاں خواب بتانے کے آداب،خواب کی تعبیر بیان کرنے کے آداب،خواب کی تعبیر بیان کرنے والے مشہور علما اور اس موضوع پر مشتمل کتابوں کا ذکر کرتے ہیں اور خوابوں کی تعبیر سے متعلق حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا مبارک معمول بھی بیان کرتے ہیں

خواب کے بارے میں تین اَحادیث :

(1)… صرف اس کے سامنے خواب بیان کیا جائے جو اس کی صحیح تعبیر بتا سکتا ہو یا وہ اس سے محبت رکھتا ہو یا وہ قریبی دوست ہو، حاسدوں اور جاہلوں کے سامنے خواب بیان کرنے سے بچنا چاہئے۔ صحیح بخاری میں ہے، نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتاہے جب تم میں سے کوئی پسندیدہ خواب دیکھے تو اس کا ذکر صرف اسی سے کرے جو اس سے محبت رکھتا ہو اور اگر ایسا خواب دیکھے کہ جو اسے پسندنہ ہو تو اس کے شر سے اور شیطان کے شر سے اسے پناہ مانگنی چاہئے اور (اپنی بائیں طرف )تین مرتبہ تھتکاردے اور اس خواب کو کسی سے بیان نہ کرے تو وہ کوئی نقصان نہ دے گا ۔ (بخاری، کتاب التعبیر، باب اذا رأی ما یکرہ فلا یخبر بہا ولا یذکرہا، ۴ / ۴۲۳، الحدیث: ۷۰۴۴)

(2)…اپنی طرف سے خواب بنا کر بیان نہ کیا جائے کہ اس پر حدیث پاک میں سخت وعید بیان کی گئی ہے، چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ جو شخص ایسی خواب گھڑے جو اس نے دیکھی نہ ہو تو اسے اس چیز کا پابند کیا جائے گا کہ وہ جَوکے دو دانوں میں گرہ لگائے اوروہ ہر گزایسا نہ کرسکے گا۔ (بخاری، کتاب التعبیر، باب من کذب فی حلمہ، ۴ / ۴۲۲، الحدیث: ۷۰۴۲)

(3)…ڈراؤنے خواب دیکھنے سے متعلق حدیثِ پاک میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنی خواب سے گھبرا جائے تو کہہ لے ’’اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللہِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِہٖ وَعِقَابِہٖ وَشَرِّ عِبَادِہٖ وَمِنْ ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِیْنِ وَاَنْ یَحْضُرُونِ‘‘ میں اللہ کے پورے کلمات کی پناہ لیتا ہوں اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے اور اس کے بندوں کے شر اور شیطانوں کے وسوسوں اور ان کی حاضری سے۔‘‘ تو تمہیں کچھ نقصان نہ پہنچے گا۔ (ترمذی، کتاب الدعوات، ۹۳-باب، ۵ / ۳۱۲، الحدیث: ۳۵۳۹)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن