30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنزالایمان: تو جب زلیخا نے ان کا چکروا سنا تو ان عورتوں کو بلا بھیجا اور ان کے لیے مسندیں تیار کیں اور ان میں ہر ایک کو ایک چھری دیدی اور یوسف سے کہا ان پر نکل آؤ جب عورتوں نے یوسف کو دیکھا اس کی بڑائی بولنے لگیں اور اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور بولیں اللہ کو پاکی ہے یہ تو جنسِ بشر سے نہیں یہ تو نہیں مگر کوئی معزز فرشتہ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو جب اس عورت نے ان کی بات سنی تو ان عورتوں کی طرف پیغام بھیجااور ان کے لیے تکیہ لگا کر بیٹھنے کی نشستیں تیار کردیں اور ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک چھری دیدی اور یوسف سے کہا: ان کے سامنے نکل آئیے توجب عورتوں نے یوسف کو دیکھا تواس کی بڑائی پکار اُٹھیں اور اپنے ہاتھ کاٹ لئے اورپکار اٹھیں سُبْحَانَ اللہ ،یہ کوئی انسان نہیں ہے یہ تو کوئی بڑی عزت والا فرشتہ ہے۔
{فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ:تو جب اس عورت نے ان کی بات سنی۔} یعنی جب زلیخانے سنا کہ اَشرافِ مصر کی عورتیں اسے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی محبت پر ملامت کرتی ہیں تو اس نے چاہا کہ وہ اپنا عذر ان کے سامنے ظاہر کردے، چنانچہ اس کے لئے اس نے ایک دعوت کا اہتمام کیا اور اس دعوت میں اشراف ِمصر کی چالیس عورتوں کو مدعو کرلیا، ان میں وہ سب عورتیں بھی تھیں جنہوں نے اس پر ملامت کی تھی، زلیخا نے ان عورتوں کو بہت عزت و احترام کے ساتھ مہمان بنایا اور ان کیلئے نہایت پرتکلف نشستیں تیار کردیں جن پر وہ بہت عزت و آرام سے تکیے لگا کر بیٹھیں ، دستر خوان بچھائے گئے اور طرح طرح کے کھانے اور میوے اس پرچنے گئے۔ پھر زلیخا نے ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک چھری دیدی تاکہ وہ اس سے کھانے کے لئے گوشت کاٹیں اور میوے تراش لیں ، اس کے بعد زلیخا نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو عمدہ لباس پہننے کیلئے دیا اور کہا ’’ان عورتوں کے سامنے نکل آئیے۔ پہلے تو آپ نے اس سے انکار کیا لیکن جب اِصرار و تاکید زیادہ ہوئی توزلیخا کی مخالفت کے اندیشے سے آپ کو آنا ہی پڑا۔ جب عورتوں نے حضرت یوسفعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیکھا توان کی بڑائی پکار اُٹھیں کیونکہ انہوں نے اس عالَم افروز جمال کے ساتھ نبوت و رسالت کے اَنوار، عاجزی و اِنکساری کے آثار ،شاہانہ ہَیبت واِقتدار اور کھانے پینے کی لذیذ چیزوں اور حسین و جمیل صورتوں کی طرف سے بے نیازی کی شان دیکھی تو تعجب میں آگئیں اور آپ کی عظمت وہیبت دلوں میں بھر گئی اور حسن و جمال نے ایسا وارفتہ کیا کہ ان عورتوں کو خود فراموشی ہو گئی اور ان کے حسن و جمال میں گم ہوکر پھل کاٹتے ہوئے اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور ہاتھ کٹنے کی تکلیف کا اصلاً احساس نہ ہوا۔ وہ پکار اٹھیں کہ سُبْحَانَ اللہ، یہ کوئی انسان نہیں ہے کہ ایسا حسن و جمال انسانوں میں دیکھا ہی نہیں گیا اور اس کے ساتھ نفس کی یہ طہارت کہ مصر کے اعلیٰ خاندانوں کی حسین و جمیل عورتیں ، طرح طرح کے نفیس لباسوں اور زیوروں سے آراستہ وپیراستہ سامنے موجود ہیں اور آپ کی شانِ بے نیازی ایسی کہ کسی کی طرف نظر نہیں فرماتے اور قطعاً اِلتفات نہیں کرتے۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۳۱، ۳ / ۱۷-۱۸، تفسیر کبیر، یوسف، تحت الآیۃ: ۳۱، ۶ / ۴۴۸، ملتقطاً)اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس واقعے کی طرف اشارہ کر کے بڑے حسین انداز میں شانِ مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
حسنِ یوسف پہ کٹیں مصر میں انگشتِ زَناں سر کٹاتے ہیں ترے نام پر مردانِ عرب
سیّد المرسَلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حسن میں فرق:
علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو حسن کا ایک حصہ عطا کیا گیا تھا اور ان کا حسن ظاہر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے حسن کو اپنے جلال کے پردوں میں نہیں چھپایا ،اسی لئے آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حسن کا نظارہ کر کے عورتیں فتنے میں مبتلا ہو گئیں جبکہ حبیبِ پروردگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کامل حسن عطا کیا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے جمال کو اپنے جلال کے پردوں میں چھپا دیا تھا جس کی وجہ سے آپ کا حسنِ کامل دیکھ کر بھی کوئی عورت فتنے میں مبتلا نہ ہوئی یہی وجہ ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سراپا اَقدس کی تفصیلات بڑے صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے مروی نہیں بلکہ چھوٹے صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے منقول ہیں کیونکہ بڑے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے دلوں میں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ہبیت و جلال اس قدر تھی کہ وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف نظر نہ اٹھا سکتے تھے۔(صاوی، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۹، ۳ / ۹۴۸، ملخصاً)
قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِؕ-وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَؕ-وَ لَىٕنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَنَّ وَ لَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ(۳۲)
ترجمۂ کنزالایمان: زلیخا نے کہا تو یہ ہیں وہ جن پر تم مجھے طعنہ دیتی تھیں اور بیشک میں نے ان کا جی لبھانا چاہا تو انہوں نے اپنے آپ کو بچا یا اور بیشک اگر وہ یہ کام نہ کریں گے جو میں ان سے کہتی ہوں تو ضرور قید میں پڑیں گے اور وہ ضرور ذلت اٹھائیں گے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان:زلیخا نے کہا: تو یہ ہیں وہ جن کے بارے میں تم مجھے طعنہ دیتی تھیں اور بیشک میں نے ان کا دل لبھانا چاہا تو اِنہوں نے اپنے آپ کو بچالیا اور بیشک اگر یہ وہ کام نہ کریں گے جو میں ان سے کہتی ہوں تو ضرور قید میں ڈالے جائیں گے اور ضرور ذلت اٹھانے والوں میں سے ہوں گے ۔
{قَالَتْ:زلیخا نے کہا۔} عورتوں نے جب حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیکھا تو وہ ان کے حسن و جمال میں گم ہو گئیں ، یہ دیکھ کر زلیخا نے ان سے کہا ’’یہ ہیں وہ جن کے بارے میں تم مجھے طعنہ دیتی تھیں ،اب تم نے دیکھ لیا اور تمہیں معلوم ہوگیا کہ میرا دیوانہ پن کچھ قابلِ تعجب اور ملامت نہیں اور بیشک میں نے ان کا دل لبھانا چاہا تو اِنہوں نے اپنے آپ کو بچالیا اور کسی طرح میری طرف مائل نہ ہوئے۔ اس پر مصری عورتوں نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہا کہ آپ زلیخا کا کہنا مان لیجئے ۔ ان کی بات سن کرزلیخا بولی ’’ بیشک اگر یہ وہ کام نہ کریں گے جو میں ان سے کہتی ہوں تو ضرور قید میں ڈالے جائیں گے اور ضرور ذلت اٹھانے والوں میں سے ہوں گے اور چوروں ، قاتلوں اور نافرمانوں کے ساتھ جیل میں رہیں گے، کیونکہ انہوں نے میرا دل مجھ سے چھین لیا اور میری نافرمانی کی اور فراق کی تلوار سے میرا خون بہایا تو اب انہیں بھی خوشگوار کھانا پینا اور آرام کی نیند سونا میسر نہ ہوگا، جیسا میں جدائی کی تکلیفوں میں مصیبتیں جھیلتی اور صدموں میں پریشانی کے ساتھ وقت کاٹتی ہوں یہ بھی تو کچھ تکلیف اٹھائیں ،میرے ساتھ ریشم میں شاہانہ چارپائی پر عیش گوارا نہیں ہے تو قید خانے کے چبھنے والے بوریئے پر ننگے جسم کو دُکھانا گوارا کریں ، حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام یہ سن کر مجلس سے اٹھ گئے اور مصری عورتیں ملامت کرنے کے بہانے سے باہر آئیں اور ایک ایک نے آپ سے اپنی تمنّاؤں اور مرادوں کا اظہار کیا ۔ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کی گفتگو بہت ناگوار ہوئی تو بارگاہِ الہٰی میں عرض کی۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۳۲، ۳ / ۱۸، مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۳۲، ص۵۲۸-۵۲۹، ملتقطاً)
قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِۚ-وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ كَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ(۳۳)فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَیْدَهُنَّؕ-اِنَّهٗ هُوَ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع