30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قدرت سے وہ بچہ بولنے لگا اور اس نے کہا: اگر اِن کا کرتا آگے سے پھٹا ہوا ہو پھر تو عورت سچی ہے اور یہ سچے نہیں اور اگر ان کا کرتا پیچھے سے چاک ہوا ہے تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچے ہیں۔ یعنی اگر حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آگے بڑھے اور زلیخا نے ان کو ہٹایا تو کرتا آگے سے پھٹا ہوا ہو گا اور اگر حضرت یوسفعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماس سے بھاگ رہے تھے اور زلیخا پیچھے سے پکڑ رہی تھی تو کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا ہو گا۔( خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۲۶-۲۷، ۳ / ۱۵-۱۶، مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۲۶-۲۷، ص۵۲۶-۵۲۷، ملتقطاً)
تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان:
اس واقعے سے سرکار ِدوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان بھی معلوم ہوئی کہ جب حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر تہمت لگی تو ان کی پاکیزگی کی گواہی بچے سے دلوائی گئی اگرچہ یہ بھی عظیم چیز ہے لیکن جب سیّدالمرسَلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا پر تہمت لگی تو چونکہ وہ معاملہ سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عزت کا بھی تھا اس لئے حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھاکی عِفت و عِصمت اور پاکیزگی کی گواہی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے خود دی۔
دودھ پینے کی عمر میں کلام کرنے والے بچے:
مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : خیال رہے کہ چند شیر خوار بچوں نے کلام کیا ہے۔ (1) حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ گواہ ۔ (2) ہمارے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے پیدا ہوتے ہی حمدِ الہٰی کی۔ (3) حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام۔(4)حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنھا۔(5) حضرت یحییٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام۔ (6) حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ۔ (7) اس عورت کا بچہ جس پر زنا کی تہمت لگائی گئی تھی اور وہ بے گناہ تھی۔ (8) خندق والی مصیبت زَدہ عورت کا بچہ یعنی اَصحابِ اُخدود۔ (9) حضرت آسیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاکی کنگھی کرنے والی کا بچہ ۔ (10) مبارک یمامہ ، جس نے پیدا ہوتے ہی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حکم سے گواہی دی۔(11)جریج راہب کی گواہی دینے والا بچہ۔
{فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ:پھر جب عزیز نے اس کا کر تاپیچھے سے پھٹا ہوا دیکھا۔} یعنی جب عزیز نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا دیکھا اور جان لیا کہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سچے ہیں اور زلیخا جھوٹی ہے تو زلیخا سے کہا ’’تمہاری یہ بات کہ اس شخص کی کیا سزا ہے جو تمہاری گھر والی کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے ؟ یہ صرف تم عورتوں کا مکر ہے ، بیشک تمہارا مکر بہت بڑا ہے جس کی وجہ سے تم مردوں پر غالب آ جاتی ہو۔ (مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۲۸، ص۵۲۷)
یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَاٚ-وَ اسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ ۚۖ-اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِـٕیْنَ۠(۲۹)
ترجمۂ کنزالایمان: اے یوسف تم اس کا خیال نہ کرو اور اے عورت تو اپنے گناہ کی معافی مانگ بیشک تو خطاواروں میں ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے یوسف! تم اس بات سے درگزر کرو اور اے عورت! تو اپنے گناہ کی معافی مانگ ۔بیشک تو ہی خطاکاروں میں سے ہے۔
{یُوْسُفُ: اے یوسف!} جب عزیز ِمصر کے سامنے زلیخا کی خیانت اور حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی براء ت ثابت ہو گئی تو عزیز نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف متوجہ ہو کر اس طرح معذرت کی ’’اے یوسف! تم اس بات سے درگزر کرو اور اس پر مغموم نہ ہو بے شک تم پاک ہو ۔ اس کلام سے یہ بھی مطلب تھا کہ اس کا کسی سے ذکر نہ کرو تاکہ چرچا نہ ہو اور شُہرہ عام نہ ہوجائے۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۲۹، ۳ / ۱۶)
حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی برأت کی مزید علامتیں :
اس آیت کے علاوہ بھی حضرت یوسفعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی برأت کی بہت سی علامتیں موجود تھیں ایک تو یہ کہ کوئی شریف طبیعت انسان اپنے مُحسن کے ساتھ اس طرح کی خیانت روا نہیں رکھتا اور حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اچھے اَخلاق کی بلندیوں پر فائز ہوتے ہوئے کس طرح ایسا کرسکتے تھے۔ دوسری یہ کہ دیکھنے والوں نے آپ کو بھاگتے آتے دیکھا اور طالب کی یہ شان نہیں ہوتی بلکہ وہ درپے ہوتا ہے، آگے نہیں بھاگتا ۔بھاگتا وہی ہے جو کسی بات پر مجبور کیا جائے اور وہ اسے گوارا نہ کرے۔ تیسری یہ کہ عورت نے انتہا درجہ کا سنگار کیا تھا اور وہ غیر معمولی زیب و زینت کی حالت میں تھی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رغبت و اہتمام محض اس کی طرف سے تھا ۔ چوتھی یہ کہ حضرت یوسفعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا تقویٰ و طہارت جو ایک دراز مدت تک دیکھا جاچکا تھا اس سے آپ کی طرف ایسے برے فعل کی نسبت کسی طرح قابلِ اعتبار نہیں ہوسکتی تھی ۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲۹، ۳ / ۱۶)
{وَ اسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ :اور اے عورت! تو اپنے گناہ کی معافی مانگ ۔} یعنی عزیز مصر زلیخا کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا ’’ اے عورت! تو اللہ تعالیٰ سے اپنے اس گناہ کی معافی مانگ جو تو نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر تہمت لگائی حالانکہ وہ اس سے بری ہیں۔ اپنے شوہر کے ساتھ خیانت کا ارادہ کرنے کی وجہ سے بیشک تو ہی خطاکاروں میں سے ہے۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲۹، ۳ / ۱۶)
وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖۚ-قَدْ شَغَفَهَا حُبًّاؕ-اِنَّا لَنَرٰىهَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(۳۰)
ترجمۂ کنزالایمان: اور شہر میں کچھ عورتیں بولیں کہ عزیز کی بی بی اپنے نوجوان کا دل لبھاتی ہے بیشک ان کی محبت اس کے دل میں پَیر گئی ہے ہم تو اسے صر یح خود رفتہ پاتے ہیں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور شہر میں کچھ عورتوں نے کہا: عزیز کی بیوی اپنے نوجوان کا دل لبھانے کی کوشش کرتی ہے، بیشک ان کی محبت اس کے دل میں سماگئی ہے، ہم تو اس عورت کو کھلی محبت میں گم دیکھ رہے ہیں۔
{وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ:اور شہر میں کچھ عورتوں نے کہا۔} عزیز ِمصر نے اگرچہ اس قصہ کو بہت دبایا لیکن یہ خبر چھپ نہ سکی اور اس کا چرچا اورشہرہ ہو ہی گیا۔ شہر میں شُرفاء ِمصر کی عورتیں زلیخا اور حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں باتیں کرتے ہوئے کہنے لگیں کہ عزیز کی بیوی زلیخا اپنے نوجوان کا دل لبھانے کی کوشش کرتی ہے، بیشک ان کی محبت اس کے دل میں سماگئی ہے، ہم تو اس عورت کو کھلی محبت میں گم دیکھ رہے ہیں کہ اس دیوانے پن میں اس کو اپنے ننگ و ناموس اور پردے و عفت کا لحاظ بھی نہ رہا۔(خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۳۰، ۳ / ۱۶-۱۷، ملخصاً)
فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْهِنَّ وَ اَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّ اٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّیْنًا وَّ قَالَتِ اخْرُ جْ عَلَیْهِنَّۚ-فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًاؕ-اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِیْمٌ(۳۱)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع