30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عورت ا س کے پاس گئی اور کہا: اے نوجوان!اندر آ جاؤ، ہم تم سے خریداری کریں گے ۔نوجوان (محل میں ) داخل ہو ا تو عورت نے اس کے پیچھے دروازہ بند کر دیا ،پھر ا س سے کہا: داخل ہو جاؤ۔ وہ داخل ہوا تو اس نے پیچھے سے دوسرا دروازہ بند کر دیا، پھر وہ عورت نوجوان کو شہزادی کے سامنے لے گئی جس نے اپنے چہرے سے نقاب اٹھایا ہوا تھا اور اس کا سینہ بھی عُریاں تھا۔ (جب نوجوان نے شہزادی کو اس حالت میں دیکھا) تواس نے شہزادی سے کہا: اللہ تعالیٰ تجھے معاف فرمائے، تم (اپنا چہرہ اور سینہ) چھپا لو۔ شہزادی نے کہا: ہم نے تمہیں نصیحت کرنے کے لئے نہیں بلایا بلکہ محض اس مقصد کے لئے بلایا ہے( کہ ہم تجھ سے اپنی شہوت کی تسکین کرنا چاہتے ہیں۔) نوجوان نے اس سے کہا : تو (اس معاملے میں ) اللہ تعالیٰ سے ڈر۔ شہزادی نے کہا: میری مراد پوری کرنے میں اگر تو نے میری بات نہ مانی تو میں بادشاہ کو بتا دوں گی کہ تم میرے پاس صرف میرے نفس پر غالب آنے کے لئے آئے ہو۔ نوجوان نے پھر انکار کیا اور اسے نصیحت کی ، جب ا س نے (نصیحت ماننے سے) انکار کر دیا تو نوجوان نے کہا : میرے لئے وضو کا انتظام کر دو۔ شہزادی نے کہا : کیا تو مجھے دھوکہ دینا چاہتا ہے؟ اے خادمہ: اس کے لئے محل کی چھت پر وضو کا برتن رکھ دو تا کہ یہ فرار نہ ہوسکے ۔ محل کی چھت زمین سے تقریباً 40 گز اونچی تھی، جب وہ نوجوان چھت پر پہنچ گیا تو اس نے (دعا مانگتے ہوئے ) عرض کی:اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ، مجھے تیری نافرمانی کی طرف بلایا جا رہا ہے اور میں اپنے نفس سے صبر کرنے کو اختیار کر رہا ہوں ، (مجھے یہ منظور ہے کہ) اپنے آپ کو اس محل سے نیچے گرا دو ں اور گناہ نہ کروں ،پھر اس نے بِسْمِ اللہ پڑھی اور خود کو محل کی چھت سے نیچے گرا دیا ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجا جس نے اسے بازؤں سے پکڑا اور پاؤں کے بل زمین پر کھڑا کر دیا، جب وہ نوجوان زمین پر اتر آیاتو عرض کی : اے اللہ !عَزَّوَجَلَّ، اگر توچاہے تومجھے ایسا رزق دے سکتا ہے جو مجھے یہ ٹوکریاں بیچنے سے بے نیاز کر دے۔ (جب اس نے یہ دعا کی) تو اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف ایک بوری بھیجی جو سونے سے بھری ہوئی تھی۔ اس نے بوری سے سونا بھرنا شرو ع کردیا یہا ں تک کہ اس نے اپنا کپڑا بھر لیا۔ پھر اس نے عرض کی: ’’ اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ،اگر یہ اسی رزق کا حصہ ہے جو تو نے مجھے دنیا میں دینا تھا تو مجھے اس میں برکت عطا فرما او راگر یہ میرے اس اجر و ثواب میں سے کچھ کم کر دے گا جو تیرے پاس آخرت میں ہے تو مجھے اس سونے کی حاجت نہیں۔ (جب اس نوجوان نے یہ کہا) تو اسے ایک آواز سنائی دی : جو سونا ہم نے تجھے عطا کیا ، یہ اس اجر کا پچیسواں حصہ ہے جو تجھے خود کو اس محل سے گرانے پر صبر کرنے سے ملا ہے۔ اس نوجوان نے کہا: ’’ اے میرے پروردگار! عَزَّوَجَلَّ، مجھے ایسے مال کی حاجت نہیں جو میرے اس ثواب میں کمی کا باعث بنے جو آخرت میں تیرے پاس ہے ۔ (جب نوجوان نے یہ بات کہی) تو وہ سونا اٹھا لیا گیا۔(عیون الحکایات، الحکایۃ الخامسۃ والعشرون بعد المائۃ، ص۱۴۲-۱۴۳)
وَ اسْتَبَقَا الْبَابَ وَ قَدَّتْ قَمِیْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِؕ-قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْٓءًا اِلَّاۤ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۲۵)
ترجمۂ کنزالایمان: اور دونوں دروازے کی طرف دوڑے اور عورت نے اس کا کرتا پیچھے سے چیر لیا اور دونوں کو عورت کا میاں دروازے کے پاس ملا بولی کیا سزا ہے اس کی جس نے تیری گھر والی سے بدی چاہی مگر یہ کہ قید کیا جائے یا دکھ کی مار۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ دونوں دروازے کی طرف دوڑے اور عورت نے ان کی قمیص کو پیچھے سے پھاڑ دیا اور دونوں نے دروازے کے پاس عورت کے شوہر کو پایا تو عورت کہنے لگی۔ اس شخص کی کیا سزا ہے جو تمہاری گھر والی کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے ؟ یہی کہ اسے قید کردیا جائے یا دردناک سزا (دی جائے)۔
{وَ اسْتَبَقَا الْبَابَ:اور وہ دونوں دروازے کی طرف دوڑے۔}جب زلیخا حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے درپے ہوئی اور حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنے رب تعالیٰ کی بُرہان دیکھی تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دروازے کی طرف بھاگے اور زلیخا ان کے پیچھے انہیں پکڑنے کے لئے بھاگی۔ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامجس جس دروازے پر پہنچتے جاتے تھے اس کا تالا کھل کر گرتا چلا جاتا تھا۔ آخر کار زلیخا حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تک پہنچی اور اس نے آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کرتا پیچھے سے پکڑ کر آپ کو کھینچا تاکہ آپ نکلنے نہ پائیں لیکن آپ غالب آئے اور دروازے سے باہر نکل گئے ۔ زلیخا کے قمیص کھینچنے کی وجہ سے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قمیص پیچھے سے پھٹ گئی تھی۔
حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جیسے ہی باہر نکلے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پیچھے زلیخا بھی نکلی تو انہوں نے زلیخا کے شوہر یعنی عزیز مصر کو دروازے کے پاس پایا، فوراً ہی زلیخا نے اپنی براء ت ظاہر کرنے اور حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اپنے مکر سے خوفزدہ کرنے کے لئے حیلہ تراشا اور شوہر سے کہنے لگی: اس شخص کی کیا سزا ہے جو تمہاری گھر والی کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے ؟ اتنا کہہ کر زلیخا کو اندیشہ ہوا کہ کہیں عزیز طیش میں آکر حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے قتل کے درپے نہ ہوجائے اور یہ زلیخا کی شدّتِ محبت کب گوارا کرسکتی تھی اس لئے اس نے یہ کہا ’’یہی کہ اسے قید کردیا جائے یا دردناک سزا دی جائے یعنی اس کو کوڑے لگائے جائیں۔(خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۲۵، ۳ / ۱۵، مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۲۵، ص۵۲۶، ملتقطاً)
قَالَ هِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَاۚ-اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَ هُوَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ(۲۶)وَ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَ هُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ(۲۷)فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَیْدِكُنَّؕ-اِنَّ كَیْدَكُنَّ عَظِیْمٌ(۲۸)
ترجمۂ کنزالایمان: کہا اس نے مجھ کو لبھایا کہ میں اپنی حفاظت نہ کروں اور عورت کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے گواہی دی اگر ان کا کرتا آگے سے چرا ہے تو عورت سچی ہے اور انہوں نے غلط کہا۔ اور اگر ان کا کرتا پیچھے سے چاک ہوا تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچے۔ پھر جب عزیز نے اس کاکرتا پیچھے سے چرا دیکھا بولا بیشک یہ تم عورتوں کا چرتر ہے بیشک تمہارا چرتر بڑا ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: یوسف نے فرمایا: اسی نے میرے دل کو پھسلانے کی کوشش کی ہے اور عورت کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے گواہی دی کہ اگر ان کا کرتا آگے سے پھٹا ہوا ہو پھر تو عورت سچی ہے اور یہ سچے نہیں۔اور اگر ان کا کر تا پیچھے سے چاک ہوا ہے تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچے ہیں۔ پھر جب عزیز نے اس کا کر تاپیچھے سے پھٹا ہوا دیکھا تو کہا: بیشک یہ تم عورتوں کا مکر ہے۔ بیشک تمہارا مکر بہت بڑا ہے۔
{قَالَ: فرمایا۔} جب حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دیکھا کہ زلیخا الٹا آپ پر الزام لگاتی ہے اور آپ کے لئے قید و سزا کی صورت پید ا کرتی ہے تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنی براء ت کا اظہار اور حقیقت ِحال کابیان ضروری سمجھا اور فرمایا ’’یہ مجھ سے برے فعل کی طلب گار ہوئی تو میں نے اس سے انکار کیا اور میں بھاگا۔ عزیز نے کہا’’ اس بات پر کس طرح یقین کیا جائے؟ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا کہ اس گھر میں ایک چار مہینے کا بچہ جھولے میں ہے جو زلیخا کے ماموں کا لڑکا ہے، اس سے دریافت کرنا چاہیے۔ عزیز نے کہا کہ’’ چار مہینے کا بچہ کیا جانے اور کیسے بولے۔ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کو گویائی دینے اور اس سے میری بے گناہی کی شہادت ادا کرا دینے پر قادر ہے۔ عزیز نے اس بچہ سے دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع