30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنزالایمان: بولے اے ہمارے باپ ہم دوڑ کرتے نکل گئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑا تو اسے بھیڑیا کھا گیا اور آپ کسی طرح ہمارا یقین نہ کریں گے اگرچہ ہم سچے ہوں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: کہنے لگے: اے ہمارے باپ !ہم دوڑکا مقابلہ کرتے (دور) چلے گئے اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تو اسے بھیڑیا کھا گیا اور آپ کسی طرح ہمارا یقین نہ کریں گے اگرچہ ہم سچے ہوں۔
{قَالُوْا:کہنے لگے۔} حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے پوچھنے پر انہوں نے جوا ب دیا ’’اے ہمارے باپ ہم آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ دوڑ لگا رہے تھے کہ ہم میں سے کون آگے نکلتا ہے، اس دوڑ کے چکر میں ہم دور نکل گئے اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا، اسی دوران جب ہم یوسف سے غافل ہوئے تو اسے بھیڑیا کھا گیا اور ہمیں علم ہے کہ آپ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے شدید محبت کی وجہ سے کسی طرح ہمارا یقین نہ کریں گے اگرچہ ہم سچے ہوں اور ہمارے ساتھ کوئی گواہ ہے نہ کوئی ایسی دلیل و علامت ہے جس سے ہماری سچائی ثابت ہو۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۷، ۳ / ۹، ملخصاً)
وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍؕ-قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًاؕ-فَصَبْرٌ جَمِیْلٌؕ-وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ(۱۸)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اس کے کُرتے پر ایک جھوٹا خون لگا لائے کہا بلکہ تمہارے دلوں نے ایک بات تمہارے واسطے بنالی ہے تو صبر اچھا اور اللہ ہی سے مدد چاہتا ہوں ان باتوں پر جو تم بتا رہے ہو۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ اس کے کر تے پر ایک جھوٹا خون لگا لائے۔ یعقوب نے فرمایا: بلکہ تمہارے دلوں نے تمہارے لئے ایک بات گھڑ لی ہے تو صبر اچھا اور تمہاری باتوں پر اللہ ہی سے مدد چاہتا ہوں۔
{وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ:اور وہ اس کے کر تے پر ایک جھوٹا خون لگا لائے۔} حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’انہوں نے بکری کے ایک بچے کو ذبح کر کے اس کا خون حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قمیص پر لگا دیا تھا لیکن قمیص کو پھاڑنا بھول گئے ، حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہ قمیص اپنے چہرہ مبارک پر رکھ کر بہت روئے اور فرمایا ’’ عجیب قسم کا ہوشیار بھیڑیا تھا جو میرے بیٹے کوتو کھا گیا اور قمیص کو پھاڑا تک نہیں۔ مزید فرمایا ’’حقیقت یہ نہیں ہے بلکہ تمہارے دلوں نے تمہارے لئے ایک بات گھڑ لی ہے تومیرا طریقہ عمدہ صبر ہے اور تمہاری باتوں پر اللہ تعالیٰ ہی سے مدد چاہتا ہوں۔(خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۸، ۳ / ۹-۱۰)
وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗؕ-قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌؕ-وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةًؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ(۱۹)
ترجمۂ کنزالایمان:اور ایک قافلہ آیا انہوں نے اپنا پانی لانے والا بھیجا تو اس نے اپنا ڈول ڈالا بولا آہا کیسی خوشی کی بات ہے یہ تو ایک لڑکا ہے اور اسے ایک پونجی بناکر چھپالیا اور اللہ جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ایک قافلہ آیا تو انہوں نے اپنا پانی لانے والا آدمی بھیجا تو اس نے اپنا ڈول ڈالا ۔ اس پانی لانے والے نے کہا: کیسی خوشی کی بات ہے ،یہ تو ایک لڑکا ہے۔ اور انہوں نے اسے سامانِ تجارت قرار دے کر چھپالیا اور اللہ جانتا ہے جو وہ کررہے تھے۔
{وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ:اور ایک قافلہ آیا۔} ایک قافلہ جو مدین سے مصر کی طرف جارہا تھا وہ راستہ بہک کر اُس جنگل کی طرف آ نکلا جہاں آبادی سے بہت دور یہ کنواں تھا اور اس کا پانی کھاری تھا مگر حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی برکت سے میٹھا ہوگیا ، جب وہ قافلہ والے اس کنوئیں کے قریب اترے تو انہوں نے اپنا پانی لانے والا کنویں کی طرف بھیجا، اس کا نام مالک بن ذعر خزاعی تھا اور یہ شخص مدین کا رہنے والا تھا، جب وہ کنوئیں پر پہنچا اور اس نے اپنا ڈول ڈالا تو حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے وہ ڈول پکڑلیا اور اس میں لٹک گئے ، مالک نے ڈول کھینچا تو آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کنویں سے باہر تشریف لے آئے۔ جب اس نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا عالَم افروز حسن دیکھا تو نہایت خوشی میں آکر اپنے ساتھیوں کو مُژدہ دیا کہ آہا کیسی خوشی کی بات ہے، یہ تو ایک بڑا حسین لڑکا ہے۔ مالک بن ذعر اور اس کے ساتھیوں نے انہیں سامانِ تجارت قرار دے کر چھپالیا تاکہ کوئی اس میں شرکت کا دعویٰ نہ کر دے۔ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بھائی جو اس جنگل میں اپنی بکریاں چراتے تھے اور وہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نگرانی بھی کررہے تھے ، آج جو انہوں نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کنوئیں میں نہ دیکھا تو وہ انہیں تلاش کرتے ہوئے قافلہ میں پہنچے، وہاں انہوں نے مالک بن ذعر کے پاس حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیکھا تو وہ اس سے کہنے لگے کہ یہ غلام ہے، ہمارے پاس سے بھاگ آیا ہے ، کسی کام کا نہیں ہے اور نافرمان ہے، اگر خرید لو تو ہم اسے سستا بیچ دیں گے اور پھر اسے کہیں اتنی دور لے جانا کہ اس کی خبر بھی ہمارے سننے میں نہ آئے۔ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان کے خوف سے خاموش کھڑے رہے اور آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کچھ نہ فرمایا۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۹، ۳ / ۱۰، ابو سعود، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۹، ۳ / ۸۹، ملتقطاً)
وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍۚ-وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠(۲۰)
ترجمۂ کنزالایمان:اور بھائیوں نے اسے کھوٹے داموں گنتی کے روپوں پر بیچ ڈالا اور انہیں اس میں کچھ رغبت نہ تھی۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور بھائیوں نے بہت کم قیمت چند درہموں کے بدلے میں اسے بیچ ڈالا اور انہیں اس میں کچھ رغبت نہ تھی۔
{وَ شَرَوْهُ:اور بھائیوں نے اسے بیچ ڈالا۔} حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بھائیوں نے انہیں مالک بن ذعر خزاعی کے ہاتھ بہت کم قیمت والے چند درہموں کے بدلے بیچ دیا ۔ حضرت قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ وہ بیس درہم تھے۔ اور حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بھائی پہلے سے ہی ان میں کچھ رغبت نہ رکھتے تھے۔ پھر مالک بن ذعر اور اس کے ساتھی حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مصر میں لائے، اس زمانے میں مصر کا بادشاہ ریان بن ولید بن نزدان عملیقی تھا اور اس نے اپنی عِنانِ سلطنت قطفیر مصری کے ہاتھ میں دے رکھی تھی، تمام خزائن اسی کے تحتِ تَصَرُّف تھے ، اس کو عزیزِ مصر کہتے تھے اور وہ بادشاہ کا وزیر اعظم تھا، جب حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممصر کے بازار میں بیچنے کے لئے لائے گئے تو ہر شخص کے دل میں آپ کی طلب پیدا ہوئی اور خریداروں نے قیمت بڑھانا شروع کی یہاں تک کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے وزن کے برابر سونا، اتنی ہی چاندی، اتنا ہی مشک اور اتنا ہی ریشم قیمت مقرر ہوئی اور عمر شریف اس وقت تیرہ یا سترہ سال کی تھی۔ عریزِ مصر نے اس قیمت پر آپ کو خرید لیا اور اپنے گھر لے آیا۔ دوسرے خریدار اس کے مقابلہ میں خاموش ہوگئے۔ (صاوی، یوسف، تحت الآیۃ: ۲۰، ۳ / ۹۴۹، خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۲۰، ۳ / ۱۱، ملتقطاً)
وَ قَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًاؕ-وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ٘-وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِؕ-وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ(۲۱)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع