30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَالسَّلَام کا تمہارے ساتھ چلے جانا مجھے غمگین کر دے گا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا کچھ دیر کے لئے بھی ان سے جدا ہونا گوارا نہ تھا۔ دوسری وجہ یہ بیان کی کہ مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ تم اپنے کھانے پینے اور کھیل کود میں مصروفیت کی وجہ سے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف سے غافل ہو جاؤ گے اور کوئی بھیڑیا آ کر انہیں کھا جائے گا۔یہ وجہ آپ نے اس لئے بیان فرمائی تھی کہ اس سرزمین میں بھیڑیے اور درندے بہت تھے۔(خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۳، ۳ / ۷)
قَالُوْا لَىٕنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ(۱۴)
ترجمۂ کنزالایمان: بولے اگر اسے بھیڑیا کھا جائے اور ہم ایک جماعت ہیں جب تو ہم کسی مصرف کے نہیں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: انہوں نے کہا: اگر اسے بھیڑیا کھا جائے حالانکہ ہم ایک جماعت (موجود ) ہوں جب تو ہم کسی کام کے نہ ہوئے۔
{قَالُوْا:انہوں نے کہا۔} حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بھائیوں نے جواب دیا ’’ہم دس مَردوں کے وہاں موجود ہوتے ہوئے اگر اسے بھیڑیا کھا جائے جب تو ہم کسی کام کے نہ ہوئے لہٰذا انہیں ہمارے ساتھ بھیج دیجئے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر یونہی تھی کہ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اجازت دی اور روانگی کے وقت حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وہ قمیص جوجنتی ریشم کی تھی اور جس وقت حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو کپڑے اتار کر آگ میں ڈالا گیا تو حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے وہ قمیص آپ کو پہنائی تھی اور وہ قمیص مبارک حضرت ابراہیمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے حضرت اسحق عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اور ان سے ان کے فرزند حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو پہنچی تھی، حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے وہ قمیص تعویذ بنا کر حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے گلے میں ڈال دی۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۴، ۳ / ۷، روح البیان، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۴، ۴ / ۲۲۲، ملتقطاً)
فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ(۱۵)
ترجمۂ کنزالایمان: پھر جب اسے لے گئے اور سب کی رائے یہی ٹھہری کہ اسے اندھے کنویں میں ڈال دیں اور ہم نے اسے وحی بھیجی کہ ضرور تو انہیں ان کا یہ کام جتادے گا ایسے وقت کہ وہ نہ جانتے ہوں گے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان:پھر جب وہ اسے لے گئے اور سب نے اتفاق کرلیا کہ اسے تاریک کنویں میں ڈال دیں اور ہم نے اسے وحی بھیجی کہ تم ضرور انہیں ان کی یہ حرکت یاد دلاؤ گے اور اس وقت وہ جانتے نہ ہوں گے۔
{فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ:پھر جب وہ اسے لے گئے۔} جب حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کے بھائیوں کے ساتھ بھیج دیا تو جب تک حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام انہیں دیکھتے رہے تب تک تو وہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو اپنے کندھوں پر سوار کئے ہوئے عزت و احترام کے ساتھ لے گئے اور جب دور نکل گئے اور حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نظروں سے غائب ہوگئے تو انہوں نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو زمین پر دے ٹپکا اور دلوں میں جو عداوت تھی وہ ظاہر ہوئی، حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جس کی طرف جاتے تھے وہ مارتا اور طعنے دیتا تھا اور خواب جو کسی طرح انہوں نے سن لیا تھا اس پر برا بھلاکہتے تھے اور کہتے تھے اپنے خواب کوبلا، وہ اب تجھے ہمارے ہاتھوں سے چھڑائے۔ جب سختیاں حد کو پہنچیں تو حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہود اسے کہا: خدا سے ڈر، اور ان لوگوں کو ان زیادتیوں سے روک ۔ یہودا نے اپنے بھائیوں سے کہا کہ تم نے مجھ سے کیا عہد کیا تھا کہ انہیں قتل نہیں کیا جائے گا، تب وہ ان حرکتوں سے باز آئے اور سب نے اتفاق کرلیا کہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تاریک کنویں میں ڈال دیں چنانچہ انہوں نے ایسا کیا۔ یہ کنواں کنعان سے تین فرسنگ (یعنی 9میل) کے فاصلہ پراُرْدُن کی سرزمین کے اَطراف میں واقع تھا، اوپر سے اس کا منہ تنگ تھا اور اندر سے کُشادہ، حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہاتھ پاؤں باندھ کر قمیص اتار کر کنوئیں میں چھوڑا ،جب وہ اس کی نصف گہرائی تک پہنچے تو رسی چھوڑ دی تاکہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پانی میں گر کر ہلاک ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَام پہنچے اور انہوں نے آپ کو کنویں میں موجود ایک پتھر پر بٹھا دیا اور آپ کے ہاتھ کھول دیئے۔ (روح البیان، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۵، ۴ / ۲۲۳)
{وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ:اور ہم نے اسے وحی بھیجی۔}اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَامکے واسطے سے یا اِلہام کے ذریعے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ آپ غمگین نہ ہوں ،ہم آپ کو گہرے کنویں سے نکال کر بلند مقام پر پہنچائیں گے اور تمہارے بھائیوں کو حاجت مند بنا کر تمہارے پاس لائیں گے اور انہیں تمہارے زیرِ فرمان کریں گے اور اے پیارے یوسف! عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، ایک دن ایسا آئے گا کہ تم ضرور انہیں ان کایہ ظالمانہ کام یاد دلاؤ گے جو انہوں نے اِس وقت تمہارے ساتھ کیا اور وہ اُس وقت تمہیں نہ جانتے ہوں گے کہ تم یوسف ہو کیونکہ اس وقت آپ کی شان بلند ہوگی اور آپ سلطنت و حکومت کی مسند پر ہوں گے جس کی وجہ سے وہ آپ کو پہچان نہ سکیں گے۔(ابو سعود، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۵، ۳ / ۸۶، ملخصاً) قصہ مختصر حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بھائی انہیں کنوئیں میں ڈال کر واپس ہوئے اور حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قمیص جو اتار لی تھی اس کو ایک بکری کے بچے کے خون میں رنگ کر ساتھ لے لیا۔
وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ(۱۶)
ترجمۂ کنزالایمان: اور رات ہوئے اپنے باپ کے پاس روتے آئے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور رات کے وقت اپنے باپ کے پاس وہ روتے ہوئے آئے۔
{وَ جَآءُوْ:اور وہ آئے۔} مفسرین فرماتے ہیں کہ جب بھائیوں نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کنویں میں ڈال دیا تو رات کے وقت اپنے والد کی طرف لوٹے تاکہ رات کے اندھیرے میں انہیں جھوٹا عذر پیش کرنے میں کوئی پریشانی نہ ہو، جب وہ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مکان کے قریب پہنچے تو انہوں نے رونا اور چیخنا چلانا شروع کر دیا، جب حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان کے چیخنے کی آواز سنی تو گھبرا کر باہر تشریف لائے اور فرمایا، ’’اے میرے بیٹو !میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تمہیں بکریوں میں کچھ نقصان ہوا؟ انہوں نے کہا :نہیں۔ پھر فرمایا ’’تو کیا مصیبت پہنچی اور یوسف کہاں ہیں ؟ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۶، ۳ / ۹)
قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُۚ-وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ(۱۷)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع