آیت لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ سے متعلق دو باتیں
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

{وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ:اور تجھے باتوں کا انجام نکا لنا سکھائے گا۔} آیت میں مذکور ’’ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ‘‘ سے خوابوں کی تعبیر نکالنا مراد ہے کیونکہ خواب اگر سچے ہوں تو وہ فرشتوں کی باتیں ہیں اور اگر سچے نہ ہوں تو وہ نفس یا شیطان کی باتیں ہیں۔ بعض مفسرین کے نزدیک ’’ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ‘‘ سے سابقہ آسمانی کتابوں اور انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی اَحادیث کی مُبْہَم باتوں کو ظاہر فرمانا مراد ہے۔ پہلا قول صحیح ہے۔ (ابوسعود، یوسف، تحت الآیۃ: ۶، ۳ / ۸۱)

{وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ: اور وہ اپنا احسان مکمل فرمائے گا۔}امام فخرالدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ اس آیت میں ’’ یَجْتَبِیْكَ‘‘ سے نبوت کے لئے منتخب فرمانا مراد لیا جائے تو اس صور ت میں نعمت پوری کرنے سے مراد دنیا اور آخرت کی سعادتیں عطا فرمانا ہے، دنیا کی سعادتیں یہ ہیں۔ (1) اولاد کی کثرت۔ (2) خدمت گاروں اور پیروی کرنے والوں کی کثرت۔ (3) مال اور شان وشوکت میں وسعت۔ (4) مخلوق کے دلوں میں عظمت و جلال کی زیادتی۔ (5) اچھی ثنا اور تعریف۔ آخرت کی سعادتیں یہ ہیں۔ (1) کثیر علوم۔ (2) اچھے اَخلاق۔ (3) اللہ تعالیٰ کی معرفت میں اِستغراق۔ اور اگر ’’ یَجْتَبِیْكَ‘‘ سے بلند درجات تک پہنچانا مراد لیا جائے تو اس صورت میں نعمت پوری کرنے سے مراد نبوت عطا فرمانا ہے، اس کی تائید ان باتوں سے ہوتی ہے۔

(1)…نعمت پورا کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نعمت کو اس طرح کامل کر دیاجائے کہ وہ ہر قسم کے نقصان سے محفوظ ہو اور انسان کے حق میں ایسی نعمت صرف نبوت ہے مخلوق کے تمام مَناصب ،نبوت کے منصب کے مقابلے میں ناقص ہیں۔

(2)…حضرت یعقوبعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا :جس طرح اس نے پہلے تمہارے باپ دادا ابراہیم اور اسحق پر اپنی نعمت مکمل فرمائی، یہ بات واضح ہے کہ وہ نعمتِ تامہ جس کی وجہ سے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرت اسحق عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو باقی انسانوں سے اِمتیاز حاصل ہوا ،وہ نبوت ہے ،لہٰذا اس آیت میں تکمیلِ نعمت سے مراد نبوت ہے۔ (تفسیرکبیر، یوسف، تحت الآیۃ: ۶، ۶ / ۴۲۱، ملتقطاً)

لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآىٕلِیْنَ(۷)

ترجمۂ کنزالایمان:بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں میں پوچھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں (کے واقعے) میں پوچھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

{لَقَدْ:بیشک۔} یعنی بے شک حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کے بھائیوں کے واقعے میں پوچھنے والوں کے لئے عظیم الشان نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی قدرت ِقاہرہ پر دلالت کرتی ہیں۔ (ابوسعود، یوسف، تحت الآیۃ: ۷، ۳ / ۸۲)

آیت’’ لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ‘‘ سے متعلق دو باتیں :

            اس آیت کے تعلق سے دو باتیں قابلِ ذکر ہیں

(1)… حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی پہلی بیوی لِیَا بنتِ لَیَانآپ کے ماموں کی بیٹی ہیں ، ان سے آپ کے 6 فرزند ہوئے (1) رُوْبِیلْ، (2) شمعون، (3) لاوِی ، (4) یہوذا (یا،یہودا)، (5) زبولون، (6) یَشْجُرْ جبکہ چار بیٹے (7) دَانْ، (8) نَفْتَالی، (9) جادْ، (10) آشر، دوسری دو بیویوں زلفہ اور بلہہ سے ہوئے۔ لیا کے انتقال کے بعد حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ان کی بہن راحیل سے نکاح فرمایا ان سے دو فرزند ہوئے (11) حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور (12) بنیامین ۔ یہ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بارہ صاحب زادے ہیں انہیں کو اَسباط کہتے ہیں۔

(2)…آیت میں سائلین یعنیپوچھنے والوں سے وہ یہودی مراد ہیں جنہوں نے رسولِ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال اور حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی اولاد کے خطّۂ کنعان سے سرزمینِ مصر کی طرف منتقل ہونے کا سبب دریافت کیا تھا، جب سرکارِ دوعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حالات بیان فرمائے اور یہود یوں نے ان کو توریت کے مطابق پایا تو انہیں حیرت ہوئی کہ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے کتابیں پڑھنے اور علماء کی مجلسوں میں بیٹھنے اور کسی سے کچھ سیکھنے کے بغیر اس قدر صحیح واقعات کیسے بیان فرمائے۔ یہ ا س بات کی دلیل ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ضرور نبی ہیں اور قرآنِ پاک ضرور اللہ تعالیٰ کی وحی ہے اوراللہ تعالیٰ نے آپ کو قُدسی علم سے مشرف فرمایا علاوہ بریں اس واقعہ میں بہت سی عبرتیں ، نصیحتیں اور حکمتیں ہیں۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۷، ۳ / ۵)

اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌؕ-اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِ ﹰۚۖ (۸)

ترجمۂ کنزالایمان: جب بولے کہ ضرور یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں اور ہم ایک جماعت ہیں بیشک ہمارے باپ صراحۃً ان کی محبت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یاد کرو جب بھائی بولے :بیشک یوسف اور اس کا سگا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ محبوب ہیں حالانکہ ہم ایک جماعت ہیں بیشک ہمارے والد کھلی محبت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

{اِذْ قَالُوْا:یاد کرو جب انہوں نے کہا۔} حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بھائیوں نے جب یہ دیکھا کہ ان کے والدِ محترم حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامحضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور ان کے سگے بھائی بِنیامین کی طرف بہت مائل ہیں اور ان پر بڑی شفقت فرماتے ہیں تو کہنے لگے کہ اللہ کی قسم! یوسف اور اس کا سگا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں اوروہ انہیں محبت میں ہم پر ترجیح دیتے ہیں حالانکہ وہ دونوں چھوٹے ہیں اور حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے جبکہ ہم دس مرد ہیں ، مضبوط ہیں ، زیادہ کام آسکتے ہیں ، زیادہ فائدہ پہنچاسکتے ہیں لہٰذا ہم اپنی کثیر تعداد اور زیادہ فائدہ مند ہونے کی وجہ سے ان دونوں بھائیوں کی بجائے محبت کے زیادہ حقدار ہیں ، بیشک ہمارے والد ان کی کھلی محبت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بھائیوں نے یہ کہہ تو دیا لیکن یہ بات ان کے خیال میں نہ آئی کہ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کے بھائی کو صرف محبت میں ان پر ترجیح دی ہے اور دلی محبت کو دور کر دینا انسان کے بس میں نہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے زیادہ محبت و شفقت کا سبب یہ ہو کہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی والدہ ان کی چھوٹی عمر میں انتقال فرما گئی تھیں نیز شفقت کا سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے حضرت

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن