دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

{اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ:یاد کرو جب یوسف نے اپنے با پ سے کہا۔}  یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اپنی قوم کے سامنے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وہ بات بیان کریں جو انہوں نے اپنے باپ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہی کہ  اے میرے باپ! میں نے گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا ، میں نے انہیں اپنے لئے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا۔

حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا خواب:

             مفسرین نے یہ واقعہ یوں بیان کیا ہے کہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے خواب دیکھا کہ آسمان سے گیارہ ستارے اترے اور ان کے ساتھ سورج اور چاند بھی ہیں ، ان سب نے آپ کو سجدہ کیا، حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے یہ خواب جمعہ کی رات کو دیکھا اور یہ رات شبِ قدر تھی۔ حضرت قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’خواب میں دیکھے گئے ستاروں کی تعبیرآپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے گیارہ بھائی ہیں اور سورج آپ کے والد اور چاند آپ کی والدہ ہیں۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام راحیل ہے اورمفسرسدی کا قول ہے کہ چونکہ راحیل کا انتقال ہوچکا تھا اس لئے چاند سے آپ کی خالہ مراد ہیں۔ سجدہ کرنے سے مراد ایک قول کے مطابق تواضع کرنا اور فرمانبردار ہونا ہے اور ایک قول یہ ہے کہ حقیقتاً سجدہ مراد ہے کیونکہ اس زمانہ میں سلام کی طرح سجدۂ تحیت یعنی تعظیم کا سجدہ بھی جائز تھا۔ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی عمرشریف اس وقت بارہ سال کی تھی اور سات سال اور سترہ سال عمر ہونے کے قول بھی کتابوں میں مذکور ہیں۔(خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۴، ۳ / ۳)

قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًاؕ-اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۵)

ترجمۂ کنزالایمان: کہا اے میرے بچے اپنا خواب اپنے بھائیوں سے نہ کہنا کہ وہ تیرے ساتھ کوئی چال چلیں گے بیشک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: فرمایا: اے میرے بچے! اپنا خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا ورنہ تمہارے خلاف کوئی سازش کریں گے۔بیشک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے۔

{قَالَ یٰبُنَیَّ:فرمایا: اے میرے بچے!} مفسرین فرماتے ہیں کہ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو حضرت یوسفعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے بہت زیادہ محبت تھی ، اس لئے ان کے ساتھ ان کے بھائی حسد کرتے تھے اور حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام چونکہ یہ بات جانتے تھے ، اس لئے جب حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے یہ خواب دیکھا تو حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا  اے میرے بچے! اپنا خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا  کیونکہ وہ اس کی تعبیر کو سمجھ لیں گے تووہ تمہارے خلاف کوئی سازش کریں گے اور تمہاری ہلاکت کی کوئی تدبیر سوچیں گے۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۵، ۳ / ۴)

             حضرت علامہ عبداللہ بن احمد نسفیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ’’حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو نبوت کے لئے منتخب فرمائے گا اور دونوں جہان کی نعمتیں اور شرف عنایت کرے گا اس لئے آپ کو حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے خلاف ان کے بھائیوں کی طرف سے حسد کا اندیشہ ہوا اور آپ نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے فرمایا کہ اگر آپ نے اپنے بھائیوں سے اپنا خواب بیان کیا تو وہ تمہارے خلاف سازش کریں گے۔ (مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۵، ص۵۲۰)

خواب کس سے بیان کرنا چاہئے؟:

            اس سے معلوم ہو اکہ انسان جب کوئی اچھا خواب دیکھے تو ا س کے بارے میں صرف اس شخص کو خبر دے کہ جو اس سے محبت رکھتا ہو یا عقلمند ہو اور اس سے حسد نہ کرتا ہو اور اگر برا خواب دیکھے تو اسے کسی سے بیان نہ کرے۔(صاوی، یوسف، تحت الآیۃ: ۵، ۳ / ۹۴۲)صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے، نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتاہے جب تم میں سے کوئی پسندیدہ خواب دیکھے تو اس کا ذکر صرف اسی سے کرے جو اس سے محبت رکھتا ہو اور اگر ایسا خواب دیکھے کہ جو اسے پسندنہ ہو تو اس کے شر سے اور شیطان کے شر سے اسے پناہ مانگنی چاہئے اور (اپنی بائیں طرف ) تین مرتبہ تھتکاردے اور اس خواب کو کسی سے بیان نہ کرے تو وہ کوئی نقصان نہ دے گا۔(بخاری، کتاب التعبیر، باب ما اذا رأی ما یکرہ فلا یخبر بہا ولا یذکرہا، ۴ / ۴۲۳، الحدیث: ۷۰۴۴، مسلم، کتاب الرؤیا، ص۱۲۴۲، الحدیث: ۳(۲۲۶۱))

{اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ:بیشک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے۔} آیت کے اس حصے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بھائی اگر حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اذیت اور تکلیف پہنچانےکی کوشش کریں گے تو اس کا سبب شیطانی وسوسہ ہوگا۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۵، ۳ / ۴)

وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَؕ-اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠(۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اسی طرح تجھے تیرا رب چن لے گا اور تجھے باتوں کا انجام نکا لنا سکھائے گا اور تجھ پر اپنی نعمت پوری کرے گا اور یعقوب کے گھر والوں پر جس طرح تیرے پہلے دونوں باپ دادا ابراہیم اور اسحق پر پوری کی بیشک تیرا رب علم و حکمت والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اسی طرح تیرا رب تمہیں منتخب فرمالے گااور تجھے باتوں کا انجام نکا لنا سکھائے گا اور تجھ پر اور یعقوب کے گھر والوں پراپنا احسان مکمل فرمائے گا جس طرح اس نے پہلے تمہارے باپ دادا ابراہیم اور اسحق پر اپنی نعمت مکمل فرمائی بیشک تیرا رب علم والا،حکمت والا ہے۔

{وَ كَذٰلِكَ:اور اسی طرح۔} حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے فرمایا ’’جس طرح اس عظمت و شرافت والے خواب کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تیرا مقام بلند کیا اسی طرح تیرا رب عَزَّوَجَلَّ تمہیں نبوت و بادشاہت یا اہم کاموں کے لئے منتخب فرما لے گا۔

            بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ’’ اِجْتِبَاءُ یعنی اللہ تعالیٰ کا کسی بندے کو چن لینا ‘‘کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی بندے کو فیضِ رَبّانی کے ساتھ خاص کرے جس سے اس کو طرح طرح کے کرامات و کمالات، محنت و کوشش کے بغیر حاصل ہوں ، یہ مرتبہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ساتھ خاص ہے اور ان کی بدولت ان کے مقربین ،صدِّیقین ، شُہدا اور صالحین  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْبھی اس نعمت سے سرفراز کئے جاتے ہیں۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۶، ۳ / ۴، بیضاوی، یوسف، تحت الآیۃ: ۶، ۳ / ۲۷۴، ملتقطاً)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن