30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{تِلْكَ:یہ۔} یعنی اس سورت میں جو آیات بیان ہوئیں یہ روشن کتاب یعنی قرآنِ مجید کی آیتیں ہیں۔ مُبین کا معنی ہے روشن و ظاہر کردینے والی۔ قرآنِ پاک کا مبین ہونا یوں ہے کہ اس کا اپنی مثل لانے سے عاجز کر دینے والا ہونا ظاہر ہے نیز اس کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونا واضح ہے نیز اس کے معانی روشن اور و اضح ہیں کہ قرآنی آیات کے معانی اہلِ علم سے پوشیدہ نہیں نیز اس قرآن میں حلال و حرام،حدود و تعزیرات کے اَحکام صاف بیان فرمائے گئے ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ اس میں سابقہ امتوں ،ان کے نبیوں اور رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اَحوال روشن طور پر مذکورہیں اور اس میں حق و باطل کو ممتاز کردیا گیا ہے۔(مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۱، ص۵۱۹، خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۱، ۳ / ۲، ملتقطاً)
اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ(۲)
ترجمۂ کنزالایمان: بیشک ہم نے اسے عربی قرآن اتارا کہ تم سمجھو۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ہم نے اس قرآن کو عربی نازل فرمایا تا کہ تم سمجھو۔
{اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا:بیشک ہم نے اس قرآن کو عربی نازل فرمایا۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کو عربی زبان میں نازل فرمایا کیونکہ عربی زبان سب زبانوں سے زیادہ فصیح ہے اور جنت میں جنتیوں کی زبان بھی عربی ہو گی اوراسے عربی میں نازل کرنے کی ایک حکمت یہ ہے کہ تم اس کے معنی سمجھ کر ان میں غوروفکر کرو اور یہ بھی جان لو کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ (صاوی، یوسف، تحت الآیۃ: ۲، ۳ / ۹۴۱)
قرآنِ مجید کو سمجھ کر پڑھنا چاہئے:
اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرآنِ مجید کا مسلمانوں پر ایک حق یہ بھی ہے کہ وہ اسے سمجھیں اور اس میں غورو فکر کریں اور اسے سمجھنے کے لئے عربی زبان پر عبور ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ کلام عربی زبان میں نازل ہوا ہے اس لئے جو لوگ عربی زبان سے ناواقف ہیں یا جنہیں عربی زبان پر عبور حاصل نہیں تو انہیں چاہئے کہ اہلِ حق کے مُسْتَنَد علما کے تراجم اور ان کی تفاسیر کا مطالعہ فرمائیں تاکہ وہ قرآنِ مجید کو سمجھ سکیں۔ افسوس! فی زمانہ مسلمانوں کی کثیر تعداد قرآنِ مجید کو سمجھنے اور اس میں غور وفکر کرنے سے بہت دور ہو چکی ہے، اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت عطا فرمائے۔ عربی کا سیکھنا بحیثیت ِ مجموعی اُمت ِمُسلمہ کیلئے فرضِ کفایہ ہے۔
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ ﳓ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ(۳)
ترجمۂ کنزالایمان: ہم تمہیں سب سے اچھا بیان سناتے ہیں اس لیے کہ ہم نے تمہاری طرف اس قرآن کی وحی بھیجی اگرچہ بیشک اس سے پہلے تمہیں خبر نہ تھی۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: ہم نے تمہاری طرف اس قرآن کی وحی بھیجی اس کے ذریعے ہم تمہارے سامنے سب سے اچھا واقعہ بیان کرتے ہیں اگرچہ اس سے پہلے تم یقیناً اس سے بے خبر تھے۔
{نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ:ہم تمہارے سامنے سب سے اچھا واقعہ بیان کرتے ہیں۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم آپ کے سامنے سابقہ امتوں اور گزشتہ زمانوں کا سب سے اچھا واقعہ بیان کرتے ہیں جو کہ بہت سی عجیب و غریب حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس میں دین و دنیا کے بہت فوائد ، بادشاہوں ، رعایا اور علماء کے اَحوال، عورتو ں کی عادات، دشمنوں کی ایذاؤں پر صبر اور ان پر قابو پانے کے بعد ان سے درگزر کرنے کا نفیس بیان ہے جس سے سننے والے میں نیک سیرتی اور پاکیزہ خصلتیں پیدا ہوتی ہیں۔( خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۳، ۳ / ۲-۳ )نیز اس سورت کے ضمن میں ایک انسان کی زندگی کے جملہ مراحل کو بیان کردیا گیا کہ زندگی کے کن مراحل پر کیا کیا چیزیں انسان کو پیش آسکتی ہیں اور ان سے وہ بہترین انداز میں سبکدوش کیسے ہوسکتا ہے۔
{وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ:اگرچہ اس سے پہلے تم یقیناً اس سے بے خبر تھے۔}یعنی یہ سورت آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی طر ف وحی کرنے سے پہلے آپ کو اس واقعے کی خبر تھی اور نہ آپ نے اس واقعے کو کبھی سنا تھا۔( ابوسعود، یوسف، تحت الآیۃ: ۳، ۳ / ۷۸)
علامہ صاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’یہ تاجدار ِرسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ایک معجزہ ہے کہ آپ نے سب سے اچھے انداز اور بہترین طریقے سے گزشتہ اور آئندہ لوگوں کی خبر دی ہے۔ (صاوی، یوسف، تحت الآیۃ: ۳، ۳ / ۹۴۱)
حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعے کو ’’اَحْسَنَ الْقَصَصِ‘‘فرمانے کی وجوہات:
حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے واقعے کو ’’ اَحْسَنَ الْقَصَصِ‘‘ فرمانے کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں ، ان میں سے 3 وجوہات درج ذیل ہیں۔
(1)…حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعے میں جس قدر عبرتیں اور حکمتیں بیان کی گئی ہیں اتنی اور کسی سورت میں بیان نہیں کی گئیں۔
(2)…حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے اپنے بھائیوں سے انتہائی اچھا سلوک فرمانے ،ان کی طرف سے پہنچنے والی اذیتوں پر صبر کرنے اور بدلہ لینے پر قادر ہونے کے باوجود انہیں معاف کر دینے کی وجہ سے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعے کو ’’ اَحْسَنَ الْقَصَصِ‘‘فرمایا گیا۔
(3)… حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے واقعے میں انبیاءِ کرام، صالحین، فرشتوں ، شیطانوں ، جنوں ، انسانوں ، جانوروں اور پرندوں کا ذکر ہے اور اس میں بادشاہوں ، تاجروں ، عالموں ، جاہلوں ، مَردوں اور عورتوں کے طرزِ زندگی کا بیان اور عورتوں کے مکر وفریب کا ذکر ہے، اس کے علاوہ اس واقعے میں توحید، رسالت، فقہی اَحکام، خوابوں کی تعبیر، سیاست، مُعاشرت، تدبیرِمَعاش اور ان تمام فوائد کا بیان ہے جن سے دین و دنیا کی اصلاح ممکن ہے ،اس لئے اس واقعے کو ’’ اَحْسَنَ الْقَصَصِ‘‘فرمایا گیا۔ (تفسیرقرطبی، یوسف، تحت الآیۃ: ۳، ۵ / ۸۳، الجزء التاسع)
اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ(۴)
ترجمۂ کنزالایمان: یاد کرو جب یوسف نے اپنے با پ سے کہا اے میرے باپ میں نے گیارہ تارے اور سورج اور چاند دیکھے انہیں اپنے لیے سجدہ کرتے دیکھا ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: یاد کرو جب یوسف نے اپنے با پ سے کہا: اے میرے باپ! میں نے گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا ، میں نے انہیں اپنے لئے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع