دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

ہے،کوئی عمل اس سے چھپا ہوا نہیں ہے،وہ نیک بندوں کو ان کی نیکیوں کا ثواب اور گنہگاروں کو ان کے گناہوں کی سزا دے گا۔ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۱۲۳، ۲ / ۳۷۷)

سورۂ یوسف

سورۂ یوسف کا تعارف

مقامِ نزول:

            سورۂ یوسف مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور اس سورت کاشانِ نزول یہ ہے کہ یہودیوں کے علماء نے عرب کے سرداروں سے کہا تھا کہ محمد مصطفٰیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے دریافت کرو کہ حضرت یعقو ب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی اولاد ملک ِ شام سے مصر میں کس طرح پہنچی اور اُن کے وہاں جاکر آباد ہونے کا سبب کیا ہوا اور حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ کیا ہے؟ اس پر یہ سور ۂ مبارکہ نازل ہوئی۔ (مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۱، ص۵۱۹)

رکوع اور آیات کی تعداد:

             اس سورت میں 12 رکوع اور 111 آیتیں ہیں۔

’’یوسف ‘‘نام رکھنے کی وجہ :

            اس سورت میں اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حالات ِزندگی اور ان کی سیرتِ مبارکہ کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ یوسف‘‘ رکھا گیا۔

سورۂ یوسف کے بارے میں اَحادیث:

(1)… حضرت عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں ’’ایک دن یہودیوں کے علماء میں سے ایک عالم جو کہ تورات کا قاری تھا حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں حاضر ہوا، اس وقت نبیٔ  کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سورۂ یوسف کی تلاوت فرما رہے تھے۔ اس عالم نے سورۂ یوسف سن کر عرض کی: اے محمد (مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)، آپ کو یہ سورت کس نے سکھائی ہے؟ ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ سورت سکھائی ہے۔ وہ یہودی عالم حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا ارشاد سن کر بہت حیران ہوا اور یہودیوں کے پاس آ کر ان سے کہنے لگا ’’کیا تم جانتے ہو،خدا کی قسم! محمد(مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) قرآنِ مجید میں ان باتوں کی تلاوت کرتے ہیں جو تورات میں نازل کی گئی ہیں۔ چنانچہ ان میں سے ایک گروہ بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں حاضر ہوا اور انہوں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے اَوصاف کو پہچانا، مُہرِ نبوت کی زیارت کی اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سورۂ یوسف سن کر اسلام قبول کر لیا۔ (دلائل النبوہ للبیہقی، جماع ابواب اسئلۃ الیہود وغیرہم۔۔۔ الخ، باب ما جاء فی تعجب الحبر الذی سمعہ یقرأ سورۃ یوسف لموافقتہا۔۔۔ الخ، ۶ / ۲۷۶)

 سورۂ یوسف کے مَضامین:

            اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں نبیٔ  کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی نبوت کی دلیل کے طور پر حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حالاتِ زندگی تفصیل کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس سورت میں یہ مضامین بیان ہوئے ہیں :

(1) …قرآنِ مجید کا بہترین قصہ بیان کیا گیا ۔

(2) …حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے واقعے میں یہودیوں کے لئے نبیٔ  کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت کی نشانیاں ہیں۔

(3) …تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے پہلے جتنے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامدنیا میں تشریف لائے سب مرد ہی تھے کسی عورت کو نبوت نہیں ملی۔

(4) …انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوموں کے واقعات میں عقلمندوں کے لئے عبرت اور نصیحت ہے۔

(5) …اس سورت کے آخر میں قرآنِ مجید کے اَوصاف بیان کئے گئے کہ یہ سابقہ آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے، اس میں ہر چیز کا مُفَصَّل بیان ہے اور یہ مسلمانوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔

سورۂ ہود کے ساتھ مناسبت:

            سورۂ یوسف کی اپنے سے ماقبل سورت ’’ہود‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ ہود میں حضرت ابراہیمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو فرشتوں کے ذریعے حضرت اسحاق عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور ان کے بعد حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بشارت دی گئی اور سورۂ یوسف میں حضرت یعقوبعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی اولاد کے حالاتِ زندگی بیان کئے گئے ہیں ، اور ایک مناسبت یہ ہے کہ سورۂ یوسف سورۂ ہود کے بعد ناز ل ہوئی اور قرآنِ مجید میں سورتوں کی ترتیب میں بھی اسے سورہ ٔہود کے بعد ہی ذکر کیا گیا ہے۔(تناسق الدرر، سورۃ یوسف، ص۹۴-۹۵)

             نوٹ:امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے سورۂ یوسف کی ایک جداگانہ تفسیر بھی لکھی، جس کا انداز صوفیانہ ہے اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے آیات کی تفسیر کے تحت مؤثِّر نصیحتیں ، تشبیہات ،حکایات اور نِکات بھی بیان فرمائے ہیں۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ترجمۂ کنزالایمان:   اللہ کے نام سے شروع جو بہت رحم والا مہربان ۔

ترجمۂکنزالعرفان:   اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔

الٓرٰ- تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۫(۱)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:’’الٓرٰ‘‘، یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن