دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

{وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ:اور اگرتمہارا رب چاہتا ۔} ارشاد فرمایا ’’اگر تمہارا رب چاہتا تو سب آدمیوں کو ایک ہی امت بنا دیتا اور یوں سب کا ایک ہی دین ہوتا مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے ایسا نہ چاہا اور سب کو ایک امت نہ بنایا اور لوگ ہمیشہ مختلف دینوں پر عمل پیرا رہیں گے۔ علامہ صاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ اس آیت سے ثابت ہو اکہ اختلاف جس طرح پہلی امتوں میں موجود تھا اُسی طرح اس امت میں بھی رہے گا تو ان میں سے کوئی مومن ہو گا کوئی کافر، کوئی نیک ہو گا اور کوئی گناہگار، اسی لئے حدیث میں ہے کہ یہودی 71 فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے اور عنقریب تم 73 فرقوں میں بٹ جاؤ گے، ان میں سے72 فرقے جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا اور وہ ایک جنتی فرقہ اہلِ سنت وجماعت ہے۔ (صاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۱۱۸، ۳ / ۹۳۸)

{اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ:البتہ جن پر تمہارے رب نے رحم کیا۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ البتہ وہ لوگ جن پر تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ نے رحم کیا اور انہیں اختلاف سے بچا لیا تو وہ دینِ حق پر متفق رہیں گے اور اس میں اختلاف نہ کریں گے اور اللہ تعالیٰ نے لوگ اسی لیے یعنی اختلاف والے اختلاف کے لئے اور رحمت والے اتفاق کے لئے پیدا کئے ہیں اور تمہارے ربعَزَّوَجَلَّ کی بات پوری ہوچکی کہ وہ جہنم کوتمام کافر جنوں اور انسانوں سے بھر دے گا۔ (مدارک، ہود، تحت الآیۃ: ۱۱۹، ص۵۱۷)

وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَۚ-وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۱۲۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور سب کچھ ہم تمہیں رسولوں کی خبریں سناتے ہیں جس سے تمہا را دل ٹھہرائیں اور اس سورت میں تمہارے پاس حق آیا اور مسلمانوں کو پند و نصیحت ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور رسولوں کی خبروں میں سے ہم سب تمہیں سناتے ہیں جس سے تمہا رے دل کو قوت دیں اور اس سورت میں تمہارے پاس حق آیا اور مسلمانوں کے لئے وعظ و نصیحت (آئی)۔

{وَ كُلًّا:اور سب کچھ۔} اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے سابقہ امتوں کے واقعات اور ان کی طرف سے ان کے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جو کچھ پیش آیا وہ بیان فرمایا اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرما رہا ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم تمہیں رسولوں کی خبریں اور جو کچھ انہیں اپنی امتوں سے پیش آیا سناتے ہیں تاکہ ا س کے ذریعے ہم آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا دل مضبوط کریں اور ا س طرح انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے حالات اور ان کی امتوں کے سلوک دیکھ کر آپ کو اپنی قوم کی ایذا برداشت کرنا اور اس پر صبر فرمانا آسان ہو۔ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۱۲۰، ۲ / ۳۷۶)

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ والوں کے ذکر سے دل کو چین نصیب ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ انسان اپنی زندگی میں رونما ہونے والے طرح طرح کے واقعات اور حادثات کی وجہ سے بسا اوقات انتہائی مایوس ہو جاتا ہے حتّٰی کہ اگر کبھی کوئی خوشی بھی نصیب ہو تو اس سے دل میں خوشی پیدا ہونے یا اس خوشی کو محسوس کرنے کی بجائے اس کی اداسی میں اور اضافہ ہو جاتا ہے، ایسی صورتِ حال میں انسان کو ایسی چیز کی شدید ضرورت محسوس ہوتی ہیں جس سے اس کے دل کو قوت حاصل ہو اور حالاتِ زمانہ کا مقابلہ کرنا اس کے لئے آسان ہو اور دل کی تقویت کا ایک اہم ترین ذریعہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اور دیگر بزرگانِ دین کے حالات و واقعات کامطالعہ کرنا بھی ہے کیونکہ جب آدمی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کی مقبولیت اور مقام و مرتبہ دیکھے گا اور دنیا میں انہیں جو حالات پیش آئے اور جن مَصائب و مشکلات کا انہیں سامنا کرنا پڑا ان پر نظر کرے گا اور ا س کے مقابلے میں ان کے صبر و تحمل اور رضاءِ الہٰی پر راضی رہنے کے بارے میں غوروفکر کرے گا تو اس کے دل کو تسکین حاصل ہو گی اور اسے مَصائب و آلام کا سامنا کرنے میں دلی قوت حاصل ہو گی اور وہ ذہنی طور پر خود کو بہت پُرسکون محسوس کرے گا۔

{وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ:اور اس سورت میں تمہارے پاس حق آیا۔} اس آیت میں حق سے مراد توحید و رسالت اور قیامت کے وہ دلائل ہیں جنہیں اس سورت میں بیان کیا گیا۔ اور ’’مَوْعِظَةٌ‘‘ کا معنی ہے جس کے ذریعے نصیحت حاصل کی جائے ، یہاں اس سے مراد سابقہ امتوں کی ہلاکت کا بیان ہے جس کا ذکر اس سورت میں ہوا۔ اور ’’ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ‘‘  سے مراد یہ ہے کہ مسلمان سابقہ امتوں پر نازل ہونے والے عذاب کا سن کر اس سے عبرت حاصل کریں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے گناہوں سے توبہ کریں۔ مسلمانوں کا بطورِ خاص اس لئے ذکر کیا گیا کہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات سن کر مسلمان ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔(تفسیر کبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۱۲۰، ۶ / ۴۱۳، قرطبی، ہود، تحت الآیۃ: ۱۲۰، ۵ / ۸۱، الجزء التاسع، ملتقطاً)

وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْؕ-اِنَّا عٰمِلُوْنَۙ(۱۲۱) وَ انْتَظِرُوْاۚ-اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ(۱۲۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کافروں سے فرماؤ تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ ہم اپنا کام کرتے ہیں۔ اور راہ دیکھو ہم بھی راہ دیکھتے ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تم ایمان نہ لانے والوں سے فرماؤ : تم اپنی جگہ کام کئے جاؤ ،ہم اپنا کام کرتے ہیں۔ اور تم انتظار کرو، بیشک ہم بھی منتظر ہیں۔

{وَ قُلْ:اورتم فرماؤ ۔} اس آیت میں وعید اور غضب کا اظہار ہے اور آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ایمان نہ لانے والوں سے فرما دیں کہ جو کام تم کر رہے ہو وہ کئے جاؤ عنقریب تم ا س کام کا انجام جان جاؤ گے اور ہمیں ہمارے رب عَزَّوَجَلَّنے جس کام کا حکم دیا ہے ہم وہ کرتے ہیں۔ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۱۲۱، ۲ / ۳۷۷)

{وَ انْتَظِرُوْا:اور تم انتظار کرو ۔} یعنی تم ا س کا انتظار کرو جس کا شیطان نے تم سے وعدہ کیا ہے ہم بھی اس کے منتظر ہیں جو تم پر لازم ہو گایعنی دنیا یا آخرت میں اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کا عذاب ۔ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۱۲۲، ۲ / ۳۷۷)

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ فَاعْبُدْهُ وَ تَوَكَّلْ عَلَیْهِؕ-وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠(۱۲۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کے غیب اور اسی کی طرف سب کاموں کی رجوع ہے تو اس کی بندگی کرو اور اس پر بھروسہ رکھو اور تمہارا رب تمہارے کا موں سے غافل نہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور آسمانوں اور زمین کے غیب اللہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی طرف ہر کام لوٹایا جاتا ہے تو اس کی عبادت کرو اور اس پر بھروسہ رکھو اور تمہارا رب تمہارے کا موں سے غافل نہیں۔

{وَ لِلّٰهِ:اور اللہ ہی کے لیے ہیں۔} یعنی تمام چیزیں چاہے وہ خفیہ ہوں یا ظاہر، موجود ہوں یا معدوم سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں ، الغرض زمین و آسمان کی کوئی چیز اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں اور دنیا و آخرت میں مخلوق کا ہر کام اسی کی طرف لوٹتا ہے تو جس کی یہ شان ہے وہی عبادت کا مستحق ہے، اس کے سواا ور کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں ، لہٰذا تم اسی کی عبادت کرو، اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت میں مشغول نہ ہو اور اپنے تمام معاملات میں اسی پر بھروسہ کرو کیونکہ وہ تمہیں کافی ہے اور اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کا ربعَزَّوَجَلَّ بندوں کے تمام اَعمال سے خبردار

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن