دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

حاضر ہو کر عرض کی : یا رسولَ اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اس آدمی کا کیا حکم ہے جو ایک اجنبی عورت سے علیحدگی میں جماع کے سوا سب کچھ کرتا ہے؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ،پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اسے وضو کر کے نماز پڑھنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی :یا رسولَ اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیا یہ اس شخص کے ساتھ خاص ہے یا تمام مومنوں کے لئے ہے؟ نبیٔ  کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’نہیں ، بلکہ یہ تمام مومنوں کے لئے عام ہے۔ (ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ ہود، ۵ / ۷۹، الحدیث: ۳۱۲۴)

نیکیاں صغیرہ گناہوں کے لئے کفارہ ہوتی ہیں :

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ نیکیاں صغیرہ گناہوں کے لئے کفارہ ہوتی ہیں خواہ وہ نیکیاں نماز ہوں یا صدقہ یا ذکر و اِستغفار یا اور کچھ ۔  (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۱۱۴، ۲ / ۳۷۵)اَحادیث میں متعدد ایسے اعمال کا بیان جو صغیرہ گناہوں کے لئے کفارہ بنتے ہیں ، یہاں ان میں سے چند ایک بیان کئے جاتے ہیں۔

(1)…حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ پانچوں نمازیں اور جمعہ دوسرے جمعہ تک اور رمضان دوسرے رمضان تک یہ سب ان گناہوں کے لئے کفارہ ہیں جو ان کے درمیان واقع ہوں جب کہ آدمی کبیرہ گناہوں سے بچے ۔ (مسلم، کتاب الطہارۃ، باب الصلوات الخمس والجمعۃ الی الجمعۃ ورمضان الی رمضان مکفرات لما بینہنّ۔۔۔ الخ، ص۱۴۴، الحدیث: ۱۶(۲۳۳))

(2)…حضرت ابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبیٔ  کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جس نے رمضان کا روزہ رکھا اور اُس کی حدود کو پہچانا اور جس چیز سے بچنا چاہیے اُس سے بچا تو جو پہلے کر چکا ہے اُس کا کفارہ ہوگیا۔ (شعب الایمان، الباب الثالث والعشرون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فضائل شہر رمضان، ۳ / ۳۱۰، الحدیث: ۳۶۲۳)

(3)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے،حضور پُر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’عمرہ سے عمرہ تک اُن گناہوں کا کفارہ ہے جو درمیان میں ہوئے اور حجِ مَبرور کا ثواب جنت ہی ہے۔ (بخاری، کتاب العمرۃ، باب العمرۃ، وجوب العمرۃ وفضلہا، ۱ / ۵۸۶، الحدیث: ۱۷۷۳)

(4)…حضرت سِخْبَرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سیّد المرسَلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جس نے علم تلاش کیا تو یہ تلاش اس کے گزشتہ گناہوں کا کفارہ ہو گی۔ (ترمذی، کتاب العلم، باب فضل طلب العلم، ۴ / ۲۹۵، الحدیث: ۲۶۵۷)

فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْۚ-وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ(۱۱۶)وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ(۱۱۷)

ترجمۂ کنزالایمان: تو کیوں نہ ہوئے تم سے اگلی سنگتوں میں ایسے جن میں بھلائی کا کچھ حصہ لگا رہا ہوتا کہ زمین میں فساد سے روکتے ہاں ان میں تھوڑے تھے وہی جن کو ہم نے نجات دی اور ظالم اسی عیش کے پیچھے پڑے رہے جو انہیں دیا گیا اور وہ گنہگار تھے۔ اور تمہارا رب ایسا نہیں کہ بستیوں کو بے وجہ ہلاک کردے اور ان کے لوگ اچھے ہوں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: توتم سے پہلی گزری ہوئی قوموں میں سے کچھ ایسے فضیلت والے لوگ کیوں نہ ہوئے جو زمین میں فساد کرنے سے منع کرتے البتہ ان میں تھوڑے سے ایسے تھے جنہیں ہم نے نجات دی اور ظالم لوگ اسی عیش و عشرت کے پیچھے پڑے رہے جو انہیں دیا گیا اور وہ مجرم تھے۔ اور تمہارا رب ایسا نہیں کہ بستیوں کوبلا وجہ ہلاک کردے حالانکہ ان کے رہنے والے اچھے لوگ ہوں۔

{فَلَوْ لَا كَانَ:تو کیوں نہ ہوئے۔} اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے گزشتہ امتوں پر جڑ سے اکھاڑ دینے والے عذابات نازل ہونے کا بیان فرمایا اور ا س آیت میں یہ بیان فرمایا کہ ان عذابات کے نازل ہونے کا سبب دو چیزیں تھیں۔(1) ان میں کوئی ایسا نہیں تھا جو انہیں فساد سے منع کرتا۔ (2) اپنے برے اعمال یعنی شرک اور کفر وغیرہ سے رجوع نہ کرنا۔ (صاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۱۱۶، ۳ / ۹۳۷)  آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے میرے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی امت! تم سے پہلی امتوں میں سے جنہیں ہم نے ہلاک کر دیا تھا وہ کچھ ایسے فضیلت والے نہیں ہوئے جو لوگوں کو زمین میں فساد کرنے سے روکتے اور انہیں گناہوں سےمنع کرتے ، اسی لئے ہم نے انہیں ہلاک کردیا البتہ ان سابقہ امتوں میں تھوڑے سے ایسے تھے جنہیں ہم نے نجات دی اور وہ لوگ انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لائے اوران کے اَحکام پر عمل کرتے اور لوگوں کو فساد سے روکتے رہے   جبکہ ظالم لوگ اسی عیش و عشرت کے پیچھے پڑے رہے جو انہیں دیا گیا اور وہ نعمتوں ،لذتوں ، خواہشات اور شَہوات کے عادی ہوگئے ، کفر اورگناہوں میں ڈوبے رہے اور وہ مجرم تھے۔  (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۱۱۶، ۲ / ۳۷۵، ملخصاً)

            ’’اُولُوْا بَقِیَّةٍ‘‘ سے مراد علماء ِربانی ہیں ،مقصدیہ ہے کہ گزشتہ قوموں کی عام گمراہی کا باعث یہ ہوا کہ ان میں علماءِ ربانی نہ رہے، اگر وہ رہتے تو اس طرح گمراہی نہ پھیلتی۔ عوام اس لئے مجرم تھے کہ بدکاریاں کرتے تھے اور علماء اس لئے مجرم تھے کہ انہیں منع نہ کرتے تھے۔ اس آیت سے دو باتیں واضح ہوئیں کہ نیکی کی دعوت دینا اور گناہوں سے روکنا علماء کا منصب ہے ، اگر وہ یہ فریضہ سرانجام نہ دیں گے تو وہ بھی مجرم اور مستحقِ عذاب ہوں گے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ شروع سے اب تک یہی ہوتا آیا ہے کہ زیادہ تر مال و دولت والے ہی غفلت میں پڑتے ہیں ، اس لئے عمومی طورپر مالدار لوگوں میں دینداروں کی کمی ہوتی ہے۔

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَۙ(۱۱۸) اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَؕ-وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْؕ-وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَــٴَـنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ(۱۱۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اگرتمہارا رب چاہتا تو سب آدمیوں کو ایک ہی امت کردیتا اور وہ ہمیشہ اختلاف میں رہیں گے۔ مگر جن پر تمہارے رب نے رحم کیا اور لوگ اسی لیے بنائے ہیں اور تمہارے رب کی بات پوری ہوچکی کہ بیشک ضرور جہنم بھر دوں گا جنوں اور آدمیوں کو ملا کر۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگرتمہارا رب چاہتا تو سب آدمیوں کو ایک ہی امت بنادیتا اور لوگ ہمیشہ اختلاف میں رہیں گے۔ البتہ جن پر تمہارے رب نے رحم کیا اور اللہ نے انہیں اسی کے لئے پیدا فرمایا ہے اور تمہارے رب کی بات پوری ہوچکی کہ بیشک میں ضرور جہنم کو جنوں اور انسانوں سے ملا کربھر دوں گا۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن