30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر ثابت قدم رہے تو نہ ان پر خوف ہے اورنہ وہ غمگین ہوں گے۔وہ جنت والے ہیں ، ہمیشہ اس میں رہیں گے ، انہیں ان کے اعمال کابدلہ دیا جائے گا۔
ترغیب کے لئے ہم یہاں چند وہ اَسباب ذکر کرتے ہیں جن کی وجہ سے بندہ دینِ اسلام پرثابت قدم رہتا ہے اور چند وہ چیزیں بیان کرتے ہیں جو دینِ اسلام پر ثابت قدمی سے مانع ہیں ، چنانچہ دینِ اسلام پر ثابت قدمی کے چند اسباب یہ ہیں : (1) علمِ دین حاصل کرنا۔ (2) کثرت سے مسجد میں حاضر ہونا۔ (3) زبان کی حفاظت کرنا۔ (4) کفر اور گناہوں سے بچنا۔ (5) کافروں ، بد مذہبوں اور فاسق و فاجر لوگوں سے تعلقات نہ رکھنا۔ (6) نفسانی خواہشات کی پیروی سے بچنا۔ (7) مصائب و آلام اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی آزمائشوں پر صبر کرنا۔ (8) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا۔ (9) لمبی امیدیں نہ رکھنا۔ (10) اور دنیا میں زہد و قناعت اختیار کرنا وغیرہ ،
اس کے برعکس ایمان و عمل پر ثابت قدمی سے رکاوٹ بننے والی چند چیزیں یہ ہیں۔ (1) علمِ دین سے بہرہ ور نہ ہونا۔ (2) مسجد میں حاضر ہونے سے کترانا۔ (3) زبان کی حفاظت نہ کرنا۔ (4) کفر اور گناہوں کے ذریعے اپنی جانوں پر ظلم کرنا۔ (5) کافروں بد مذہبوں اور فاسق و فاجر لوگوں کی صحبت اختیار کرنا۔ (6) نفسانی خواہشات کی لذت حاصل کرنے کی حرص ہونا۔ (7) مصائب وآلام اور آزمائشوں پر صبر نہ کرنا۔ (8) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا۔ (9) لمبی امیدیں رکھنا۔ (10) اور دنیا میں رغبت رکھنا وغیرہ۔
حضرت عبداللہ بن حُذافہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی اسلام پر اِستقامت:
حضر ت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کرتے ہیں کہ’’ روم کی جنگ میں دوسرے مسلمانوں کے ساتھ صحابی ٔرسول حضرت عبداللہ بنحُذَافَہ سَہْمِیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بھی قید کرلیا گیا۔ رومی سردار نے تمام مسلمانوں کو اپنے دربار میں بلایا اور حضرت عبداللہ بنحُذَافَہ سَہْمِیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے کہا: نصرانی ہوجاؤ، ورنہ میں تمہیں تانبے کی دیگ میں ڈال کر جلادوں گا۔ یہ سن کرآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے جواب دیا ’’ ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا، میں کبھی بھی نصرانی نہیں بنوں گا۔ ظالم سردار نے جب یہ سنا تو تانبے کی دیگ منگواکر اس میں تیل ڈلوایا، پھر اس کے نیچے آگ جلانے کا حکم دیا۔ جب تیل خوب گرم ہوکرابلنے لگا تو ایک مسلمان قیدی کو بلاکر کہا: نصرانی ہوجاؤ، اس مردِ مجاہدنے انکار کیا تو اسے ابلتے ہوئے تیل میں ڈلوا دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کا سارا گوشت جل گیا اور ہڈیاں اوپر تیرنے لگیں۔ پھر حضر ت عبداللہ بن حُذَافَہ سَہْمِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے کہا گیا: عیسائی ہوجاؤ، ورنہ اس شخص کی طرح تمہیں بھی اس ابلتے ہوئے تیل میں ڈال دیا جائے گا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے صاف انکار کردیا۔ ظالم سردار نے حکم دیا کہ اسے بھی تیل کی دیگ میں ڈال دو۔ حکم پاتے ہی جلاد وں نے آپ کو پکڑا اور ابلتے ہوئے تیل میں ڈالنے کے لئے لے چلے ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اچانک رونا شروع کردیا۔ جلاد ،ظالم سردار کے پاس آئے اور بتایا کہ وہ قیدی رو رہا ہے ۔سردار بہت خوش ہوا اور حکم دیا کہ اسے ہمارے پاس لے آؤ۔ وہ یہ سمجھ رہا تھا کہ شاید آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ موت کے ڈر سے اس کی بات ماننے کے لئے تیار ہو گئے ہیں۔ جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اس کے سامنے آئے تو فرمایا ’’کیا تم لوگ یہ سمجھ رہے ہوکہ میں موت کےخوف سے رو رہا ہوں۔ خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! میں موت کے خوف سے نہیں بلکہ میں تو اس لئے رو رہا ہوں کہ میرے جسم میں صرف ایک جان ہے جو میں دینِ اسلام کے لئے قربان کر رہا ہوں ، مجھے تو یہ پسند تھا کہ میرے جسم میں اگر سوجانیں ہوتیں توایک ایک کر کے سب کو اللہ عَزَّوَجَلَّکے نام پر قربان کر دیتا۔ سردار آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی یہ ایمان افروز تقریر سن کر بہت متعجب ہوا کہ ان کے اندر اپنے دین کی کتنی محبت ہے اور یہ خوشی سے دین کی خاطر اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیار ہے ۔ سردار نے لالچ دیتے ہوئے کہا :اگر تم نصرانی ہوجاؤ تو میں اپنی بیٹی کی شادی تم سے کردوں گا اور حکومت میں بھی تمہیں حصہ دوں گا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس کی یہ پیش کش بھی ٹھکرا دی اور صاف انکار کردیا۔ پھر اس نے کہا: اچھا اس طرح کرو کہ تم میرے سرپر بوسہ دو اگر تم یہ کروگے تو میں تمہیں بھی آزاد کر دوں گا اور تمہارے ساتھ تمہارے 80 مسلمان قیدیوں کو بھی آزاد کردوں گا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا ’’ اگر واقعی تم ایسا کرو گے تو میں تمہارے سر کو بوسہ دینے کے لئے تیار ہوں۔ سردار نے یقین دہانی کرائی کہ میں اپنی بات ضرور پوری کروں گا ۔ چنانچہ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مسلمانوں کی آزادی کی خاطر اس ظالم کے سر کا بوسہ لیا۔ سردار نے حسبِ وعدہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اور 80 مسلمان قیدیوں کو آزاد کردیا۔ جب یہ تمام مجاہدین امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بارگاہ میں پہنچے تو امیر المؤمنین آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو دیکھ کر کھڑے ہوگئے اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے سر کا بوسہ لیا اور بہت خوش ہوئے۔ (عیون الحکایات، الحکایۃ السابعۃ والاربعون بعد المائتین، ص۲۳۶-۲۳۷)
وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ-وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ(۱۱۳)
ترجمۂ کنزالایمان:اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی حما یتی نہیں پھر مدد نہ پاؤ گے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور ظالموں کی طرف نہ جھکوورنہ تمہیں آگ چھوئے گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی حما یتی نہیں پھر تمہاری مدد نہیں کی جائے گی۔
{وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا:اور ظالموں کی طرف نہ جھکو۔} رُکون یعنی جھکنے کا معنی ہے قلبی میلان اور جب اس پر اتنی سخت وعید ہے تو کافروں کے ساتھ تعلقات کی اُن صورتوں میں کیا حال ہو گا جو قلبی میلان سے بڑھ کر ہیں۔یاد رہے کہ طبعی میلان کی غیر اختیاری صورت اس آیت میں بیان کئے گئے حکم میں داخل نہیں ، چنانچہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے فرمان کا خلاصہ ہے کہ ’’مگر طبعی میلان جیسے ماں باپ، اولاد یا خوبصورت بیوی کی طرف ہوتا ہے، اس کی جو صورت غیر اختیاری ہو وہ اس حکم کے تحت داخل نہیں ، پھر بھی اس تصور سے کہ یہ اللہ و رسول کے دشمن ہیں ان سے دوستی حرام ہے اور اپنی قدرت کے مطابق اُسے دبانا یہاں تک کہ بن پڑے تو فنا کردینا لازم ہے ۔ (میلان کا) آنا بے اختیار تھا اور (اس کا) جانا یعنی اسے زائل کرنا قدرت میں ہے تو (اس میلان کو) رکھنا اختیار موالات ہوا اور یہ حرام قطعی ہے ، اسی وجہ سے جس غیر اختیاری (میلان) کے مبادی (یعنی ابتدائی افعال) اس نے باختیار پیدا کئے تو اس میں معذورنہ ہوگا، جیسے شراب کہ اس سے عقل زائل ہوجانا اس کا اختیاری نہیں مگر جبکہ اختیار سے پی تو عقل کا زائل ہو جانا اور اس پر جو کچھ مرتب ہو سب اسی کے اختیار سے ہوا۔ (فتاویٰ رضویہ، ۱۴ / ۴۶۵-۴۶۶)
خدا کے نافرمانوں سے تعلقات کی ممانعت:
اس سے معلوم ہوا کہ خدا کے نافرمانوں کے ساتھ یعنی کافروں ، بے دینوں ، گمراہوں اور ظالموں کے ساتھ بلاضرورت میل جول ،رسم و راہ، قلبی میلان اور محبت، ان کی ہاں میں ہاں ملانا اور ان کی خوشامد میں رہنا ممنوع ہے۔ ظالموں کے بارے میں امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’(ظالموں کے ساتھ عملی طور پر تعاون تو ظاہر ہے اور) زبانی طور پر تعاون یہ ہے کہ وہ ظالم کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع