30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عبادت کرتے تھے اسی طرح یہ بھی بتوں کی عبادت کر رہے ہیں اور تمہیں معلوم ہوچکا کہ ان لوگوں کا کیا انجام ہوا اور عنقریب انہیں بھی ان کے جیسے انجام کا سامنا ہو گا اور بیشک ہم انہیں ان کے عذاب کا پورا پوراحصہ دیں گے جس میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ (تفسیر ابو سعود، ہود، تحت الآیۃ: ۱۰۹، ۳ / ۷۰، صاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۱۰۹، ۳ / ۹۳۴، ملتقطاً)
دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،آپ ہر اس شخص سے فرما دیں جسے ان بتوں کی عبادت کرنے والوں کے بارے میں یہ شک ہو کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بت پرستی کا حکم دیا ہے،اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر گز بت پرستی کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ جس طرح ان کے باپ دادا بتوں کی پوجا کرتے رہے ہیں اسی طرح یہ لوگ بھی ان کی پیروی کرتے ہوئے بتوں کی پوجا کر رہے ہیں ، بے شک ہم انہیں ان کے عذاب کا پورا پورا حصہ دیں گے جس میں کوئی کمی نہ ہو گی۔ (قرطبی، ہود، تحت الآیۃ: ۱۰۹، ۵ / ۷۲، الجزء التاسع)
وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِؕ-وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْؕ-وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ(۱۱۰)
ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں پھوٹ پڑگئی اگر تمہارے رب کی ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی تو جبھی ان کا فیصلہ کردیا جاتا اور بیشک وہ اس کی طرف سے دھوکہ ڈالنے والے شک میں ہیں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تواس میں اختلاف کیا گیا اوراگر تمہارے رب کی ایک بات پہلے طے نہ ہوچکی ہوتی تو ان کا فیصلہ کردیا جاتا اور بیشک وہ لوگ اس کی طرف سے دھوکے میں ڈالنے والے شک میں ہیں۔
{وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ:اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،جس طرح آپ کی قوم نے قرآن کے ساتھ کیا کہ بعض اس پر ایمان لائے اور بعض نے اس کا انکار کیا اسی طرح حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم نے ان پر ہماری نازل کردہ کتاب تورات کے ساتھ کیا تھا کہ ان میں سے بعض نے تورات کی تصدیق کی اور بعض نے کفر کیا۔اے حبیب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،یہ اپنے کفر اور تکذیب کی بنا پر دنیا میں ہی جس عذاب کے جلدی حقدار تھے وہ عذاب اگر آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن تک کیلئے ان سے مؤخر نہ فرما چکا ہوتا تو دنیا میں ہی ان کی ہلاکت کا فیصلہ کر دیاجاتا۔ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۱۱۰، ۲ / ۳۷۳)
وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْؕ-اِنَّهٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱۱)
ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک جتنے ہیں ایک ایک کو تمہارا رب اس کا عمل پورا بھردے گا اسے ان کے کاموں کی خبر ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ان سب کو تمہارا رب ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ بیشک وہ ان کے تمام اعمال سے خبردار ہے۔
{وَ اِنَّ كُلًّا:اور بیشک ان سب کو۔} یعنی تصدیق کرنے والے ہوں یا تکذیب کرنے والے، ان سب کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کے اَعمال کی پوری پوری جزا دے گا ،تصدیق کرنے والوں کو ان کی تصدیق کی بنا پر جنت ملے گی اور انکار کرنے والوں کو ان کے انکار کی وجہ سے جہنم نصیب ہو گی ،بیشک اللہ تعالیٰ ان کے تمام اعمال سے خبردار ہے اور اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ اس آیت میں نیکیاں کرنے والوں اور تصدیق کرنے والوں کے لئے تو بشارت ہے کہ وہ نیکی کی جزا پائیں گے نیزکافروں اور تکذیب کرنے والوں کے لئے وعید ہے کہ وہ اپنے عمل کی سزا میں گرفتار ہوں گے۔ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۱۱۱، ۲ / ۳۷۳)
فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْاؕ-اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(۱۱۲)
ترجمۂ کنزالایمان: تو قائم رہو جیسا تمہیں حکم ہے اور جو تمہارے ساتھ رجوع لایا ہے اور اے لوگو سرکشی نہ کرو بیشک وہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو تم ثابت قدم رہو جیسا تمہیں حکم دیا گیا ہے اور جو تمہارے ساتھ رجوع کرنے والا ہے اور اے لوگو! تم سرکشی نہ کرو بیشک وہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔
{فَاسْتَقِمْ:تو تم ثابت قدم رہو۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اپنے رب عَزَّوَجَلَّکے دین پر عمل کرنے اور اس کے دین کی دعوت دینے پر ایسے ثابت قدم رہیں جیسے آپ کے ربعَزَّوَجَلَّ نے آپ کو حکم دیا ہے اور آپ کی امت میں سے جو آپ پر ایمان لایا ہے اسے بھی چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے اَحکام کی بجا آوری پر ثابت قدم رہے۔ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۱۱۲، ۲ / ۳۷۳)
حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے عرض کی ’’ مجھے دین میں ایک ایسی بات بتادیجئے کہ پھر کسی سے دریافت کرنے کی حاجت نہ رہے ۔ ارشاد فرمایا ’’ اٰمَنْتُ بِاللہِ(میں اللہ پر ایمان لایا)‘‘ کہہ اور ا س پر قائم رہ۔ (مسلم، کتاب الایمان، باب جامع اوصاف الاسلام، ص۴۰، الحدیث: ۶۲(۳۸))
{وَ لَا تَطْغَوْا:اور اے لوگو!تم سرکشی نہ کرو۔} یعنی اے لوگو! جس کام سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں منع کیا ہے وہ نہ کرو، تمہارے اچھے برے سارے اعمال اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں اور اس سے تمہارا کوئی عمل بھی پوشیدہ نہیں تو اے لوگو! تم اس بات سے ڈرو کہ تمہارا ربعَزَّوَجَلَّ تمہارے اعمال جانتا ہے جبکہ حال یہ ہے کہ تم اس کے حکم کی خلاف ورزی کر رہے ہو۔ (تفسیر طبری، ہود، تحت الآیۃ: ۱۱۲، ۷ / ۱۲۳)
دینِ اسلام پر ثابت قدمی کی ترغیب:
ایمان اور احکامِ اسلام پر ثابت قدمی نہایت ضروری ہے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
’’اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ‘‘(حم السجدۃ:۳۰)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:بیشک جنہوں نے کہا :ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر ثابت قدم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ تم نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور اس جنت پر خوش ہوجاؤجس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ۔
اور ارشاد فرماتا ہے:
’ ’اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ‘‘ (احقاف۱۳،۱۴)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع