30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{وَ مَا نُؤَخِّرُهٗ:اور ہم اسے پیچھے نہیں ہٹاتے ۔} یعنی ہم قیامت کے دن کو اس لئے مؤخر کر رہے ہیں تا کہ وہ مدت پوری ہو جائے جو ہم نے دنیا باقی رہنے کے لئے مقرر فرمائی ہے۔ (مدارک، ہود، تحت الآیۃ: ۱۰۴، ص۵۱۳)
{یَوْمَ یَاْتِ:جب وہ دن آئے گا۔} یعنی جب قیامت کا دن آئے گا توہر مخلوق خاموش ہوگی، اس دن کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کلام نہ کر سکے گا۔ یاد رہے کہ قیامت کا دن بہت طویل ہوگا اوراس میں مختلف حالات ہوں گے بعض حالات میں تو ہیبت کی شدت کی وجہ سے کسی کو اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر بات زبان پر لانے کی قدرت نہ ہوگی اور بعض حالات میں اجازت دی جائے گی کہ لوگ اجازت سے کلام کریں گے اور بعض حالات میں گھبراہٹ ا ور دہشت کم ہوگی تو اُس و قت لوگ اپنے معاملات میں جھگڑیں گے اور اپنے مقدمات پیش کریں گے۔ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۱۰۵، ۲ / ۳۷۱، ملخصاً)
{فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ:تو ان میں کوئی بدبخت ہوگا اور کوئی خوش نصیب ہوگا۔} قیامت کے دن لوگ دو طرح کے ہوں گے (1) بدبخت۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جن پر وعید کے مطابق جہنم واجب ہو گی۔ (2) خوش نصیب۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کے لئے وعدے کے مطابق جنت واجب ہو گی۔ (بیضاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۱۰۵، ۳ / ۲۶۲)
دنیا میں بھی سعادت اور بد بختی کی کئی علامات علماء نے بیان فرمائی ہیں ، ان میں سے سعادت کی پانچ علامتیں یہ ہیں (1) دل کی نرمی۔ (2) کثرت سے آنسو بہانا۔ (3) دنیا سے نفرت۔ (4) امیدوں کا چھوٹا ہونا۔ (5) حیا۔ اور بدبختی کی پانچ علامتیں یہ ہیں۔(1) دل کی سختی۔ (2) آنکھ کی خشکی یعنی آنسونہ بہانا۔ (3) دنیا کی رغبت۔ (4) لمبی امیدیں۔ (5) بے حیائی۔ (روح البیان، ہود، تحت الآیۃ: ۱۰۵، ۴ / ۱۸۷، ملخصاً)
ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنی حالت پر غور کرے ،اگر اسے اپنے اندر سعادت کی علامات نظر آئیں تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے ان پر قائم رہنے کی بھرپور کوشش کرے اور اگر بدبختی کی علامات نظر آئیں تو اپنے بارے میں اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے ڈرے اور ان علامات کو ختم کرنے کی پوری کوشش کرے۔
فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ(۱۰۶) خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَؕ-اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ(۱۰۷)وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَؕ-عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ(۱۰۸)
ترجمۂ کنزالایمان: تو وہ جو بدبخت ہیں وہ تو دوزخ میں ہیں وہ اس میں گدھے کی طرح رینکیں گے۔وہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان و زمین رہیں مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا بیشک تمہارا رب جب جو چاہے کرے۔اور وہ جو خوش نصیب ہوئے وہ جنت میں ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان و زمین رہیں مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا یہ بخشش ہے کبھی ختم نہ ہوگی۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو جو بدبخت ہوں گے وہ تو دوزخ میں ہوں گے، وہ اس میں گدھے کی طرح چلائیں گے۔وہ اس میں تب تک رہیں گے جب تک آسمان و زمین رہیں گے مگر جو تمہارا رب چاہے بیشک تمہارا رب جو چاہتا ہے وہی کرنے والا ہے۔ اور وہ جو خوش نصیب ہوں گے وہ جنت میں ہوں گے۔ ہمیشہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان و زمین رہیں گے مگر جو تمہارا رب چاہے یہ ایسی بخشش ہے جو کبھی ختم نہ ہوگی ۔
{فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا:تو جو بدبخت ہوں گے۔} یعنی جن پر بدبختی غالب آ گئی اور ان کے لئے جہنم کا فیصلہ کر دیا گیا تو وہ جہنم میں رہیں گے اور جہنم میں ان کا حال یہ ہو گا کہ وہ گدھے کی طرح چلائیں گے۔ (روح البیان، ہود، تحت الآیۃ: ۱۰۶، ۴ / ۱۸۸)
{خٰلِدِیْنَ فِیْهَا:وہ اس میں رہیں گے۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے جہنم میں قیام کو زمین و آسمان کے قائم رہنے کی مدت پر معلق کیا، لیکن ا س کا یہ مطلب نہیں کہ جس طرح زمین و آسمان کا قائم رہنا ہمیشہ کے لئے نہیں بلکہ وقتی اور عارضی ہے اسی طرح کفار کا جہنم میں رہنا بھی ہمیشہ کے لئے نہ ہو گا کیونکہ قرآنِ پاک کی دیگر کئی آیات سے کفار و مشرکین کی مغفرت نہ ہونا اور ان کا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جہنم میں رہنا ثابت ہے ،جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے
’’اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ‘‘ (النسا :۴۸)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہتا ہے معاف فرمادیتا ہے۔
اور ارشاد فرمایا
’’اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓىٕكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ(۱۶۱) خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۚ-لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ‘‘(البقرہ: ۱۶۱، ۱۶۲)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور کافر ہی مرے ان پراللہ اور فرشتوں او ر انسانوں کی ،سب کی لعنت ہے ۔ وہ ہمیشہ اس (لعنت) میں رہیں گے، ان پر سے عذاب ہلکا نہ کیا جائے گا اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی۔
ایک مقام پر ارشاد فرمایا:
’’اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِؕ-وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ‘‘ (اعراف:۴۰)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:بیشک وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان کے مقابلے میں تکبر کیا توان کے لیے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے حتّٰی کہ سوئی کے سوراخ میں اونٹ داخل ہو جائے اور ہم مجرموں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع