دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

کے نقصان میں ہی اضافہ کیا۔

{وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ:اور ہم نے ان پر ظلم نہ کیا ۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ ہم نے انہیں عذاب اور ہلاکت میں مبتلا کر کے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ کفر اور گناہوں کا اِرتکاب کر کے انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ کسی قوم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب نازل ہو تو وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ظلم نہیں بلکہ عدل اور انصاف ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے قوم کفر اور گناہوں میں مبتلاہو کر اپنی جانوں پر ظلم کرتی ہے پھر ان برے اَعمال کی وجہ سے اپنے اوپر اس عذاب کو لازم کر لیتی ہے ۔ (تفسیر کبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۶ / ۳۹۶)

{وَ مَا زَادُوْهُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ:اور انہوں نے ان کے نقصان میں ہی اضافہ کیا۔} بتوں کے بارے میں کفار کا عقیدہ یہ تھا کہ وہ بت نفع پہنچانے میں اور نقصان دور کرنے میں ان کی مدد کرتے ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ جب کافروں کو مدد کی ضرورت ہو گی تو اس وقت یہ بت نہ تو انہیں کوئی فائدہ پہنچا سکیں گے اور نہ کوئی مصیبت ان سے دور کر سکیں گے،چنانچہ جب وہ اپنے عقیدے کوحقیقت کے خلاف پائیں گے تو اس وقت ان کا یہ عقیدہ ختم ہو جائے گا لیکن تب اس عقیدے کو چھوڑنے کا کوئی فائدہ نہ ہو گا ،یوں دنیا اور آخرت دونوں ہی جگہ وہ خسارے کا شکار ہوں گے۔ (تفسیر کبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۶ / ۳۹۶)

وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌؕ-اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ(۱۰۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ایسی ہی پکڑ ہے تیرے رب کی جب بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے ظلم پر بیشک اس کی پکڑ دردناک کرّی ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور تیرے رب کی گرفت ایسی ہی ہوتی ہے جب وہ بستیوں کو پکڑتا ہے جبکہ وہ بستی والے ظالم ہوں بیشک اس کی پکڑ بڑی شدید دردناک ہے ۔

{وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ:اور تیرے رب کی گرفت ایسی ہی ہوتی ہے۔} اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو خبر دی کہ گزشتہ انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی امتوں نے جب اپنے رسولوں کی نافرمانی کی تو ان پر اللہ تعالیٰ کا ایسا عذاب نازل ہوا جس نے انہیں جڑسے اکھاڑ کررکھ دیا اور چونکہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا اس لئے دنیا میں ہی ان پر عذاب آیا اور اس آیت میں یہ بیان فرمایا کہ وہ عذاب گزشتہ قوموں کے ساتھ ہی خاص نہیں تھا بلکہ اب بھی جو کوئی ان کی طرح ظلم کرے گا تو اس پر بھی ویسا ہی عذاب نازل ہو گا۔ (تفسیر کبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۶ / ۳۹۶)

ظالموں کو نصیحت:

            علامہ صاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ ہر ظلم کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ اپنے ظلم سے توبہ کرے اور ظلم کرنا چھوڑ دے نیز جس کا جو حق مارا ہووہ اسے لوٹا دے تاکہ وہ اس عظیم وعید میں داخل نہ ہو کیونکہ یہ آیت گزشتہ امتوں کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہر ظالم کو عام ہے، البتہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی امت پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی وجہ سے ایسا عذاب نازل نہ ہو گا کہ جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت کو جڑسے اکھاڑ کر رکھ دے۔( صاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۳ / ۹۳۱)

{اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ:بیشک اس کی پکڑ بڑی شدید دردناک ہے ۔} حضرت ابو موسیٰ اشعری  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بے شک اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے اور جب اس کی پکڑ فرما لیتا ہے تو پھر اسے مہلت نہیں دیتا۔ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے یہ آیت تلاوت فرمائی

’’وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌؕ-اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ‘‘

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور تیرے رب کی گرفت ایسی ہی ہوتی ہے جب وہ بستیوں کو پکڑتا ہے جبکہ وہ بستی والے ظالم ہوں بیشک اس کی پکڑ بڑی شدید دردناک ہے ۔ (بخاری، کتاب التفسیر، باب وکذلک اخذ ربّک اذا اخذ القری۔۔۔ الخ، ۳ / ۲۴۷، الحدیث:  ۴۶۸۶)

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِؕ-ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌۙ-لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ(۱۰۳)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اس میں نشانی ہے اس کے لیے جو آخرت کے عذاب سے ڈرے وہ دن ہے جس میں سب لوگ اکٹھے ہوں گے اور وہ دن حاضری کا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اس میں اُس کیلئے نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرے۔ وہ ایسا دن ہے جس میں سب لوگ اکٹھے ہوں گے اور وہ دن ایسا ہے جس میں ساری مخلوق موجود ہوگی۔

{اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً:بیشک اس میں نشانی ہے۔} یعنی گزشتہ امتوں کے عذابات اور ان کی ہلاکت کا جو ذکر ہوا اس میں عبرت اور نصیحت ہے اور ان کی ہلاکت و بربادی سے عبرت اور نصیحت وہی حاصل کرے گا جو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرے اور قیامت کے دن ا س کے عذاب سے خوفزدہ ہو کیونکہ جب وہ اس بات میں غورو فکر کرے گا کہ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ امتوں کے کفار پر دنیا میں ہی دردناک عذاب نازل فرمایا اور انہیں بڑی سخت سزا دی اور دنیا کا عذاب گویا کہ آخرت میں کفار کیلئے تیار کئے گئے عذاب کا ایک نمونہ ہے تو اس کے دل میں مزید اللہ تعالیٰ کا ڈر اور خوف پیدا ہو گا۔ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ۲ / ۳۷۰)

{ذٰلِكَ یَوْمٌ: وہ ایسا دن ہے۔} یعنی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کو ان کی قبروں سے اٹھائے گا اور حشر کے میدان میں سب کو حساب و کتاب، ثواب اور عذاب کیلئے جمع فرمائے گا اورا س دن ہر مخلوق حاضر ہوگی، ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہ سکے گا، اس دن اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کو سزا دے گا جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی،اس کے حکم کی مخالفت کی اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی ہوگی۔(تفسیر طبری، ہود، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ۷ / ۱۱۲)

وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ(۱۰۴) یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖۚ-فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ(۱۰۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم اسے پیچھے نہیں ہٹاتے مگر ایک گنی ہوئی مدت کے لئے۔جب وہ دن آئے گا کوئی بے حکمِ خدا بات نہ کرے گا تو ان میں کوئی بدبخت ہے اور کوئی خوش نصیب۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم اسے پیچھے نہیں ہٹاتے مگر ایک گنی ہوئی مدت کے لئے۔جب وہ دن آئے گا توکوئی شخص اللہ کے حکم کے بغیر کلام نہ کرسکے گا تو ان میں کوئی بدبخت ہوگا اور کوئی خوش نصیب ہوگا۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن