دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

{قَالُوْا:انہوں نے کہا۔} جب حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے مدین والوں کو سمجھانے کیلئے زیادہ گفتگو فرمائی تو انہوں نے جواب دیا کہ اے شعیب! عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، آپ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کرنے ، صرف اسی کی عبادت کرنے اور ناپ تول میں کمی حرام ہونے کی جو باتیں کر رہے ہیں اور ان باتوں پر جو دلائل دے رہے ہیں یہ ہماری سمجھ میں نہیں آتے نیز بیشک ہم تمہیں اپنے درمیان کمزور دیکھتے ہیں کہ اگر ہم آپ کے ساتھ کچھ زیادتی و ظلم کریں تو آپ میں دفاع کرنے کی طاقت نہیں۔ اگر آپ کا قبیلہ ہمارے دین پر ہونے کی وجہ سے ہم میں عزت دار نہ ہوتا تو ہم پتھر مار مار کر آپ کو قتل کر دیتے اور تم ہمارے نزدیک کوئی معزز آدمی نہیں ہو۔(بیضاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۹۱، ۳ / ۲۵۶-۲۵۷)

            ہمارے زمانے کے وہ لوگ جنہیں اسلام کے اَحکام پر کوفت ہوتی ہے کہ کسی کو سود کی حرمت ہضم نہیں ہوتی اور کسی کو پردے کی پابندی وبالِ جان لگتی ہے اور کسی کو حقوق اللہ کی ادائیگی اور عبادات کی پابندی پر مذاق سوجھتا ہے، ایسے لوگوں کو اپنے اَقوال و اَفعال کوقومِ شعیب کے بیان کردہ جملوں کے ساتھ ملا کر دیکھ لینا چاہیے کہ کیا یہ اسی کافر قوم کے نقشِ قدم پر نہیں چل رہے۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَهْطِیْۤ اَعَزُّ عَلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِؕ-وَ اتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِیًّاؕ-اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ(۹۲)

ترجمۂ کنزالایمان: کہا اے میری قوم کیا تم پر میرے کنبہ کا دباؤ اللہ سے زیادہ ہے اور اسے تم نے اپنی پیٹھ کے پیچھے ڈال رکھا بیشک جو کچھ تم کرتے ہو سب میرے رب کے بس میں ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: شعیب نے فرمایا: اے میری قوم ! کیا تم پر میرے قبیلے کا دباؤ اللہ سے زیادہ ہے اور اسے تم نے اپنی پیٹھ کے پیچھے ڈال رکھا ہے بیشک میرا رب تمہارے تمام اعمال کو گھیرے ہوئے ہے۔

{قَالَ:فرمایا۔} جب مدین والوں نے حضرت شعیبعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو قتل کر دینے اور اذیت پہنچانے سے ڈرایا اور کہا کہ ہم صرف آپ کے قبیلے کی وجہ سے آپ کو کچھ نہیں کہہ رہے توآپ نے انہیں جواب دیا ’’اے میری قوم! کیا تم پر میرے قبیلے کا دباؤ اللہ تعالیٰ سے ز یادہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے تو تم میرے قتل سے باز نہ رہے جبکہ میرے قبیلے کی وجہ سے باز رہے اور تم نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نبی کا تو احترام نہ کیا جبکہ قبیلے کا احترام کیا۔ تم نے اللہ عَزَّوَجَلَّکے حکم کو اپنی پیٹھ پیچھے ڈال رکھا ہے اور اس کے حکم کی تمہیں کوئی پرواہ نہیں۔ تم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو تو ایسے چھوڑ رکھا ہے جیسے وہ توجہ کے قابل ہی نہیں ،بے شک میرا ربعَزَّوَجَلَّ تمہارے سب حالات جانتا ہے، اس پر تمہاری کوئی بات بھی پوشیدہ نہیں اور وہ قیامت کے دن تمہیں تمہارے عملوں کی جز ادے گا۔ (تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۹۲، ۶ / ۳۹۲، خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۹۲، ۲ / ۳۶۸، ملتقطاً)

وَ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌؕ-سَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ-مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ مَنْ هُوَ كَاذِبٌؕ-وَ ارْتَقِبُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ رَقِیْبٌ(۹۳)

ترجمۂ کنزالایمان:اور اے قوم تم اپنی جگہ اپنا کام کیے جاؤ میں اپنا کام کرتا ہوں اب جانا چاہتے ہو کس پر آتا ہے وہ عذاب کہ اسے رسوا کرے گا اور کون جھوٹا ہے اور انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار میں ہوں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور اے میری قوم! تم اپنی جگہ اپنا کام کیے جا ؤ، میں اپنا کام کرتا ہوں۔ عنقریب تم جان جاؤ گے کہ رسوا کردینے والا عذاب کس پر آتا ہے اور کون جھوٹا ہے اور تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار میں ہوں۔

{وَ یٰقَوْمِ:اور اے میری قوم!} یعنی جو برے اعمال کرنا اور مجھے شر پہنچانا تمہارے بس میں ہے تم وہ کرتے جاؤ اور جن اعمال کی اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق عطا کی ہے میں وہ کرتا رہتاہوں ، عنقریب تم جان جاؤ گے کہ رسوا کردینے والا عذاب کس پر آتا ہے اور اپنے دعووں میں کون جھوٹا ہے؟ اورتمہیں جلد معلوم ہوجائے گا کہ میں حق پر ہوں یا تم؟ اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے شقی کی شقاوت ظاہر ہوجائے گی،بس تم اپنے انجام کا انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار میں ہوں۔(تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۹۳، ۶ / ۳۹۲، مدارک، ہود، تحت الآیۃ: ۹۳، ص۵۱۱، ملتقطاً)

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ(۹۴) كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَاؕ-اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۠(۹۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب ہمارا حکم آیا ہم نے شعیب اور اس کے ساتھ کے مسلمانوں کو اپنی رحمت فرماکر بچالیا اور ظالموں کو چنگھاڑ نے آ لیا تو صبح اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے۔ گویا کبھی وہاں بسے ہی نہ تھے ارے دور ہوں مدین جیسے دور ہوئے ثمود۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب ہمارا حکم آیا توہم نے شعیب اور اس کے ساتھ کے مسلمانوں کو اپنی رحمت سے بچالیا اور ظالموں کو خوفناک چیخ نے پکڑ لیا تو وہ صبح کے وقت اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے۔ گویا وہ کبھی وہاں رہتے ہی نہ تھے۔ خبردار! دور ہوں مدین والے جیسے قومِ ثمود دور ہوئی۔

{وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا:اور جب ہمارا حکم آیا۔} یعنی جب مدین والوں پر عذاب نازل کرنے اور انہیں ہلاک کر دینے کا ہمارا حکم آیا تو ہم نے حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان پر ایمان لانے والوں کو محض اپنی رحمت اور فضل کی وجہ سے اس عذاب سے بچا لیا۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندے کو جو بھی نعمت ملتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے ملتی ہے۔ آیت میں مذکور رحمت سے ایمان اور تمام نیک اَعمال بھی مراد ہو سکتے ہیں اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی توفیق ہی سے نصیب ہوتے ہیں۔(تفسیر کبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۹۴، ۶ / ۳۹۲)

{وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ: اور ظالموں کو خوفناک چیخ نے پکڑ لیا۔} اس میں مدین والوں پر نازل ہونے والے عذاب کی کیفیت کا بیان ہے۔ یاد رہے کہ قرآنِ مجید میں مدین والوں پر آنے والے عذاب کی کیفیت دو طرح سے بیان کی گئی ہے ۔ سورۂ اَعراف میں یہ کیفیت اس طرح بیان ہوئی

’’فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ‘‘ (اعراف:۹۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:تو انہیں شدید زلز لے نے اپنی گرفت میں لے لیا تو صبح کے وقت وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

             اور اس آیت میں اس طرح بیان ہوئی کہ ’’ ظالموں کو خوفناک چیخ نے پکڑ لیا تو وہ صبح کے وقت اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے۔‘‘ ان دونوں کیفیتوں کے بارے میں تفسیر ابوسعود میں ہے ’’ ممکن ہے کہ زلزلے کی ابتدا اس چیخ سے ہوئی ہو، اس لئے کسی جگہ جیسے سورہ ٔہود میں ہلاکت کی نسبت سببِ قریب یعنی خوفناک چیخ کی طرف کی گئی اور دوسری جگہ جیسے (سورۂ اعراف کی) اس آیت میں سببِ بعید یعنی زلزلے کی طرف کی گئی۔ (ابو سعود، الاعراف، تحت الآیۃ: ۹۱، ۲ / ۲۷۶)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن