دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

            نوٹ:سورۂ اَعراف کی آیت نمبر 85 تا 93 میں حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے قومِ مدین کے ساتھ معاملات کی بعض تفصیلات گزر چکی ہیں۔

وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۸۵)بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ﳛ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ(۸۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اے میری قوم ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو  اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو۔اللہ کا دیا جو بچ رہے وہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تمہیں یقین ہو اور میں کچھ تم پر نگہبان نہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اے میری قوم !انصاف کے ساتھ ناپ اور تول پوراکرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔ اللہ کا دیا ہوا جو بچ جائے وہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تمہیں یقین ہو اور میں تم پر کوئی نگہبان نہیں۔

{بَقِیَّتُ اللّٰهِ:اللہ کا دیا ہوا جو بچ جائے۔}یعنی حرام مال ترک کرنے کے بعد جس قدر حلال مال بچے وہی تمہارے لئے بہتر ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’اس کا معنی یہ ہے کہ پورا تولنے اور ناپنے کے بعد جو بچے وہ بہتر ہے۔ (مدارک، ہود تحت الآیۃ: ۸۶، ص۵۰۹، خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۸۶، ۲ / ۳۶۶، ملتقطاً)ان کے علاوہ اور معنی بھی مفسرین نے بیان فرمائے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ حلال میں برکت ہے اورحرام میں بے برکتی نیزحلال کی تھوڑی روزی حرام کی زیادہ روزی سے بہتر ہے۔

{وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ:اور میں تم پر کوئی نگہبان نہیں۔} یعنی  تم سے صادر ہونے والے ہر معاملے میں میرا تمہارے پاس موجود رہنا ممکن نہیں تاکہ میں ناپ تول میں کمی بیشی پر تمہارا مُؤاخذہ کر سکوں۔ (قرطبی، ہود، تحت الآیۃ: ۸۶، ۵ / ۶۱، الجزء التاسع) علماء نے فرمایا ہے کہ بعض انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو جنگ کرنے کی اجازت تھی جیسے حضرت موسیٰ، حضرت داؤد، حضرت سلیمان عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام۔ بعض وہ تھے جنہیں جنگ کرنے کا حکم نہ تھا، حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام انہیں میں سے ہیں۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسارا دن وعظ فرماتے اور ساری رات نماز میں گزارتے تھے، قوم آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہتی کہ اس نماز سے آپ کو کیا فائدہ؟ تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامفرماتے ’’نماز خوبیوں کا حکم دیتی ہے اور برائیوں سے منع کرتی ہے تو اس پر وہ مذاق اڑاتے ہوئے یہ کہتے جو اگلی آیت میں مذکور ہے۔ (روح البیان، ہود، تحت الآیۃ: ۸۷، ۴ / ۱۷۴)

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُاؕ-اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: بولے اے شعیب کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادا کے خداؤں کو چھوڑ دیں یا اپنے مال میں جو چا ہیں نہ کریں ہاں جی تمہیں بڑے عقلمند نیک چلن ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: (قوم نے) کہا: اے شعیب! کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادا کے خداؤں کو چھوڑ دیں یا اپنے مال میں اپنی مرضی کے مطابق عمل نہ کریں۔ واہ بھئی! تم تو بڑے عقلمند، نیک چلن ہو۔

{قَالُوْا یٰشُعَیْبُ:کہا: اے شعیب!} حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے مدین والوں کو دو باتوں کا حکم دیا تھا۔ (1) اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کریں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے علاوہ اور کسی کی عبادت نہ کریں۔ (2) ناپ تول میں کمی نہ کریں۔ قوم نے ان دونوں باتوں کا جو جواب حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیا اس کا ذکر اس آیت میں ہے۔ پہلی بات کا انہوں نے یہ جواب دیا ’’اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا‘‘ یعنی کیا ہم ان خداؤں کی عبادت کرنا چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے رہے ہیں۔ مدین والوں کے اس جواب سے یہ ظاہر ہوا کہ ان کے پاس بت پرستی کرنے پر دلیل اپنے آباء و اَجداد کی اندھی تقلید تھی اسی لئے جب حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں بت پرستی چھوڑنے کا حکم دیا تو انہیں بہت عجیب لگا اور کہنے لگے کہ بتوں کی پوجا کرنے کے جس طریقے کو ہمارے پچھلے لوگوں نے اپنایا ہے ہم اسے کیسے چھوڑ دیں۔ دوسری بات کا مدین والوں نے یہ جواب دیا ’’ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا‘‘ یعنی کیا ہم اپنے مال میں اپنی مرضی کے مطابق عمل نہ کریں۔ان کی اس بات کا  مطلب یہ تھا کہ ہم اپنے مال میں پورا اختیار رکھتے ہیں ، چاہے کم ناپیں چاہے کم تولیں۔آیت میں مذکور لفظ’’صَلَاۃْ‘‘ سے مراد یا تو دین و ایمان ہے یا ا س سے مراد نماز ہے۔(تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۸۷، ۶ / ۳۸۶-۳۸۷، ملخصاً)

{اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ:تم تو بڑے عقلمند، نیک چلن ہو۔} مدین والے اپنے گمان میں حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بے وقوف اور جاہل سمجھتے تھے ا س لئے طنز کے طور پر انہوں نے حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہا کہ تم تو بڑے عقلمند اور نیک چلن ہو۔ یہ جملہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کنجوس آدمی کو آتے دیکھ کر کہے ، جناب حاتم طائی تشریف لارہے ہیں۔امام رازی فرماتے ہیں کہ ا س آیت کا معنی یہ ہے کہ حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی قوم میں بڑے عقلمند اور نیک چلن آدمی کی حیثیت سے مشہور تھے لیکن جب حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنی قوم کو ان میں نسل در نسل چلتے ہوئے بتوں کی پوجا کے جاہلانہ طریقے کو چھوڑنے کا حکم دیا تو انہوں نے حیران ہو کر کہا کہ آپ تو بڑے عقلمند اور نیک چلن ہیں ، پھر آپ ہمیں کیسے یہ حکم دے رہے ہیں کہ ہم اپنے نسل در نسل چلتے ہوئے بتوں کی پوجا کے طریقے کو چھوڑ دیں۔(تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۸۷، ۶ / ۳۸۷، ملخصاً)

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ رَزَقَنِیْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًاؕ-وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُؕ-اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُؕ-وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِؕ-عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ(۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان: کہا اے میری قوم بھلا بتاؤ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہوں او راس نے مجھے اپنے پاس سے اچھی روزی دی اور میں نہیں چاہتا ہوں کہ جس بات سے تمہیں منع کرتا ہوں آپ اس کا خلاف کرنے لگوں میں تو جہاں تک بنے سنوارنا ہی چاہتا ہوں اور میری توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع ہوتا ہوں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: شعیب نے فرمایا: اے میری قوم! بھلا بتاؤ کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہوں او راس نے مجھے اپنے پاس سے اچھی روزی دی ہو(تو میں کیوں نہ تمہیں سمجھاؤں) اور میں نہیں چاہتا کہ جس بات سے میں تمہیں منع کرتا ہوں خود اس کے خلاف کرنے لگوں ، میں تو صرف اصلاح چاہتا ہوں جتنی مجھ سے ہوسکے اور میری توفیق اللہ ہی کی مدد سے ہے میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن