دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

ترجمۂ کنزُالعِرفان: لوط نے فرمایا: اے کاش! تمہارے مدِمقابل میرے پاس کوئی قوت ہوتی یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لے سکتا۔  فرشتوں نے عرض کی: اے لوط! ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ آپ تک ہر گز نہیں پہنچ سکیں گے تو آپ اپنے گھر والوں کو راتوں رات لے جائیں اور تم میں کوئی پیٹھ پھیر کر نہ دیکھے سوائے تیری بیوی کے۔ بیشک اسے بھی وہی (عذاب) پہنچنا ہے جو ان (کافروں ) کو پہنچے گا بیشک ان کا وعدہ صبح کے وقت کا ہے۔ کیا صبح قریب نہیں ؟

{قَالَ:فرمایا۔} جب حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو یقین ہو گیا کہ قوم اپنے ارادے سے باز نہیں آئے گی تو آپ نے افسوس کرتے ہوئے فرمایا ’’اے کاش! مجھے تم سے مقابلہ کرنے کی طاقت ہوتی یا میں ایسا قبیلہ رکھتا جو میری مدد کرتا تو میں تم سے مقابلہ اور جنگ کرتا ۔ (ابوسعود، ہود، تحت الآیۃ: ۸۰، ۳ / ۵۴، خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۸۰، ۲ / ۳۶۴، ملتقطاً)

{قَالُوْا:فرشتوں نے عرض کی۔} حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے مکان کا دروازہ بند کرلیا تھا اور اندر سے یہ گفتگو فرما رہے تھے ، قوم نے چاہا کہ دیوار توڑ دیں ، فرشتوں نے جب حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا رنج اور بے چینی دیکھی تو عرض کی: اے لوط! عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، آپ کا پایہ مضبوط ہے، ہم ان لوگوں کو عذاب کرنے کے لئے آئے ہیں ، آپ ایسا کریں کہ دروازہ کھول دیں ،پھر ہمیں اور انہیں چھوڑ دیں ، یہ لوگ آپ تک ہر گز نہیں پہنچ سکیں گے اور نہ ہی آپ کو کوئی نقصان پہنچا سکیں گے ۔ حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے دروازہ کھول دیا توقوم کے لوگ مکان میں گھس آئے ۔ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنا بازو ان کے چہروں پر مارا تو وہ سب اندھے ہوگئے اور حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مکان سے نکل کر بھاگے، انہیں راستہ نظر نہیں آتا تھا اور وہ یہ کہتے جاتے تھے’’ ہائے! ہائے! لوط کے گھر میں بڑے جادو گر ہیں ، انہوں نے ہم پرجادو کر دیا ہے۔ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۸۱، ۲ / ۳۶۴-۳۶۵)

{فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ:توآپ اپنے گھر والوں کو راتوں رات لے جائیں۔} فرشتوں کے اس کلام کا ایک معنی یہ ہے کہ اے لوط! عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، آپ اپنے گھر والوں کو راتوں رات یہاں سے لے جائیں اور آپ میں سے کوئی پیٹھ پھیر کر نہ دیکھے لیکن آپ کی بیوی پیٹھ پھیر کر دیکھ لے گی کیونکہ اسے بھی وہی عذاب پہنچنا ہے جو ان کافروں کو پہنچے گا۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ اے لوط!عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، آپ اپنے گھر والوں کو راتوں رات یہاں سے لے جائیں اور آپ میں سے کوئی پیٹھ پھیر کر نہ دیکھے البتہ اپنی بیوی کو ساتھ لے کر نہ جائیں کیونکہ اسے بھی وہی عذاب پہنچنا ہے جو ان کافروں کو پہنچے گا۔ (تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۸۱، ۶ / ۳۸۱-۳۸۲)

{اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ: بیشک ان کا وعدہ صبح کے وقت کا ہے۔} حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرشتوں سے کہا :’’یہ عذاب کب ہوگا؟فرشتوں نے جواب دیا’’ بیشک ان کے عذاب کا وعدہ صبح کے وقت کا ہے۔ حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا ’’ میں تو اس سے جلدی چاہتا ہوں۔فرشتوں  نے عرض کی ’’صبح قریب ہی ہے آپ اسے دور نہ سمجھیں۔(خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۸۱، ۲ / ۳۶۵)

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ ﳔ مَّنْضُوْدٍۙ(۸۲)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس بستی کے اوپر کو اس کا نیچا کردیا اور اس پر کنکر کے پتھر لگا تار برسائے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر جب ہمارا حکم آیا توہم نے اس بستی کے اوپرکے حصے کو اس کا نیچے کا حصہ کردیا اور اس پر لگاتار کنکر کے پتھر برسائے۔

{فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا:پھر جب ہمارا حکم آیا۔} جب حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے اہل و عیال کے ساتھ اپنی بستی سے نکلے تو انہیں حکم دیا کہ پیچھے مڑ کر کوئی نہ دیکھے،سب نے اس بات پر عمل کیا لیکن آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی بیوی نے جب سنا کہ اس کی قوم پر عذاب نازل ہونے والا ہے تو اس نے پیچھے مڑ کر چیخ کر کہا، ہائے میری قوم! تو اسے بھی ایک پتھر لگا اور وہ بھی اپنی قوم کے ساتھ ہلاک ہو گئی۔ حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قوم پر عذاب اس طرح آیا  کہ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے قومِ لوط کے شہر جس طبقۂ زمین میں تھے اس کے نیچے اپنا بازو ڈالا اور ان پانچوں شہروں کو جن میں سب سے بڑا سدوم تھا اور ان میں چار لاکھ آدمی بستے تھے اتنا اونچا اٹھایا کہ وہاں کے کتوں اور مرغوں کی آوازیں آسمان پر پہنچنے لگیں اور اس آہستگی سے اٹھایا کہ کسی برتن کا پانی نہ گرا اور کوئی سونے والا بیدار نہ ہوا، پھر اس بلندی سے اس کو اوندھا کرکے پلٹ دیا اور جو لوگ اس وقت بستی میں موجود نہ تھے وہ جہاں کہیں سفر میں تھے وہیں انہیں لگاتار پتھر برسا کر ہلاک کر دیا گیا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ بستیاں الٹنے کے بعد ان ہی پر لگاتار پتھر برسائے گئے۔ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۸۲، ۲ / ۳۶۵)

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَؕ-وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۠(۸۳)

ترجمۂ کنزالایمان: جو نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس ہیں اور وہ پتھر کچھ ظالموں سے دور نہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جن پر تیرے رب کی طرف سے نشان لگے ہوئے تھے اور وہ پتھر ظالموں سے کچھ دور نہیں۔

{مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ:جن پر تیرے رب کی طرف سے نشان لگے ہوئے تھے۔} ان پتھروں پر ایسا نشان تھا جس سے وہ دوسروں سے ممتاز تھے۔ حضرت قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ان پر سرخ خطوط تھے ۔حضرت حسن  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاور مفسر سدی کا قول ہے کہ ان پر مہریں لگی ہوئی تھیں اور ایک قول یہ ہے کہ جس پتھر سے جس شخص کی ہلاکت منظور تھی اس کا نام اس پتھر پر لکھا تھا۔(خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۸۳، ۲ / ۳۶۵)

{وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ:اور وہ پتھر ظالموں سے کچھ دور نہیں۔} امام مجاہد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں کفارِ قریش کو ڈرایا گیا ہے، آیت کا معنی یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، وہ پتھر آپ کی قوم کے ظالموں سے کچھ دور نہیں۔ حضرت قتادہ اور حضرت عکرمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اس امت کے ظالموں سے وہ پتھر کچھ دور نہیں۔ خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ کسی ظالم کو ان پتھروں سے نہیں بچائے گا۔ (قرطبی، ہود، تحت الآیۃ: ۸۳، ۵ / ۵۹، الجزء التاسع)  امام رازی  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اس آیت کی ایک تفسیر یہ بھی ذکر کی ہے کہ وہ بستیاں جن میں یہ واقعہ رونما ہوا کفارِ مکہ سے دور نہیں کیونکہ وہ بستیاں ملک شام میں تھیں اور شام مکہ سے قریب ہے۔ (تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۸۳، ۶ / ۳۸۴)

لواطت کی مذمت پر دو معروضات:

            اس رکوع میں چونکہ بدفعلی یعنی لواطت کا بیان ہوا ہے لہٰذا یہاں اس کی مذمت پر کچھ معروضات پیش کی جاتی ہیں۔

(1)…بد فعلی یعنی لواطت کبیرہ گناہوں میں سے ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ایسا شخص مستحقِ لعنت ہے اور بروزِ قیامت اللہ تعالیٰ کی نظرِ رحمت سے محروم رہے گا ۔ چنانچہ حضرت لوط عَلَیْہِ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن