دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

ظاہر فرما دیا گیا ہے۔ (۳) معلق شبیہ بَہ مبرم، کہ فرشتوں کے صحیفوں میں اُس کا معلق ہونا مذکور نہیں اور اللہ تعالیٰ کے علم میں کسی چیز پر معلق ہے۔ ان کا حکم یہ ہے کہ وہ تقدیر جو مبرمِ حقیقی ہے اس کی تبدیلی ناممکن ہے، اگر اتفاقی طور پراَکابر محبوبانِ خدا اس کے بارے میں کچھ عرض کرتے ہیں تو انہیں اس خیال سے واپس فرما دیا جاتا ہے، اور وہ تقدیر جس کا معلق ہونا ظاہر ہے اس تک اکثر اولیاء کی رسائی ہوتی ہے اور یہ ان کی دعا سے اور ان کی ہمت سے ٹل جاتی ہے اور وہ تقدیر جو متوسط حالت میں ہے جسے فرشتوں کے صحیفوں کے اعتبار سے مبرم بھی کہہ سکتے ہیں ، اس تک خواص اکابر کی رسائی ہوتی ہے۔(بہار شریعت،حصہ اول، عقائد متعلقۂ ذات وصفات، ۱ / ۱۲، ۱۴، ملخصاً)

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ(۷۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب لوط کے پاس ہمارے فرشتے آئے اسے ان کا غم ہوا اور ان کے سبب دل تنگ ہوا اور بولا یہ بڑی سختی کا دن ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب لوط کے پاس ہمارے فرشتے آئے توان کی وجہ سے لوط غمگین ہوا اور ان کے سبب اس کا دل تنگ ہوا اور کہنے لگا:یہ بڑا سخت دن ہے۔

{وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا:اور جب لوط کے پاس ہمارے فرشتے آئے۔} حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس سے ہو کر فرشتے خوبصورت لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے پاس آئے، حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جب ان کی ہیئت اور حسن وجمال کو دیکھا تو قوم کی خباثت اور بدعملی کا خیال کرکے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان خوبصورت لڑکوں کی وجہ سے غمگین ہوئے اور ان کا دل تنگ ہوا کیونکہ ایک تو وہ مہمان تھے اور دوسرے وہ انتہائی خوبصورت تھے، اس لئے ان کے بارے میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی قوم کی طرف سے خوفزدہ ہوئے اور فرمانے لگے کہ یہ بڑا سختی کا دن ہے۔

            مروی ہے کہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم یہ تھا کہ وہ قومِ لوط کو اس وقت تک ہلاک نہ کریں جب تک کہ حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خود اس قوم کی بدعملی پر چار مرتبہ گواہی نہ دیں ، چنانچہ جب یہ فرشتے حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے ملے تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان سے فرمایا کہ کیا تمہیں اس بستی والوں کا حال معلوم نہ تھا؟ فرشتوں نے کہا :ان کا کیا حال ہے؟ حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا ’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ عمل کے اعتبار سے روئے زمین پر یہ بدترین بستی ہے اور یہ بات آپ نے چار مرتبہ فرمائی۔ حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی بیوی جو کہ کافرہ تھی وہ نکلی اور اس نے اپنی قوم کو جا کر خبر دی کہ حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے یہاں ایسے خوبرو اور حسین مہمان آئے ہیں جن کی مثل اب تک کوئی شخص نظر نہیں آیا۔ (جلالین، ہود تحت الآیۃ: ۷۷، ص۱۸۶، مدارک، ہود تحت الآیۃ: ۷۷، ص۵۰۷، خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۷۷، ۲ / ۳۶۳، ملتقطاً)

وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِؕ-وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِؕ-قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْؕ-اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ(۷۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اس کے پاس اس کی قوم دوڑتی آئی اور انہیں آگے ہی سے برے کاموں کی عادت پڑی تھی کہا اے قوم یہ میری قوم کی بیٹیاں ہیں یہ تمہارے لیے ستھری ہیں تو اللہ سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں میں رسوا نہ کرو کیا تم میں ایک آدمی بھی نیک چلن نہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ان کے پاس ان کی قوم دوڑتی ہوئی آئی اور وہ (لوگ) پہلے ہی سے برے کاموں کے عادی تھے۔ لوط نے فرمایا: اے میری قوم! یہ میری قوم کی بیٹیاں ہیں یہ تمہارے لیے پاکیزہ ہیں تو اللہ سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں میں رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی نیک کردار والانہیں ؟

{وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ:اور ان کے پاس ان کی قوم دوڑتی ہوئی آئی۔} حضرت لوطعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے مہمانوں کے ساتھ گھر میں ہی تھے کہ آپ کی قوم کے لوگ آپ کے مہمانوں کے ساتھ بے حیائی کا کام کرنے کی غرض سے دوڑتے ہوئے آئے، وہ لوگ اس سے پہلے ہی برے کاموں کے عادی تھے اور شرم و حیا سے بالکل عاری ہو چکے تھے۔ انہیں دیکھ کر حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنی قوم سے فرمایا ’’ اے میری قوم! یہ جومیری قوم کی بیٹیاں ہیں ، یہ تمہارے لیے نکاح کی صورت میں پاکیزہ ہیں تو اپنی بیویوں سے فائدہ حاصل کرو کہ وہ تمہارے لئے حلال ہے ، حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ان کی عورتوں کو جو قوم کی بیٹیاں تھیں بزرگانہ شفقت سے اپنی بیٹیاں فرمایا تاکہ اس حسنِ اخلاق سے وہ فائدہ اٹھائیں اور غیرت و حَمِیَّت سیکھیں۔ حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اپنے کفر و سرکشی سے باز آجاؤ اور میرے مہمانوں سے کوئی برا فعل سر انجام دے کر مجھے ان کے سامنے شرمندہ مت کرو ،کیا تم میں ایک بھی کوئی ایسا نیک آدمی نہیں کہ جس کی بات مان کر تم اس برے فعل سے باز آ جاؤ؟(بیضاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۷۸، ۳ / ۲۴۷-۲۴۸، خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۷۸، ۲ / ۳۶۴، ملتقطاً)

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّۚ-وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ(۷۹)

ترجمۂ کنزالایمان: بولے تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری قوم کی بیٹیوں میں ہمارا کوئی حق نہیں اور تم ضرور جانتے ہو جو ہماری خواہش ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: انہوں نے کہا: تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری قوم کی بیٹیوں میں ہمارے لئے کوئی حاجت نہیں اور تم ضرور جانتے ہو جو ہم چاہتے ہیں۔

{قَالُوْا:انہوں نے کہا۔} حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی نصیحت فرمائی اور مہمانوں کے سامنے رسوا کرنے سے روکا تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قوم نے اس نصیحت سے اعراض کرتے ہوئے کہا ’’آپ جانتے ہیں کہ آپ کی قوم کی بیٹیوں سے نکاح کرنے کی ہمیں کوئی حاجت نہیں اور نہ ہی ہمیں ان کی طرف کوئی رغبت ہے اور جو ہماری خواہش ہے وہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں۔(ابوسعود، ہود، تحت الآیۃ: ۷۹، ۳ / ۵۴)

قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ(۸۰)قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَؕ-اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْؕ-اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُؕ-اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ(۸۱)

ترجمۂ کنزالایمان: بولا اے کاش مجھے تمہارے مقابل زور ہوتا یا کسی مضبوط پائے کی پناہ لیتا ۔ فرشتے بولے اے لوط ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے ہیں وہ تم تک نہیں پہنچ سکتے تو اپنے گھر والوں کو راتوں رات لے جاؤ اور تم میں کوئی پیٹھ پھیر کر نہ دیکھے سوائے تمہاری عورت کے اسے بھی وہی پہنچنا ہے جو انہیں پہنچے گا بیشک ان کا وعدہ صبح کے وقت ہے کیا صبح قریب نہیں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن