تقدیر مبرم سے متعلق دو مسائل
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

تک کہ اب مجھے بلانے کے لئے کوئی نہیں مل رہا تھا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ کھانا اٹھا کر رکھ دو۔ تین آدمی اس وقت بھی گھر میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے تو حضور پُر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَباہر تشریف لے گئے اور حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھاکے حجرے کی طرف جا کر فرمایا ’’اے اہلِ بیت! تم پر سلامتی اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت ہو۔ انہوں نے جواب دیا: آپ پر بھی سلامتی اور اللہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت ہو، آپ نے اپنی زوجۂ مطہرہ کو کیسا پایا؟ اللہ تعالیٰ آپ کو ان میں برکت عطا فرمائے ۔ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ باری باری تمام ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّکے پاس تشریف لے گئے اور ان سے یہی فرماتے رہے جو حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا سے فرمایا تھا اور وہ بھی اسی طرح جواب عرض کرتی رہیں جس طرح حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا نے کیا تھا۔ (بخاری، کتاب التفسیر، باب قولہ: لا تدخلوا بیوت النبی الّا ان یؤذن لکم۔۔۔ الخ، ۳ / ۳۰۵، الحدیث: ۴۷۹۳)

            یہی حدیث چند مختلف الفاظ کے ساتھ صحیح مسلم میں بھی موجو د ہے اور اُس میں یہ ہے کہ( لوگوں کو کھانا کھلانے کے بعد) سیّد المرسَلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاپنی ازواجِ مطہرات کے پاس تشریف لے گئے اور ہر ایک سے فرمایا ’’تم پر سلامتی ہو، اے اہلِ بیت !تم کیسے ہو؟ انہوں نے عرض کی :یا رسولَ اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،ہم خیریت سے ہیں ،آپ نے اپنی زوجہ مطہرہ کو کیسا پایا؟ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’ بہت اچھا پایا۔ (مسلم، کتاب النکاح، باب فضیلۃ اعتاقہ امۃ ثمّ یتزوّجہا، ص۷۴۴، الحدیث: ۸۷(۱۴۲۸))

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ(۷۴)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر جب ابراہیم کا خوف زائل ہوا اور اسے خوشخبری ملی ہم سے قومِ لوط کے بارے میں جھگڑنے لگا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر جب ابراہیم سے خوف زائل ہوگیا اور اس کے پاس خوشخبری آگئی تو ہم سے قومِ لوط کے بارے میں جھگڑنے لگے۔

{فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ:پھر جب ابراہیم سے خوف زائل ہوگیا۔} فرشتوں کے کھانا نہ کھانے کی وجہ سے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دل میں جو خوف پیدا ہوا تھا وہ جب بیٹے کی خوشخبری ملنے کی وجہ سے دور ہوا تو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ تعالیٰ سے حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قوم کے بارے میں کلام اور سوال کرنے لگے۔ جمہور مفسرین کے نزدیک ’’یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍ‘‘ کا معنی ہے ’’ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہمارے بھیجے ہوئے فرشتوں سے قومِ لوط کے بارے میں جھگڑنے لگے۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا جھگڑنا یعنی کلام اور سوال یہ تھا کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرشتوں سے فرمایا ’’ قومِ لوط کی بستیوں میں اگر پچاس ایماندار ہوں تو بھی انہیں ہلاک کرو گے؟ فرشتوں نے کہا :نہیں۔پھر فرمایا: اگر چالیس ہوں ؟ انہوں نے کہا: جب بھی نہیں۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا ’’اگر تیس ہوں ؟ انہوں نے کہا :’’جب بھی نہیں۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماس طرح فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا’’ اگر ایک مرد مسلمان موجود ہو تب بھی ہلاک کردو گے؟ انہوں نے کہا ’’نہیں۔ تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا ’’اس میں حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں۔ اس پر فرشتوں نے کہا ہمیں معلوم ہے جو وہاں ہیں ، ہم حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کے گھر والوں کو بچائیں گے سوائے ان کی بیوی کے۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا مقصد یہ تھا کہ آپ عذاب میں تاخیر چاہتے تھے تاکہ اس بستی والوں کو کفر اور گناہوں سے باز آنے کے لئے ایک فرصت اور مل جائے ۔ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۷۴، ۲ / ۳۶۲-۳۶۳)

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ(۷۵)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک ابراہیم تحمل والا بہت آہیں کرنے والا رجوع لانے والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ابراہیم بڑے تحمل والا ، بہت آہیں بھرنے والا، رجوع کرنے والا ہے۔

{اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ:بیشک ابراہیم۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی بہت مدح و تعریف کی گئی ہے،جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو یہ معلوم ہوا کہ فرشتے حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قوم کو ہلاک کرنے کے لئے آئے ہیں تو آپ کو بہت زیادہ رنج ہوا اور آپ اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ ڈرے  اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کی صفت میں ارشاد فرمایا کہبیشک حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حَلِیۡم یعنی بڑے تحمل والے اور اَوّٰہٌ یعنی اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ ڈرنے والے اور اس کے سامنے بہت آہ و زاری کرنے والے ہیں۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی صفت میں ’’ مُّنِیۡبٌ‘‘ اس لئے فرمایا کہ جو شخص دوسروں پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کی بنا پراللہ تعالیٰ سے ڈرتا اور اس کی طرف رجوع کرتا ہے تو وہ اپنے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے کس قدر ڈرنے والا اور اس کی طرف رجوع کرنے والا ہوگا۔ (تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۷۵، ۶ / ۳۷۷، ملخصاً) سُبْحَانَ اللہ کتنی پیاری صفات ہیں۔

یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَاۚ-اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَۚ-وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ(۷۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اے ابراہیم اس خیال میں نہ پڑ بیشک تیرے رب کا حکم آچکا اور بیشک ان پر عذاب آنے والا ہے کہ پھیرا نہ جائے گا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: (ہم نے فرمایا) اے ابراہیم ! اس بات سے کنارہ کشی کرلیجیے ، بیشک تیرے رب کا حکم آچکا ہے اور  بیشک ان پرایسا عذاب آنے والا ہے جو پھیرا نہ جائے گا۔

{یٰۤاِبْرٰهِیْمُ:اے ابراہیم !} جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا فرشتوں سے سلام اور کلام کا سلسلہ دراز ہوا تو فرشتوں نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے عرض کی: اے ابراہیم! عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، اب اس بحث کو ختم کر دیں کیونکہ آپ کے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر عذاب نازل ہونے کا فیصلہ ہو چکا ہے لہٰذا اس عذاب کے ٹلنے کی اب کوئی صورت نہیں۔ (تفسیرطبری، ہود، تحت الآیۃ: ۷۵، ۷ / ۷۹، ملخصاً)

تقدیر مبرم سے متعلق دو مسائل:

            اس آیت سے دو مسئلے معلوم ہوئے

(1)… تقدیر مبرم کسی صورت میں نہیں ٹل سکتی ۔

(2)… انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں وہ عزت ہے کہ رب عَزَّوَجَلَّان کو تقدیر مبرم کے خلاف دعا کرنے سے روک دیتا ہے، تا کہ ان کی زبان خالی نہ جائے۔

             یہاں یہ بات یاد رہے کہ تقدیر کی تین قسمیں ہیں (۱) مبرمِ حقیقی، کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں کسی شے پر مُعلق نہیں۔ (۲) معلقِ محض، کہ فرشتوں کے صحیفوں میں کسی چیز پر ا س کا معلق ہونا

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن