گائے کا گوشت سنتِ ابراہیمی کی نیت سے کھائیں
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

علامت یہ ہے کہ پہلے دن تمہارے چہرے زرد ہوجائیں گے ، دوسرے دن سرخ اور تیسرے دن یعنی جمعہ کو سیاہ ہو جائیں گے، پھر ہفتے کے دن عذاب نازل ہوگا۔یہ ایک وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہوگا ، چنانچہ ایسے ہی ہوا۔(خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۶۵، ۲ / ۳۶۰، مدارک، ہود تحت الآیۃ: ۶۵، ص۵۰۴، ملتقطاً)

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِىٕذٍؕ-اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ(۶۶)وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ(۶۷) كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَاؕ-اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْؕ-اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠(۶۸)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر جب ہمارا حکم آیا ہم نے صا لح اور اس کے ساتھ کے مسلمانوں کو اپنی رحمت فرماکر بچالیا اور اس دن کی رسوائی سے بیشک تمہارا رب قوی عزت والا ہے۔ اور ظالموں کو چنگھاڑ نے آ لیا تو صبح اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے۔ گویا کبھی یہاں بسے ہی نہ تھے سن لوبیشک ثمود اپنے رب سے منکر ہوئے ارے لعنت ہو ثمود پر۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر جب ہمارا حکم آیا توہم نے صا لح اور اس کے ساتھ والے مسلمانوں کو اپنی رحمت کے ذریعے بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے بچالیا ۔ بیشک تمہارا رب بڑی قوت والا، غلبے والا ہے۔  اور ظالموں کو چنگھاڑ نے پکڑ لیا تو وہ صبح کے وقت اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے ۔ گویا وہ کبھی یہاں رہتے ہی نہ تھے۔ سن لو! بیشک ثمود نے اپنے رب کا انکار کیا۔ خبردار! لعنت ہو ثمود پر۔

{فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا:پھر جب ہمارا حکم آیا ۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب قومِ ثمود پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کاحکم آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور رحمت سے حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور ان پر ایمان لانے والوں کو اس عذاب اور اس دن کی رسوائی سے بچا لیا۔(تفسیر طبری، ہود، تحت الآیۃ: ۶۶، ۷ / ۶۴)

{وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ:اور ظالموں کو چنگھاڑنے پکڑ لیا۔} اس آیت میں قومِ ثمود پر آنے والے عذاب کی کیفیت کا بیان ہے، سورۂ اَعراف میں اِن پر آنے والے عذاب کی کیفیت اس طرح بیان ہوئی کہ

’’فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ‘‘(اعراف:۷۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو انہیں زلزلے نے پکڑ لیا تو وہ صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

             اور یہاں اس طرح بیان ہوئی کہ ’’اور ظالموں کو چنگھاڑ نے پکڑ لیا تو وہ صبح کے وقت اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے ۔‘‘ان دونوں کیفیتوں میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ پہلے ہولناک چیخ کی آواز آئی اور اس کے بعد زلزلہ پیدا ہوا ،اس لئے قومِ ثمود کی ہلاکت کو چیخ اور زلزلہ دونوں میں سے کسی کی طرف بھی منسوب کیا جا سکتا ہے۔

{ كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا:گویا وہ کبھی یہاں رہتے ہی نہ تھے۔} یعنی عذاب نازل ہونے کے بعد ان کا حال یہ ہوا کہ گویا وہ کبھی اپنے شہروں میں بسے ہی نہ تھے اور وہ زندہ تھے ہی نہیں ، اے لوگو! سن لو، قومِ ثمود نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور ا س کی نشانیوں کا انکار کیا (جس کے نتیجے میں ان کا یہ انجام ہوا تو تمہیں چاہئے کہ ان کے انجام سے عبرت حاصل کرو اور ان جیسے افعال کرنے سے بچو تاکہ تم ان کی طرح کے عذاب میں مبتلا ہونے سے بچ جاؤ)۔

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًاؕ-قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ(۶۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس مژدہ لے کر آئے بولے سلام کہا سلام پھر کچھ دیر نہ کی کہ ایک بچھڑا بھنا لے آئے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر آئے ۔انہوں نے ’’سلام‘‘ کہا تو ابراہیم نے ’’سلام‘‘ کہا۔ پھر تھوڑی ہی دیر میں ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔

{وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى:اور بیشک ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر آئے ۔} یہ اس سورت میں مذکور چوتھا واقعہ ہے، آیت کا خلاصہ یہ ہے کہسادہ رُو، نوجوانوں کی حسین شکلوں میں فرشتے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے پاس حضرت اسحق اور حضرت یعقوب عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی پیدائش کی خوشخبری لے کر آئے۔ فرشتوں نے سلام کہا تو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے بھی جواب میں فرشتوں کو سلام کہا، پھر تھوڑی ہی دیر میں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بہت ہی مہمان نواز تھے اور بغیر مہمان کے کھانا تَناوُل نہ فرماتے ،اس وقت ایسا اتفاق ہوا کہ پندرہ روز سے کوئی مہمان نہ آیا تھا، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو اس کا غم تھا اور جب ان مہمانوں کو دیکھا تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان کے لئے کھانا لانے میں جلدی فرمائی، چونکہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے یہاں گائے بکثرت تھیں اس لئے بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت سامنے لایا گیا ۔ (روح البیان، ہود، تحت الآیۃ: ۶۹، ۴ / ۱۶۱، خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۶۹، ۲ / ۳۶۰-۳۶۱، ملتقطاً)

گائے کا گوشت سنتِ ابراہیمی کی نیت سے کھائیں :

             اس سے معلوم ہوا کہ گائے کا گوشت حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دستر خوان پر زیادہ آتا تھا اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس کو پسندفرماتے تھے ، گائے کا گوشت کھانے والے اگر سنتِ ابراہیمی ادا کرنے کی نیت کریں تو ثواب پائیں گے۔

آیت’’وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَا ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:

            اس آیت سے 4 مسئلے معلوم ہوئے ،

(1)… انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ولادت بہت شاندار ہوتی ہے کہ ان کی بشارتیں پہلے دی جاتی ہیں۔

(2)… فرشتوں کو رب تعالیٰ نے غیب کا علم بخشا ہے جس سے وہ آئندہ کی خبریں دیتے ہیں۔

(3)… ملاقات کے وقت سلام کرنا سنتِ ملائکہ اور سنتِ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہے۔

(4)… سنت یہ ہے کہ آنے والا سلام کرے ۔

            نوٹ: حضرت ابراہیم اور حضرت لوط عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے یہ واقعات اس سورت کے علاوہ سورۂ حجر آیت نمبر 51تا 77 اور سورۃ الذاریات آیت نمبر 24 تا 37 میں بھی مذکور

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن