30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنزُالعِرفان: انہوں نے کہا: اے ہود! تم ہمارے پاس کوئی دلیل لے کر نہیں آئے اور ہم صرف تمہارے کہنے سے اپنے خداؤں کو چھوڑنے والے نہیں ہیں اور نہ ہی تمہاری بات پر یقین کرنے والے ہیں۔
{قَالُوْا یٰهُوْدُ:انہوں نے کہا: اے ہود!} حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم نے مذاق اڑاتے ہوئے اور عناد کے طور پر یہ جواب دیا کہ اے ہود! تم ہمارے پاس کوئی دلیل لے کر نہیں آئیجو تمہارے دعوے کی صحت پر دلالت کرتی ۔ یہ بات اُنہوں نے بالکل غلط اور جھوٹ کہی تھی کیونکہ حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں جو معجزات دکھائے تھے وہ ان سب سے مکر گئے تھے۔(بیضاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۵۳، ۳ / ۲۳۹-۲۴۰)
{وَ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا:اور ہم اپنے خداؤں کو چھوڑنے والے نہیں ہیں۔} کفار اِس بات کا اِعتراف کرتے تھے کہ نفع و نقصان پہنچانے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے جبکہ اس کے برعکس بت کوئی نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتے،اس کے باوجود انہوں نے حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے یہ کہاکہ ہم آپ کی بات کی وجہ سے اپنے بتوں کی عبادت کرنا نہیں چھوڑیں گے بلکہ ہماری عقل اور ہمارا دل حکم دے گا تو چھوڑیں گے۔ان کی یہ بات اورمزید ان کا یہ کہنا’’ اور نہ ہی تمہاری بات پر یقین کریں گے‘‘ بھی ان کے کفر پر اِصرار،اپنے آباء و اَجداد کی اندھی تقلید اور حضرت ہودعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب پر دلالت کرتا ہے۔ (تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۵۳، ۶ / ۳۶۴)
اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍؕ-قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ(۵۴) مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ(۵۵)
ترجمۂ کنزالایمان: ہم تو یہی کہتے ہیں کہ ہمارے کسی خدا کی تمہیں بری جھپٹ پہنچی کہا میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم سب گواہ ہوجاؤ کہ میں بیزار ہوں ان سب سے جنہیں تم اللہ کے سوا اس کا شریک ٹھہراتے ہو۔ تم سب مل کر میرا برا چاہو پھر مجھے مہلت نہ دو۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان:ہم توصرف یہ کہتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود نے تم پر کوئی برائی پہنچا دی ہے۔ (ہود نے) فرمایا: میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم سب (بھی) گواہ ہوجاؤ کہ میں ان سب سے بیزار ہوں جنہیں تم اللہ کے سوا اس کا شریک ٹھہراتے ہو۔ تم سب مل کر میرے اوپر داؤ چلاؤ پھر مجھے مہلت نہ دو ۔
{اِنْ نَّقُوْلُ:ہم توصرف یہ کہتے ہیں۔} حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم نے کہا: ’’ بے شک اے ہود! تم جو ہماری مخالفت کر رہے ہو اور ہمارے بتوں کو برا کہتے ہو اسی وجہ سے ان بتوں نے تم سے اِنتقام لیتے ہوئے تمہیں دیوانہ کردیا ہے۔ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ اب جو کچھ کہتے ہو یہ سب دیوانگی کی باتیں ہیں۔ (مَعَاذَاللہ) حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں جواب دیا: ’’میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بناتا ہوں اور تم سب بھی میری اس بات پر گواہ ہو جاؤ کہ میں ان سب بتوں سے بیزار ہوں جنہیں تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شریک ٹھہراتے ہو اور ان کی عبادت کرتے ہو۔ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۵۴، ۲ / ۳۵۷-۳۵۸)
{فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا:تم سب مل کر میرے اوپر داؤ چلاؤ ۔} یعنی تم اور وہ بت جنہیں تم معبود سمجھتے ہو سب مل کر مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش کرو ، پھر مجھے مہلت نہ دو مجھے تمہاری اور تمہارے معبودوں کی اور تمہاری مَکاریوں کی کچھ پروا نہیں اور مجھے تمہاری شوکت و قوت سے کچھ اندیشہ نہیں کیونکہ جنہیں تم معبود کہتے ہو وہ جَمادات اور بے جان ہیں ،نہ کسی کو نفع پہنچاسکتے ہیں نہ نقصان، اُن کی کیا حقیقت کہ وہ مجھے دیوانہ کرسکیں۔ یہ حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا معجزہ ہے کہ آپ نے ایک زبردست ، صاحبِ قوت و شوکت قوم سے جو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے خون کی پیاسی اور جان کی دشمن تھی اس طرح کے کلمات فرمائے اور اصلًا خوف نہ کیا اور وہ قوم انتہائی عداوت اور دشمنی کے باوجود آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کوئی نقصان پہنچانے سے عاجز رہی۔ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۵۵، ۲ / ۳۵۸، مدارک، ہود تحت الآیۃ: ۵۵، ص۵۰۲، ملتقطاً)
اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْؕ-مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَاؕ-اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۵۶)
ترجمۂ کنزالایمان: میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا رب ہے اور تمہارا رب ،کوئی چلنے والا نہیں جس کی چوٹی اس کے قبضۂ قدرت میں نہ ہو بیشک میرا رب سیدھے راستہ پر ملتا ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: میں نے اللہ پر بھروسہ کرلیا ہے جو میرا اور تمہارارب ہے ۔ زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی پیشانی اس کے قبضہِ قدرت میں نہ ہو۔ بیشک میرا رب سیدھے راستہ پر ملتا ہے۔
{اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ:میں نے اللہ پر بھروسہ کرلیا ہے۔} یعنی تم اگرچہ ہر طرح سے کوشش کر کے دیکھ لو لیکن مجھے ہر گز نقصان نہیں پہنچا سکتے کیونکہ مجھے اللہ عَزَّوَجَلَّپر توکل اور اسی کی حفاظت پر بھروسہ ہے، وہ میرا ا ور تمہارا دونوں کا مالک ہے، کوئی چیز مجھے پہنچ نہیں سکتی جب تک وہ اسے دور کر رہا ہے اور نہ ہی کوئی مجھ پر قدرت حاصل کر سکتاہے جب تک اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے اسے قدرت حاصل نہ ہو،پھر اس بات کی دلیل دیتے ہوئے فرمایا کہ روئے زمین پر کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا وہ مالک اور اس پر قادر نہ ہو، تو اللہ عَزَّوَجَلَّ جیسے چاہتا ہے اس میں تَصَرُّف فرماتا ہے۔ (بیضاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۵۶، ۳ / ۲۴۰-۲۴۱)
فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْؕ-وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْۚ-وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْــٴًـاؕ-اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ(۵۷)
ترجمۂ کنزالایمان: پھر اگر تم مونھ پھیرو تو میں تمہیں پہنچا چکا جو تمہاری طرف لے کر بھیجا گیا اور میرا رب تمہاری جگہ اوروںکو لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے بیشک میرا رب ہر شے پر نگہبان ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر اگر تم منہ پھیرو تو میں تمہیں اُس کی تبلیغ کرچکا ہوں جس کے ساتھ مجھے تمہاری طرف بھیجا گیا تھا اور میرا رب تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے بیشک میرا رب ہر شے پر نگہبان ہے۔
{فَاِنْ تَوَلَّوْا:پھر اگر تم منہ پھیرو۔} یعنی جس دین کے ساتھ میں تمہاری طرف بھیجا گیا ہوں ، اگر تم اس پر ایمان لانے سے اِعراض کرو تو جس دین کے ساتھ مجھے تمہاری طرف بھیجا گیا تھا میں تمہیں اس کی تبلیغ کرچکا ہوں اور اس میں مجھ سے کوئی کمی واقع نہیں ہوئی البتہ اسے قبول نہ کرنے کی بنا پرتم سے خطا سرزد ہوئی ہے، اگر تم نے ایمان لانے سے اعراض کیا اور جو احکام میں تمہاری طرف لایا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع