دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

قبول کی جائے گی یا نہیں تو ان کی نجات کے بارے میں آپ کا سوال کرنا آپ کے مقام و مرتبہ کے لائق نہیں۔ (صاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۴۶، ۳ / ۹۱۶)

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْــٴَـلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌؕ-وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ(۴۷)

ترجمۂ کنزالایمان: عرض کی اے میرے رب میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ تجھ سے وہ چیز مانگوں جس کا مجھے علم نہیں اور اگر تو مجھے نہ بخشے اور رحم نہ کرے تو میں زیاں کار ہوجاؤں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: عرض کی: اے میرے رب ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ تجھ سے وہ چیز مانگوں جس کا مجھے علم نہیں اور اگر تو میری مغفرت نہ فرمائے اور مجھ پر رحم نہ فرمائے تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤں گا۔

{قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ:عرض کی: اے میرے رب !میں تیری پناہ چاہتا ہوں۔} جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی تربیت ہوئی تو آپ نے عرض کی :اے میرے رب ! میں اس بات سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ تجھ سے وہ چیز مانگوں جس کے بارے میں مجھے علم نہیں کہ اسے حاصل کرنا حکمت کے تقاضے کے مطابق ہے یا نہیں اور اگر تو نے میرے اُس سوال پر میری مغفرت نہ فرمائی اور میری عرض قبول فرما کر میرے اوپر رحم نہ فرمایا تو میرا شمار بھی نقصان اٹھانے والوں میں ہو جائے گا۔ (روح البیان، ہود، تحت الآیۃ: ۴۷، ۴ / ۱۳۹-۱۴۰)

حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام معصوم ہیں :

            اس آیت میں حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مقامِ رضا بالقضاء پر فائز ہونے کا بڑا پیارا اِظہار ہے کہ سگا بیٹا نگاہوں کے سامنے ہلاک ہوا اور وعدہ ِ الہٰی کے پیشِ نظر دعا فرمائی لیکن حقیقتِ حال معلوم ہونے اور اللہ تعالیٰ کے تنبیہ فرمانے سے فورا ًعاجزی کے ساتھ اپنی مغفرت اور رحمِ الہٰی کی دعا مانگنا شروع کردی۔ سُبْحَانَ اللہ، سُبْحَانَ اللہ۔ اے اللہ! حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے صدقے ہمیں بھی تیری قضاپر راضی رہنے کی توفیق عطا فرما۔

             علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے اُ س چیز کا مطالبہ کر کے جس کے بارے میں وہ جانتے نہ تھے کوئی گناہ سرزد ہوا تھا کیونکہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہر طرح کے صغیرہ کبیرہ گناہوں سے معصوم ہیں اور حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جو اپنے بیٹے کی نجات کا سوال کیا ا س کی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان کے گھر والوں کو نجات عطا فرمائے گا، اس سے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ سمجھا کہ ان کابیٹا بھی چونکہ ان کے گھر والوں میں سے ہے اس لئے یہ بھی ان نجات پانے والوں میں شامل ہے، جب اللہ تعالیٰ نے اس پر ان کی تربیت فرمائی تو حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اپنے فعل پر دل میں ندامت محسوس ہوئی اور آپ نے اللہ تعالیٰ سے مغفرت و رحمت کا سوال کیا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا درخت سے کھانے والا معاملہ اوریہ گناہ نہیں بلکہ ان کا تعلق حَسَنَاتُ الْاَبْرَارِ سَیِّئَاتُ الْمُقرَّبِیْنَ(نیکوں کے جو نیک کام ہیں مقربوں کے حق میں گناہ ہیں )سے ہے۔ (صاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۴۷، ۳ / ۹۱۶)

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَؕ-وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۴۸)

ترجمۂ کنزالایمان: فرمایا گیا اے نوح کشتی سے اتر ہماری طرف سے سلام اور برکتوں کے ساتھ جو تجھ پر ہیں اور تیرے ساتھ کے کچھ گروہوں پر اور کچھ گروہ وہ ہیں جنہیں ہم دنیا برتنے دیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: فرمایا گیا: اے نوح! ہماری طرف سے اس سلامتی اور ان برکتوں کے ساتھ کشتی سے اتر و جو تم پر اور تمہارے ساتھیوں کی جماعتوں پر ہیں اور کچھ جماعتیں ایسی ہیں جنہیں ہم فائدے دیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا۔

{قِیْلَ:فرمایا گیا۔} آیت میں مذکور سلامتی میں قیامت تک آنے والا ہر مومن مرد اور عورت داخل ہے اور برکتوں سے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ذُرِّیَّت اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پیروی کرنے والوں کی کثرت مراد ہے کہ بکثرت انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور ائمۂ دین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْآپ کی نسلِ پاک سے ہوئے۔یہاں جو فرمایا گیا کہ ’’یہ بَرکات جو تم پر اور تمہارے ساتھیوں کی جماعتوں پر ہیں ‘‘ اس کے متعلق حضرت محمد بن کعب قُرظی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ ان جماعتوں میں قیامت تک ہونے والا ہر ایک مومن داخل ہے۔(صاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۴۸، ۳ / ۹۱۶، خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۴۸، ۳ / ۳۵۵، مدارک، ہود، تحت الآیۃ: ۴۸، ص ۵۰۱، ملتقطاً)

{وَ اُمَمٌ:اور کچھ جماعتیں۔} اس سے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد پیدا ہونے والے کافر گروہ مراد ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ ان کی مقررہ مدتوں تک فراخیِ عیش اور وُسعتِ رزق عطا فرمائے گا پھر انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخرت میں دردناک عذاب پہنچے گا۔ اس میں قیامت تک آنے والا ہر کافر مرد اور کافرہ عورت داخل ہے۔ (صاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۴۸، ۳ / ۹۱۶-۹۱۷)

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَۚ-مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا ﳍ فَاصْبِرْ ﳍ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠(۴۹)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ غیب کی خبریں ہیں کہ ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں انہیں نہ تم جانتے تھے نہ تمہاری قوم اس سے پہلے تو صبر کرو بیشک بھلا انجام پرہیزگاروں کا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم انہیں جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم جانتی تھی تو تم صبر کرو بیشک اچھا انجام پرہیزگاروں کے لئے ہے۔

{ تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ:یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں۔}اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم کے جس واقعے کی ہم نے آپ کو خبر دی یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں۔ آپ پر قرآن نازل ہونے سے پہلے آپ اور آپ کی قوم ان غیبی خبروں کو تفصیل سے نہیں جانتی تھی لہٰذا اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جس طرح حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کی اذیتوں پر صبر کیا اسی طرح آپ بھی اپنی قوم کے مشرکین کی اذیتوں پر صبر کریں ، بے شک اچھا انجام یعنی دشمنوں کے خلاف مدد، فتح اور اُخروی سعادتوں کے حصول کے ذریعے کامیابی ایمان والوں کے لئے ہے۔(خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۴۹، ۲ / ۳۵۶-۳۵۷)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن