دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر میں تمہاری خیرخواہی کرنا چاہوں تو تب بھی میری نصیحت تمہیں نفع نہیں دے گی اگر اللہ تمہیں گمراہ کرنا چاہتا ہو۔ وہ تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔

{اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ:اگر میں تمہاری خیرخواہی کرنا چاہوں۔} حضرت حسن بصری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ یُغْوِیَكُمْ‘‘ کا معنی ہے اللہ تمہیں عذاب دینا چاہے ،اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہوا کہ جس دن تم پر عذاب نازل ہوا اور تم وہ عذاب دیکھ کر ایمان لائے تو اس دن میری نصیحت تمہیں کوئی فائدہ نہ دے گی کیونکہ عذاب نازل ہوتے وقت کا ایمان قبول نہیں۔ میری نصیحت تمہیں اس وقت فائدہ دے گی جب تم عذاب کا مُشاہدہ کرنے سے پہلے ایمان لے آؤ۔( تفسیر کبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۳۴، ۶ / ۳۴۲) دوسرا معنی مَشِیَّتِ الہٰی کے اعتبار سے بھی ہوسکتا ہے جو آیت کے الفاظ سے ظاہر ہے۔

{هُوَ رَبُّكُمْ- وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ:وہ تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔} یعنی تمہارا خدا وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہاری پرورش کی۔ وہ تمہاری موت سے پہلے اور موت کے بعد دونوں حالتوں میں تمہاری ذات اور صِفات میں تَصَرُّف کرنے کا پورا پورا اختیار رکھتا ہے اور مرنے کے بعد تمہیں اسی کی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ یہ آیت اللہ تعالیٰ کی گرفت سے ڈرانے میں انتہائی مفید ہے۔ (تفسیر کبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۳۴، ۶ / ۳۴۳)

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُؕ-قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠(۳۵)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اُسے اپنے جی سے بنالیا تم فرماؤ اگر میں نے بنالیا ہوگا تو میرا گناہ مجھ پر ہے اور میں تمہارے گناہ سے الگ ہوں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا یہ کہتے ہیں کہ یہ اس نے خود ہی بنالیا ہے ۔ تم فرماؤ: اگر میں نے بنا (بھی) لیا ہو تو میرا جرم صرف مجھ پر ہے اور میں تمہارے جرم سے بیزار ہوں۔

{اَمْ یَقُوْلُوْنَ:کیا یہ کہتے ہیں۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قوم کے لوگ یہ کہتے ہیں کہ جو بات حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں وہ انہوں نے اپنے پاس سے ہی بنا لی ہے۔تواے نوح! عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام،تم ان سے فرما دو کہ بالفرض اگر میں نے اپنے پا س سے بنا لی ہے تو مجھے ، میرے گناہ کی سزا ملے گی (لیکن حقیقت یہ ہے کہ) تم نے میرے اوپر جو تہمت لگائی ہے میں تمہارے اس جرم سے بیزار ہوں۔(تفسیر ابو سعود، ہود، تحت الآیۃ: ۳۵، ۳ / ۲۸-۲۹) اس تفسیر کے مطابق اس آیت کا تعلق حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعے کے ساتھ ہی ہے ۔

            دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،کیا کفارِ مکہ یہ کہتے ہیں کہ محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے یہ قرآن خود ہی بنا لیا اور یہ کہہ کر کفاراسے اللہ عَزَّوَجَلَّکا کلام ماننے اور اس کے اَحکام ماننے سے گریز کرتے ہیں اور اس کے رسول پر بہتان باندھتے ہیں اور اُن کی طرف اِفتراء کی نسبت کرتے ہیں جن کی سچائی روشن دلائل اور مضبوط حجتوں سے ثابت ہو چکی ہے،لہٰذا اب اُن سے فرما دو کہ اگر بالفرض میں نے بنا بھی لیا ہو تو میرا جرم صرف مجھ پر ہے، جس کا وبال ضرور آئے گالیکن بِحَمْدِاللہ میں سچا ہوں تو تم سمجھ لو کہ تمہاری تکذیب کا وبال تم پر پڑے گا اور تم نے میرے اوپر جو تہمت لگائی ہے میں تمہارے اس جرم سے بیزار ہوں۔ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۳۵، ۲ / ۳۵۰، مدارک، ہود، تحت الآیۃ: ۳۵، ص۴۹۶، ملتقطاً)

             تفسیرِ جمل میں ہے کہ اس صورت میں یہ آیت حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے قصے کے دوران ا س لئے ذکر کی گئی ہے تاکہ سننے والوں کا نَشاط برقرار رہے۔ (جمل، ہود، تحت الآیۃ: ۳۵، ۳ / ۴۲۹)

وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَىٕسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَۚۖ(۳۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور نوح کو وحی ہوئی کہ تمہاری قوم سے مسلمان نہ ہوں گے مگر جتنے ایمان لاچکے تو غم نہ کھا اس پر جو وہ کرتے ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور نوح کی طرف وحی بھیجی گئی کہ تمہاری قوم میں سے مسلمان ہوجانے والوں کے علاوہ کوئی اور (اب) مسلمان نہیں ہوگاتو تم اس پر غم نہ کھاؤ جو یہ کررہے ہیں۔

{وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ:اور نوح کی طرف وحی بھیجی گئی۔} اس آیت میں حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو یہ خبر دی گئی ہے کہ ان کی قوم کے جو لوگ کفر پر اَڑے ہوئے ہیں ان کا ایمان قبول کرنا محال ہے لہٰذا ان کے ایمان قبول کرنے کی توقع نہ رکھیں۔ آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی بھیجی کہ آپ کی قوم کے جن لوگوں سے ایمان قبول کرنے کی توقع تھی وہ تو ایمان قبول کر چکے ، ان کے علاوہ جو لوگ اپنے کفر پر ہی قائم ہیں وہ اب کسی صورت ایمان قبول نہیں کریں گے لہٰذا اس طویل مدت کے دوران کفار کی طرف سے آپ کو جس تکذیب، اِستہزاء اور اَذِیَّت کا سامنا ہوا اس پر غم نہ کرو ، ان کفارکے کرتوت ختم ہو گئے اور اب ان سے انتقام لینے کا وقت آگیا ہے۔ (ابوسعود، ہود، تحت الآیۃ: ۳۶، ۳ / ۲۹) ایمان لانے والے حضرات کی تعداد مفسرین کے بیان کے مطابق تقریباً اسی(80) تھی۔

وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْاۚ-اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ(۳۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کشتی بنا ہمارے سامنے اور ہمارے حکم سے اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے بات نہ کرنا وہ ضرور ڈوبائے جائیں گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہمارے سامنے اور ہمارے حکم سے کشتی بناؤ اور (اب) ظالموں کے بارے میں مجھ سے بات نہ کرنا۔ بیشک انہیں ضرور غرق کیا جائے گا۔

{وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا: اور ہمارے سامنے اور ہمارے حکم سے کشتی بناؤ۔} جب اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو بتا دیا کہ ان کی قوم میں سے پہلے مسلمان ہوجانے والوں کے علاوہ کوئی اور اب مسلمان نہیں ہوگا تو ا س کا تقاضا یہ تھا کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ان کافروں کو عذاب دینے والا ہے اور چونکہ عذاب کئی طریقوں سے آ سکتا تھا ا س لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بتا دیا کہ وہ  عذاب ڈبو دئیے جانے کی صورت میں ہو گا اور ڈوبنے سے نجات کی صورت صرف کشتی کے ذریعے ممکن تھی ا س لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کشتی تیار کرنے کا حکم دیا چنانچہ ارشاد فرمایا کہ ہماری حفاظت میں اور ہماری تعلیم سے  کشتی بناؤ اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے اُن کی شفاعت اور ان سے عذاب دور ہو جانے کی دعا نہ کرنا کیونکہ غرق ہونا اِن کا مقدرہوچکا ہے۔(روح البیان، ہود، تحت الآیۃ: ۳۷، ۴ / ۱۲۳)

            مروی ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ساج کے درخت بوئے ،بیس سال میں یہ درخت تیار ہوئے، اس عرصہ میں مُطْلَقاً کوئی بچہ پیدا نہ ہوا ، اس سے پہلے جو

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن