دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

جنہیں تمہاری نگاہیں حقیر سمجھتی ہیں یہ نہیں کہتا کہ اللہ ہرگز انہیں کوئی بھلائی نہیں دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے ۔اگر میں ایسی بات کہوں تو ضرور میں ظالموں میں سے ہوں گا۔

{وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ:اور میں تم سے نہیں کہتا ۔} اس سے پہلی آیات میں حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم نے آپ کی نبوت میں تین شُبہات وارد کئے تھے۔

             ایک شُبہ تو یہ تھا کہ ’’ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ‘‘ ہم تم میں اپنے اوپر کوئی بڑائی نہیں پاتے یعنی تم مال و دولت میں ہم سے زیادہ نہیں ہو، اس کے جواب میں حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا ’’ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآىٕنُ اللّٰهِ‘‘ یعنی میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں لہٰذا تمہارا یہ اعتراض بالکل بے محل ہے کیونکہ میں نے کبھی مال کی فضیلت جتائی ہے اور نہ دنیوی دولت کی توقع رکھنے کا تمہیں کہا ہے اور اپنی دعوت کو مال کے ساتھ وابستہ بھی نہیں کیا پھر تم یہ کہنے کے کیسے مستحق ہو کہ ہم تم میں کوئی مالی فضیلت نہیں پاتے ،تمہارا یہ اعتراض محض بے ہودہ ہے۔

            دوسرا شبہ یہ تھا ’’ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ‘‘ یعنی ہم نہیں دیکھتے کہ تمہاری کسی نے پیروی کی ہو، مگر ہمارے کمینوں نے سرسری نظر سے ۔مطلب یہ تھا کہ وہ بھی صرف ظاہر میں مومن ہیں باطن میں نہیں ، اس کے جواب میں حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ فرمایا کہ میں نہیں کہتا کہ میں غیب جانتا ہوں اور میرے اَحکام غیب پر مبنی ہیں تاکہ تمہیں یہ اعتراض کرنے کا موقع ملتا، جب میں نے یہ کہا ہی نہیں تو اعتراض بے محل ہے اور شریعت میں ظاہر ہی کا اعتبار ہے لہٰذا تمہارا اعتراض بالکل بے جا ہے ،نیز ’’لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ‘‘ فرمانے میں قوم پر ایک لطیف اعتراض بھی ہے کہ کسی کے باطن پر حکم کرنا اس کا کام ہے جو غیب کا علم رکھتا ہو جبکہ میں نے اس کا دعویٰ نہیں کیا حالانکہ میں نبی ہوں تو تم کس طرح کہتے ہو کہ وہ دل سے ایمان نہیں لائے۔

            تیسرا شبہ اس قوم کا یہ تھا کہ ’’مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا‘‘ یعنی ہم تمہیں اپنے ہی جیسا آدمی دیکھتے ہیں۔اس کے جواب میں فرمایا کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میں فرشتہ ہوں یعنی میں نے اپنی دعوت کو اپنے فرشتہ ہونے پر موقوف نہیں کیا تھا کہ تمہیں یہ اعتراض کرنے کا موقع ملتا کہ دعویٰ تو فرشتہ ہونے کا کیا تھا لیکن نکلے بشر، لہٰذا تمہارا یہ اعتراض بھی باطل ہے۔ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۳۱، ۲ / ۳۴۹، ملخصاً)

{ وَ لَاۤ اَقُوْلُ: اور میں یہ نہیں کہتا۔} کفار نے چونکہ غریب مسلمانوں کو حقیر سمجھا تھا اس پر حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے فرمایا ’’ میں ان غریب مسلمانوں کے بارے میں جنہیں تمہاری نگاہیں حقیر سمجھتی ہیں یہ حکم نہیں لگاتا کہ اللہ تعالیٰ ہرگز انہیں دنیا و آخرت میں کوئی بھلائی نہ دے گا۔ نیکی یا بدی اِخلاص یا نفاق  جو کچھ ان کے دلوں میں ہے اسے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے ۔ اگر میں اُن کے ظاہری ایمان کو جھٹلا کر اُن کے باطن پر الزام لگاؤں اور انہیں نکال دوں تو ضرور میں ظالموں میں سے ہوں گا اوربِحَمْدِاللہ میں ظالموں میں سے ہر گز نہیں ہوں تو ایسا کبھی نہ کروں گا۔ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۳۱، ۲ / ۳۴۹، مدارک، ہود، تحت الآیۃ: ۳۱، ص۴۹۵، ملتقطاً) اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان کو کسی دلیل کے بغیر منافق یا کافر کہنے والا ظالم ہے کہ شریعت کا حکم ظاہر پر ہے۔

قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ(۳۲)

ترجمۂ کنزالایمان: بولے اے نوح تم ہم سے جھگڑے اور بہت ہی جھگڑے تو لے آؤ جس کا ہمیں وعدہ دے رہے ہو اگر سچے ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: انہوں نے کہا: اے نوح! تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت زیادہ جھگڑا کرلیا ہے تو اگر تم سچے ہو تو وہ عذاب لے آؤ جس کی وعیدیں تم ہمیں دیتے رہتے ہو۔

{قَالُوْا یٰنُوْحُ:انہوں نے کہا: اے نوح!} اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے کفار کی طرف سے پیش کئے گئے شُبہات کے جوابات ذکر فرمائے اور کفار نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے جوابات پر دو اعتراض کئے، ان کا ذکر ا س آیت میں ہے۔

             پہلا اعتراض: کفار نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے جوابات کو بکثرت بحث اور جھگڑا کرنے سے تعبیر کیا اور کہا کہ اے نوح! عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت ہی زیادہ جھگڑا کرلیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کفارکے ساتھ بہت زیادہ بحث فرمائی تھی اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی بحث اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، اپنی نبوت اور آخرت کو ثابت کرنے کے لئے تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ حق کو ثابت کرنے کیلئے دلائل پیش کرنا اور شبہات کا اِزالہ کرنا انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے جبکہ دلائل کے مقابلے میں اپنے آباء و اَجداد کی اندھی تقلید کرنا، جہالت اور گمراہی پر اِصرار کرنا کفار کا طریقہ ہے۔

            دوسرا اعتراض: حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کفار کو جس عذاب کی وعید سنائی تھی ، انہوں نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے اس عذاب کے جلدی نازل ہونے کا مطالبہ کیا اور کہا ’’اگر تم سچے ہو تو اب وہ عذاب لے آؤ جس کی وعیدیں تم ہمیں دیتے رہتے ہو۔(تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۳۲، ۶ / ۳۴۱)حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف سے کفار کے ان اعتراضات کا جواب اگلی آیت میں مذکور ہے۔

قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ(۳۳)

ترجمۂ کنزالایمان: بولا وہ تو اللہ تم پر لائے گا اگر چاہے اور تم تھکا نہ سکو گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:( نوح نے) فرمایا: وہ عذاب تمہارے اوپر اللہ ہی لائے گا اگر وہ چاہے گا اور تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکوگے۔

{قَالَ:فرمایا۔} کفار کے اعتراضات کے جواب میں حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا’’تم پر عذاب نازل کرنے کا اختیار اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے ،وہ جب چاہے گا ا س عذاب کو تم پر نازل کر دے گا اور جب اس نے عذاب نازل کرنے کا ارادہ فرمالیا تو تم اُس عذاب کو روک سکو گے اورنہ اُس سے بچ سکو گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کفر یا بد عملی پر عذاب آنا ضروری نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ارادے پر موقوف ہے۔ (تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۳۳، ۶ / ۳۴۱، روح البیان، ہود، تحت الآیۃ: ۳۳، ۴ / ۱۲۰، ملتقطاً)

وَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْؕ-هُوَ رَبُّكُمْ- وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَؕ(۳۴)

ترجمۂ کنزالایمان:اور تمہیں میری نصیحت نفع نہ دے گی اگر میں تمہارا بھلا چاہوں جبکہ اللہ تمہاری گمراہی چاہے وہ تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف پھرو گے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن