30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور ان کی قوم کا واقعہ۔ (4) حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا فرشتوں کے ساتھ واقعہ۔ (5) حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم کا واقعہ۔ (6) حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم کا واقعہ۔ (7) حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا فرعون کے ساتھ واقعہ ۔ یہ تمام قصے زمانے کی ترتیب کے مطابق بیان فرمائے۔(صاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۲۵، ۳ / ۹۰۸) اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا: اے میری قوم ! میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کرنے اور اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت کرنے پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا صریح ڈر سنانے والا ہوں۔(خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۲۵، ۲ / ۳۴۸)
یاد رہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ سورۂ یونس میں گزر چکا ہے، اس سورت میں اس واقعے کو فوائد کے پیشِ نظر مزید تفصیلات کے ساتھ دوبارہ بیان فرمایا گیا۔ (تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۲۵، ۶ / ۳۳۶)
نوٹ: حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعے کی بعض تفصیلات ا س سے پہلے سورۂ اَعراف آیت 59تا 64 میں گزر چکی ہیں۔
اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَؕ-اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ(۲۶)
ترجمۂ کنزالایمان:کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو بیشک میں تم پر ایک مصیبت والے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔بیشک میں تم پر ایک دردناک دن کے عذاب کا خوف کرتا ہوں۔
{اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ:بیشک میں تم پر ایک دردناک دن کے عذاب کا خوف کرتا ہوں۔} حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم! اگر تم خالصتاً اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت اوراس کی وحدانیت کا اقرار نہ کرو گے اور ان بتوں سے کنارہ کشی اختیار نہ کرو گے تو مجھے خوف ہے کہ کہیں تم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دردناک دن کا عذاب نہ آ جائے۔ درد ناک دن سے مراد یا تو قیامت کا دن ہے یا طوفان آنے کا دن اور دن کو مجازی طور پر دردناک اس لئے فرمایا گیا کہ دردناک عذاب ا س دن نازل ہو گا۔ (تفسیر طبری، ہود، تحت الآیۃ: ۲۶، ۷ / ۲۷، ابو سعود، ہود، تحت الآیۃ: ۲۶، ۳ / ۲۳، تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۲۶، ۶ / ۳۳۶، ملتقطاً)
حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عمر:
حضرت عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام چالیس سال کی عمر میں مبعوث ہوئے اور نو سو پچاس سال اپنی قوم کو دعوت فرماتے رہے اور طوفان کے بعد ساٹھ برس دنیا میں رہے تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عمر ایک ہزار پچاس سال کی ہوئی۔ اس کے علاوہ عمر شریف کے متعلق اور بھی قول ہیں۔( خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۲۶، ۲ / ۳۴۸)
فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِۚ-وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ(۲۷)
ترجمۂ کنزالایمان: تو اس کی قوم کے سردار جو کافر ہوئے تھے بولے ہم تو تمہیں اپنے ہی جیسا آدمی دیکھتے ہیں اور ہم نہیں دیکھتے کہ تمہاری پیروی کسی نے کی ہو مگر ہمارے کمینوں نے سرسری نظر سے اور ہم تم میں اپنے اوپر کوئی بڑائی نہیں پاتے بلکہ ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان:تو اس کی قوم کے کافر سردار کہنے لگے : ہم تو تمہیں اپنے ہی جیسا آدمی سمجھتے ہیں اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ تمہاری پیروی صرف ہمارے سب سے کمینے لوگوں نے سرسری نظر دیکھ کر بغیر سوچے سمجھے کرلی ہے اور ہم تمہارے لئے اپنے اوپر کوئی فضیلت نہیں پاتے بلکہ ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔
{فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ:تو اس کی قوم کے کافر سردار کہنے لگے ۔} جب حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دی تو انہوں نے تین شُبہات وارد کر کے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نبوت میں طعن کیا ۔
(1)… حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہماری طرح بشر ہیں۔ اس گمراہی میں بہت سی اُمتیں مبتلا ہو کر اسلام سے محروم رہیں ، قرآنِ پاک میں جا بجا ان کے تذکرے ہیں ، اس اُمت میں بھی بہت سے بدنصیب نبیوں کے سردار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکوبے ادبی سے بشر کہتے اور ہمسری کا فاسد خیال رکھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ انہیں گمراہی سے بچائے۔
(2)… حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی پیروی سب سے کمینے لوگوں نے غور وفکر کے بغیر کر لی ۔ کمینوں سے مراد اُن کی وہ لوگ تھے جو اُن کی نظر میں گھٹیا پیشے رکھتے تھے اور حقیقت یہ ہے کہ اُن کا یہ قول خالصتاً جہالت پر مبنی تھا کیونکہ انسان کا حقیقی مرتبہ دین کی پیروی اور رسول کی فرمانبرداری سے ہے جبکہ مال و منصب اور پیشے کو اس میں دخل نہیں ، دیندار، نیک سیرت، پیشہ ور کو حقارت کی نظر سے دیکھنا اور حقیر جاننا جاہلانہ فعل ہے۔
(3)… ہم تمہارے لئے اپنے اوپر مال اور ریاست میں کوئی فضیلت نہیں پاتے بلکہ ہم تمہیں نبوت کے دعویٰ میں اور تمہاری پیروی کرنے والوں کو اس کی تصدیق میں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔ان کا یہ قول بھی جہالت پر مبنی تھا کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک بندے کے لئے ایمان و طاعت فضیلت کا سبب ہے نہ کہ مال و ریاست۔(تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۲۷، ۶ / ۳۳۶، خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۳۴۸، مدارک، ہود، تحت الآیۃ: ۲۷، ص۴۹۴، ملتقطاً)
نوٹ:ان شُبہات کا تفصیلی جواب آیت نمبر31میں مذکور ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ یہی سابقہ جاہلیت ہمارے زمانے میں بھی پائی جاتی ہے کہ گمراہ یا فاسق لوگ عموماً مالدار ہوتے ہیں جبکہ دیندار لوگ غریب اور پھر یہی فاسق و گمراہ لوگ غریبوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔
قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْؕ-اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ(۲۸)
ترجمۂ کنزالایمان: بولا اے میری قوم بھلا بتاؤ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے رحمت بخشی تو تم اس سے اندھے رہے کیا ہم اسے تمہارے گلے چپیٹ دیں اور تم بیزار ہو۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع