دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں اور دنیا میں جو کچھ انہوں نے کیا وہ سب برباد ہوگیا اور ان کے اعمال باطل ہیں۔

{اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ:یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں۔} شانِ نزول : امام ضحاک  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں کہ یہ آیت مشرکین کے بارے میں ہے کہ وہ اگر صلہ رحمی کریں یا محتاجوں کو دیں یا کسی پریشان حال کی مددکریں یا اس طرح کی کوئی اور نیکی کریں تو اللہ تعالیٰ وسعتِ رزق وغیرہ سے اُن کے عمل کی جزا دنیا ہی میں دے دیتا ہے اور آخرت میں اُن کے لئے کوئی حصہ نہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ، منافقین رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ جہادوں میں مالِ غنیمت حاصل کرنے کے لئے شامل ہوتے تھے کیونکہ وہ آخرت کے ثواب کا یقین نہ رکھتے تھے۔ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۱۶، ۲ / ۳۴۴-۳۴۵)

اعمال قبول ہونے کے لئے ایمان شرط ہے:

            اس سے معلوم ہوا کہ ایمان کے بغیر کوئی نیکی رب تعالیٰ کے نزدیک قبول نہیں ،جیسے نماز کے لئے وضو شرطِ جواز ہے ایسے ہی اعمال کے لئے ایمان شرطِ قبول ہے۔

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةًؕ-اُولٰٓىٕكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖؕ-وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗۚ-فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُۗ-اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۱۷)

ترجمۂ کنزالایمان:تو کیا وہ جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہو اور اس پر اللہ کی طرف سے گواہ آئے اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت وہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو اس کا منکر ہو سارے گروہوں میں تو آگ اس کا وعدہ ہے تو اے سننے والے تجھے کچھ اس میں شک نہ ہو بیشک وہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے لیکن بہت آدمی ایمان نہیں رکھتے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیا وہ جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہو اور اللہ کی طرف سے اس پر ایک گواہ آئے اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب ہوجو پیشوا اور رحمت ہے ۔ وہ لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اور تمام گروہوں میں سے جو اس کا انکار کرے توآگ اس کا وعدہ ہے۔ تو اے سننے والے!تجھے اس کے بارے میں کوئی شک نہ ہو۔بیشک یہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

{اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ:تو کیا وہ جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہو۔} اس سے پہلی آیت میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا کہ جو اپنے اعمال کے بدلے دنیا کی زندگی اور اس کی زیب و زینت چاہتے ہیں اور اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے کہ جو اپنے اعمال کے بدلے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا اور اس کی خوشنودی کے طالب ہیں۔(خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۱۷، ۲ / ۳۴۵) بعض مفسرین کے نزدیک  روشن دلیل سے وہ دلیلِ عقلی مراد ہے جو اسلام کی حقانیت پر دلالت کرے اور اس شخص سے جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہووہ یہود ی مراد ہیں جو اسلام سے مشرف ہوئے، جیسے کہ حضرت عبد اللہ بن سلام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور گواہ سے مراد قر آنِ پاک ہے۔ (مدارک، ہود، تحت الآیۃ: ۱۷، ص۴۹۲، تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۱۷، ۶ / ۳۲۹) اور بعض مفسرین کے نزدیک روشن دلیل سے مراد قرآن پاک اور ’’اس شخص سے جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہو‘‘ سے مراد نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَیا اہلِ ایمان اور  گواہ سے مراد حضرت جبرئیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں۔(جلالین، ہود، تحت الآیۃ: ۱۷، ص۱۸۱) آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے روشن دلیلپر ہو اورا س روشن دلیل پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ایک گواہ بھی آئے اور اِس کی صحت کی گواہی دے کیا وہ اُس کی طرح ہو سکتا ہے جو دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش چاہتا ہو،ایسا نہیں ، ان دونوں میں عظیم فرق ہے۔ اور اس سے پہلے یعنی قرآن نازل ہونے اور رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو مبعوث فرمائے جانے سے پہلے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی کتاب تورات ان کے لئے پیشوا اور رحمت تھی کہ وہ لوگ دینی اور شرعی معاملات میں اس کی طرف رجوع کرتے تھے نیز تورات گمراہوں کوہدایت کی راہ دکھاتی تھی ، اور ان اَوصاف کے حامل افراد نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور قرآن پر ایمان لاتے ہیں اور یہودی ، عیسائی، مجوسی، بتوں کے پجاری وغیرہ تمام کفار اور دیگر اَدیان کو ماننے والوں میں سے جو کوئی حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاور قرآن پر ایمان نہ لائے گا تو آخرت میں آگ اس کا وعدہ ہے۔ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۱۷، ۲ / ۳۴۶، مدارک، ہود، تحت الآیۃ: ۱۷، ص۴۹۲-۴۹۳، ملتقطاً)

            حدیث پاک میں بھی یہ بات بیان ہوئی ہے چنانچہ حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ا رشاد فرمایا ’’ اس کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی جان ہے، اس اُمت میں جو کوئی بھی ہے یہودی ہو یا نصرانی جس کو بھی میری خبر پہنچے اور وہ میرے دین پر ایمان لائے بغیر مرجائے تووہ ضرور جہنمی ہے۔ (مسلم، کتاب الایمان، باب وجوب الایمان برسالۃ نبیّنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم الی جمیع الناس۔۔۔ الخ، ص۹۰، الحدیث: ۲۴۰(۱۵۳))

{فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ:تو اے سننے والے!تجھے اس کے بارے میں کوئی شک نہ ہو۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے سننے والے! اس دین کے صحیح ہونے اور قرآن کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے کے بارے میں شک نہ کر، بیشک یہ تیرے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے حق ہے لیکن اکثر لوگ ا س قرآن کی تصدیق نہیں کرتے ۔اس تفسیر کے مطابق آیت کے اس حصے کا تعلق ماقبل مذکور آیت نمبر 13’’ اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ ‘‘ سے ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے سننے والے! تو اس بات میں شک نہ کر کہ دیگر اَدیان کو ماننے والوں میں سے جو کو ئی رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان نہ لائے گا تو آخرت میں اس کا وعدہ آگ ہے، لیکن اکثر لوگ اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ کفار کے لئے آگ کاوعدہ ہے۔ اس تفسیر کے مطابق آیت کے اس حصے کا تعلق اسی آیت کے اس حصے’’وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ ‘‘ سے ہے۔( خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۱۷، ۲ / ۳۴۶)

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاؕ-اُولٰٓىٕكَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْۚ-اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ(۱۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے وہ اپنے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے اور گواہ کہیں گے یہ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا تھا ارے ظا لموں پر خدا کی لعنت۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے؟ یہ لوگ اپنے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے اور گواہی دینے والے کہیں گے: یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا تھا۔ خبردار! ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن