30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُؕ-قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۱۳)
ترجمۂ کنزالایمان: کیا یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اسے جی سے بنالیا تم فرماؤ کہ تم ایسی بنائی ہوئی دس سورتیں لے آؤ اور اللہ کے سوا جو مل سکیں سب کو بلالو اگر سچے ہو۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا یہ کہتے ہیں : یہ قرآن نبی نے خود ہی بنالیا ہے۔ تم فرماؤ: (اگر یہ بات ہے ) تو تم (بھی) ایسی بنائی ہوئی دس سورتیں لے آؤ اور اگر تم سچے ہو تو اللہ کے سوا جو مل سکیں سب کو بلالو ۔
{اَمْ یَقُوْلُوْنَ:کیا یہ کہتے ہیں۔} یعنی کیا کفارِمکہ قرآنِ کریم کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے یہ قرآن خود ہی بنالیا ہے۔ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان سے فرما دیں کہ ’’اگر یہ بات ہے تو تم بھی ایسی بنائی ہوئی دس سورتیں لے آؤ کیونکہ انسان اگر ایسا کلام بناسکتا ہے تو اس کے مثل بنانا تمہاری طاقت سے باہر نہ ہوگا، تم بھی عربی ہو، فصیح و بلیغ ہو، کوشش کرو ۔ اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ یہ کلام انسان کا بنایا ہوا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا جو مل سکیں سب کو اپنی مدد کے لئے بلالو۔ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۱۳، ۲ / ۳۴۳-۳۴۴)
قرآنِ مجید کا اپنی مثل بنا کر دکھانے کے چیلنج:
قرآنِ مجید نے اپنی مثل کلام بنا کر پیش کرنے کا چیلنج 4 طرح سے دیا ہے۔
(1)…پورے قرآن کے مثل لانے کا چیلنج دیا چنانچہ سورہ بنی اسرائیل میں ہے
’’قُلْ لَّىٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِیْرًا‘‘ (بنی اسرائیل:۸۸)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: اگر آدمی اور جن سب اس بات پر متفق ہوجائیں کہ اس قرآن کی مانند لے آئیں تو اس کا مثل نہ لاسکیں گے اگرچہ ان میں ایک دوسرے کا مددگار ہو۔
(2)…د س سورتوں کی مثل لانے کا چیلنج دیا ، جیسا کہ زیر تفسیر آیت میں ہے۔
(3)… ایک سورت کی مثل لانے کا چیلنج دیا ،چنانچہ سورہ ٔبقرہ میں ہے
’’وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ۪-وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ‘‘ (بقرہ:۲۳)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر تمہیں اس کتاب کے بارے میں کوئی شک ہو جو ہم نے اپنے خاص بندے پرنازل کی ہے تو تم اس جیسی ایک سورت بنالاؤ اور اللہ کے علاوہ اپنے سب مددگاروں کو بلالو اگر تم سچے ہو۔
اور سورۂ یونس میں ہے :
’’ اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُؕ-قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ‘‘(یونس: ۳۸)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ اس (نبی) نے اسے خود ہی بنالیا ہے ؟ تم فرماؤ: تو تم (بھی) اس جیسی کوئی ایک سورت لے آؤ اور اللہ کے سوا جو تمہیں مل سکیں سب کو بلا لاؤاگر تم سچے ہو۔
(4)… آخری چیلنج یہ دیا کہ اس جیسی ایک بات ہی بنا لائیں ،چنانچہ سورہ ٔطور میں ہے
’’ اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗۚ-بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَۚ(۳۳) فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِهٖۤ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَ‘‘ (طور: ۳۳، ۳۴)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بلکہ وہ کہتے ہیں کہ اس نبی نے یہ قرآن خود ہی بنالیا ہے بلکہ وہ ایمان نہیں لاتے۔اگریہ سچے ہیں تو اس جیسی ایک بات تو لے آئیں۔
فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ(۱۴)
ترجمۂ کنزالایمان: تو اے مسلمانو اگر وہ تمہاری اس بات کا جواب نہ دے سکیں تو سمجھ لو کہ وہ اللہ کے علم ہی سے اترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں تو کیا اب تم مانو گے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اگر وہ تمہاری اس بات کا جواب نہ دے سکیں تو سمجھ لو کہ وہ اللہ کے علم ہی سے اتارا گیا ہے اور (جان لو) کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو کیااب تم مانو گے۔
{فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ:تو اے مسلمانو! اگر وہ تمہاری اس بات کا جواب نہ دے سکیں۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے مسلمانو! اگر کفار تمہارے اس چیلنج کا جواب نہ دے سکیں اور دس سورتوں کی مثل پیش کرنے سے عاجز رہیں تو تم اپنے اس علم پر ثابت قدم رہو کہ قرآن اللہ عَزَّوَجَلَّکا ہی کلام ہے اور جان لو کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں ،تو کیا اب تم مانو گے اور یقین رکھو گے کہ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہے ،مطلب یہ کہ اعجازِ قرآن دیکھ لینے کے بعد ایمان و اسلام پر ثابت رہو۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار سے فرمایا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا جو مل سکیں سب کو اپنی مدد کے لئیبلالو اور ا س آیت میں فرمایا کہ اے کافرو! اگر تمہارے مددگار تمہیں کوئی جواب نہ دے سکیں اور تمہاری کوئی مدد نہ کرسکیں تو سمجھ لو کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کے علم ہی سے اتارا گیا ہے ،کسی نے اللہ عَزَّوَجَلَّپر جھوٹ نہیں باندھا بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّنے ہی اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر اسے نازل فرمایا ہے اور جان لو کہ جس اللہ عَزَّوَجَلَّ نے قرآن نازل فرمایا ہے وہی عبادت کے لائق ہے اور جن بتوں کو تم پوجتے ہو وہ عبادت کے لائق ہر گز نہیں تو کیا تم اسلام قبول کرو گے اور اخلاص کے ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّکی عبادت کرو گے؟ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۱۴، ۲ / ۳۴۴)
مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ(۱۵)
ترجمۂ کنزالایمان:جو دنیا کی زندگی اور آرائش چاہتا ہو ہم اس میں ان کا پورا پھل دے دیں گے اور اس میں کمی نہ دیں گے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان:جو دنیا کی زندگی اوراس کی زینت چاہتا ہو توہم دنیا میں انہیں ان کے اعمال کا پورا بدلہ دیں گے اور انہیں دنیا میں کچھ کم نہ دیا جائے گا۔
{مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا:جو دنیا کی زندگی اوراس کی زینت چاہتا ہو۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو اپنے نیک اعمال سے دنیا کی زندگی اوراس کی زینت چاہتا ہو اور اپنی کم ہمتی سے آخرت پر نظر نہ رکھتا ہو توہم انہیں ان کے اعمال کا پورا بدلہ دیں گے اور جو اعمال اُنہوں نے طلبِ دُنیا کے لئے کئے ہیں ان کا اجر صحت و دولت ، وسعتِ رزق اورکثرتِ اولاد وغیرہ سے دنیا ہی میں پورا کردیں گے اور طلبِ دنیا کے لئے کئے ہوئے اعمال کے اجر میں کمی نہ کریں گے بلکہ ان اعمال کا پورا اور کامل اجر دیں گے۔ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۱۵، ۲ / ۳۴۴)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع