دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

مسعود ومن کلامہ، ۹ / ۱۰۴، الحدیث: ۸۵۴۴)

(3)… حضرت صہیب رومی  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ مومن کے معاملے پر تعجب ہے کہ اس کا سارا معا ملہ بھلائی پرمشتمل ہے اور یہ صرف اُسی مومن کے لئے ہے جسے خو شحالی حاصل ہوتی ہے تو شکر کرتا ہے کیونکہ اس کے حق میں یہی بہتر ہے اور اگر تنگدستی پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے حق میں بہتر ہے ۔(مسلم، کتاب الزہد والرقائق، باب المؤمن امرہ کلّہ خیر، ص۱۵۹۸، الحدیث: ۶۴(۲۹۹۹))

(4)…حضرت عبد اللہ بن عبا س  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ’’ جس کے مال یا جان میں مصیبت آئی پھر اس نے اسے پوشیدہ رکھا اور لوگوں پر ظاہر نہ کیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ پر حق ہے کہ اس کی مغفرت فرمادے۔ (معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ احمد، ۱ / ۲۱۴، الحدیث: ۷۳۷)

(5)…حضرت ابو سعید خدری  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرور ِدو عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا، ’’مسلمان کو پہنچنے والا کوئی دکھ،تکلیف،غم،ملال، اَذِیَّت اور درد ایسا نہیں ،خواہ اس کے پیر میں کانٹا ہی چبھے مگر اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ (بخاری، کتاب المرضی، باب ما جاء فی کفارۃ المرض، ۴ / ۳، الحدیث: ۵۶۴۱-۵۶۴۲)

(6)…حضرت جابر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا’’ قیامت کے دن جب مصیبت زدہ لوگوں کو ثواب دیا جائے گا تودنیا میں عافیت کے ساتھ رہنے والے تمنا کریں گے کہ’’ کاش! ان کے جسموں کوقینچیوں سے کاٹ دیا جاتا۔ (ترمذی، کتاب الزہد، ۵۹-باب، ۴ / ۱۸۰، الحدیث: ۲۴۱۰)

            اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی نعمتوں پر شکر کرنے کی توفیق اور عافیت عطا فرمائے اور اگر کوئی مصیبت آ جائے تو اس پر صبر کرنے کی توفیق نصیب فرمائے،اٰمین۔

نعمت ملنے پر شکر کرنے کی برکات:

            نعمت ملنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی بہت برکتیں ہیں ، ان میں سے دو برکتیں درج ذیل ہیں :

(1)… نعمت ملنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی صورت میں بندہ عذاب سے محفوظ رہتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے

’’مَا یَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِیْمًا‘‘  (النساء:۱۴۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور اگر تم شکر گزار بن جاؤ اور ایمان لاؤ تو اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اور اللہ قدر کرنے والا، جاننے والاہے۔

(2)…نعمت کا شکر ادا کرنے پر اللہ تعالیٰ نعمتوں میں مزید اضافہ فرما دیتا ہے ،چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے

’’وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَىٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ‘‘ (ابراہیم:۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور یاد کرو جب تمہارے رب نے اعلان فرمادیا کہ اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گااور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے۔

            اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین۔

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآىٕقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌؕ-اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌؕ-وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌؕ(۱۲)

ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا جو وحی تمہاری طرف ہوتی ہے اس میں سے کچھ تم چھوڑ دو گے اور اس پر دل تنگ ہوگے اس بنا پر کہ وہ کہتے ہیں ان کے ساتھ کوئی خزانہ کیوں نہ اترا یاان کے ساتھ کوئی فرشتہ آتا تم تو ڈر سنانے والے ہو اور اللہ ہر چیز پر محافظ ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیا تمہاری طرف جو وحی بھیجی جاتی ہے تم اس میں سے کچھ چھوڑ دو گے اور اس پرتمہارا دل اس وجہ سے تنگ ہوجائے گا کہ وہ کہتے ہیں : ان پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اترتا یا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آتا؟ تم تو ڈر سنانے والے ہو ، اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔

{فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ:تو کیا تمہاری طرف جو وحی بھیجی جاتی ہے تم اس میں سے کچھ چھوڑ دو گے۔} اس آیت کی تفسیر میں علماء نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس کے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ رسالت کی ادائیگی میں کمی کرنے والے نہیں اور اُس نے اُن کو اس سے معصوم فرمایا ہے، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انہیں تبلیغِ رسالت کی تاکید فرمائی اور اس تاکید میں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تسکینِ خاطر بھی ہے اور کفار کی مایوسی بھی کہ اُن کا مذاق اڑانا تبلیغ کے کام میں مُخِل نہیں ہو سکتا۔ شانِ نزول : عبداللہ بن اُمیہ مخزومی نے رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے کہا تھا کہ اگر آپ سچے رسول ہیں اور آپ کا خدا ہر چیز پر قادر ہے تو اُس نے آپ پر خزانہ کیوں نہیں اُتارا یا آپ کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا جو آپ کی رسالت کی گواہی دیتا، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۱۲، ۲ / ۳۴۳، ملخصاً)

نبیٔ  کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا وحی میں خیانت کرنا ناممکن ہے:

            امام فخر الدین رازی  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ تمام مسلمانوں کا اس پر اِجماع اور اتفاق ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کاوحی اور تنزیل میں خیانت کرنا اور وحی کی بعض چیزوں کو ترک کر دینا ممکن نہیں ، کیونکہ اگر یہ بات ممکن مانیں تو اس طرح ساری شریعت ہی مشکوک ہو جائے گی اور نبوت میں طعن لازم آئے گا، نیز رسالت سے اصل مقصود ہی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام احکام بندوں تک پہنچا دیئے جائیں اور جب ایسا نہ ہو تو رسالت سے جو فائدہ مطلوب تھا وہ حاصل ہی نہ ہو گا، اس لئے اس آیت کا ظاہری معنی مراد نہیں ہے بلکہ اس آیت سے مقصود یہ بتانا ہے کہ اگر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ساری وحی کی تبلیغ کریں گے تو کفار کی طرف سے طعن و تشنیع اور مذاق اڑانے کا خدشہ ہے اور اگر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بتوں کی مذمت والی آیات نہ بیان کریں گے تو کفار آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مذاق تو نہ اُڑائیں گے لیکن اس طرح وحی میں خیانت لازم آئے گی اور جب دو خرابیوں میں سے ایک خرابی لازم ہو تو اس وقت بڑی خرابی کو ترک کر کے چھوٹی خرابی کو برداشت کر لینا چاہئے اور چونکہ وحی میں خیانت کرنے کے مقابلے میں کفار کے طعن و تشنیع کو برداشت کرلینا زیادہ آسان ہے اس لئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وحی میں خیانت کی خرابی سے دور رہتے ہوئے کفار کے طعن و تشنیع کی خرابی کو برداشت کرلیں۔ (تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۱۲، ۶ / ۳۲۳-۳۲۴)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن