دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر ہم انسان کو اپنی کسی رحمت کا مزہ دیں پھر وہ رحمت اس سے چھین لیں توبیشک وہ بڑا مایوس اور ناشکرا (ہوجاتا) ہے۔

{وَ لَىٕنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً:اور اگر ہم انسان کو اپنی کسی رحمت کا مزہ دیں۔} ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں ’’الْاِنْسَانَ‘‘ سے مراد مُطلق انسان ہے پھر (آیت نمبر 11میں ) اس سے صبر کرنے والے اور نیک مسلمانوں کا اِستثنا ء فرمایا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آیت میں مذکور ’’ الْاِنْسَانَ‘‘ میں مومن اور کافر دونوں داخل ہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ’’الْاِنْسَانَ‘‘ سے کافر انسان مراد ہے۔ (تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۹، ۶ / ۳۲۱-۳۲۲) اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر ہم انسان کو اپنی کسی رحمت کا مزہ چکھائیں اور صحت، امن، وسعتِ رزق اور دولت عطا کریں پھر یہ سب اس سے چھین لیں اور اسے مَصائب میں مبتلا کردیں تو بیشک وہ  دوبارہ اس نعمت کے پانے سے مایوس ہوجاتا ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل سے اپنی اُمید ختم کرلیتا ہے اور صبر و رضا پر ثابت قدم نہیں رہتا اور گزشتہ نعمت کی ناشکری کرتا ہے۔(مدارک، ہود، تحت الآیۃ: ۹، ص۴۹۱، خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۹، ۲ / ۳۴۲، ملتقطاً)

وَ لَىٕنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْؕ-اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ(۱۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر ہم اسے نعمت کا مزہ دیں اس مصیبت کے بعد جو اسے پہنچی تو ضرور کہے گا کہ برائیاں مجھ سے  دور ہوئیں بیشک وہ خوش ہونے والا بڑائی مارنے والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر ہم مصیبت کے بعد جو اسے پہنچی ہو اسے نعمت کا مزہ دیں تو ضرور کہے گا کہ برائیاں مجھ سے دور ہوگئیں بیشک وہ (اس وقت) بہت خوش ہونے والا، فخر و تکبر کرنے والا ہوجاتا ہے۔

{وَ لَىٕنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ:اور اگر ہم کسی مصیبت کے بعد جو اسے پہنچی ہو اسے نعمت کا مزہ دیں۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر ہم انسان کو اس مصیبت کے بعد جو اسے پہنچی ہو نعمت کا مزہ چکھائیں اور بیماری کے بعد صحت، تنگی کے بعد آسانی اور فقیری کے بعد مال و دولت کی وسعت عطا کریں تو ایسا بندہ یہ تو کہتا ہے کہ جو مصیبتیں مجھے پہنچیں وہ اب مجھ سے دور ہو گئیں لیکن ا س وقت شکر گزار ہونے اور حقِ نعمت ادا کرنے کے بجائے وہ خوشی میں پھولتا پھرتا ہے اور ان نعمتوں کے ملنے کی وجہ سے فخر و تکبر میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ (ابوسعود، ہود، تحت الآیۃ: ۱۰، ۳ / ۱۱، مدارک، ہود، تحت الآیۃ: ۱۰، ص۴۹۱، خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۱۰، ۲ / ۳۴۲، ملتقطاً)یہ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ مصیبت دور ہونے اور نعمت ملنے کے بعد ناشکری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ مزید اطاعت کے لئے سر جھکا دینا چاہیے۔

شیخی کی خوشی منع اورشکریہ کی خوشی عبادت ہے:

            اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شیخی کی خوشی منع ہے جبکہ شکریہ کی خوشی عبادت ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّفرماتا ہے:

’’ قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا‘‘(سورۂ یونس:۵۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر ہی خوشی منانی چاہیے۔

            مذکورہ بالا دونوں خوشیوں میں فرق کی وجہ یہ ہے کہ شیخی کی خوشی میں نظر اپنی ذات پر ہوتی ہے اور شکریہ میں توجہ ربِّ کریم عَزَّوَجَلَّ کی طرف ہوتی ہے، نیز شیخی غفلت پید اکرتی ہے اور شکریہ کی خوشی جذبہِ اطاعت پیدا کرتی ہے۔

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان: مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔

{اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ:مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے۔} اس آیت کا معنی یہ ہے ’’لیکن وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کئے تو وہ ان کی طرح نہیں ہیں کیونکہ انہیں جب کوئی مصیبت پہنچی تو انہوں نے صبر سے کام لیا اور کوئی نعمت ملی تو اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کیا، جو ایسے اَوصاف کے حامل ہیں ان کے لئے گناہوں سے بخشش اور بڑا ثواب یعنی جنت ہے۔(خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۱۱، ۲ / ۳۴۲)

مومن کی شان:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ نعمت چھن جانے پر صبر کرنا اور راحت ملنے پر شکر کرنا اور بہر صورت اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری میں مصروف رہنا مومن کی شان ہے، لیکن افسوس! یہاں جو طرزِ عمل کفار کا بیان کیا گیا ہے وہ آج مسلمانوں میں بھی نظر آ رہا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان سے اپنی دی ہوئی نعمت واپس لے لیتا ہے تو یہ اس قدر اَفْسُردہ اور مایوس ہو جاتے ہیں کہ ان کی زبانیں کفر تک بکنا شروع کر دیتی ہیں اور جب ان میں سے کسی پر آئی ہوئی مصیبت اللہ تعالیٰ دور کر دیتا ہے تو وہ لوگوں پر فخرو غرور کا اِظہار شروع کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عقلِ سلیم اور ہدایت عطا فرمائے،اٰمین۔

مصیبت پر صبر کرنے اور رضائے الہٰی پر راضی رہنے کے 6فضائل:

            موضوع کی مناسبت سے یہاں ہم مصیبت پر صبر و شکر کرنے اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنے کے فضائل اور نعمت ملنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنے کی برکات ذکر کرتے ہیں تاکہ ان سے مسلمانوں کو صبر و شکر کرنے کی ترغیب ملے اور وہ کفار کے طرزِ عمل سے بچنے کی کوشش کریں۔

(1)… حضرت ابو سعید خُدری  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا کہ’’ جو صبر کرنا چا ہے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے صبر کی توفیق عطا فرما دے گا اور صبر سے بہتر اور وسعت والی عطا کسی پر نہیں کی گئی۔( مسلم، کتاب الزکاۃ، باب فضل التعفف والصبر، ص۵۲۴، الحدیث: ۱۲۴(۱۰۵۳))

(2)…حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ۔ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشادفرمایا کہ ’’صبر نصف ایمان ہے اور یقین پورا ایمان ہے۔ (معجم الکبیر، خطبۃ ابن

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن