30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انہیں فرائض پر عمل کی تاکید کا کہا جائے تو ان کا جواب یہ ہوتا ہے کہ جب لوگ مستحب پر عمل کرنا شروع ہو جائیں گے تو فرائض کے خود ہی پابند بن جائیں گے ،جبکہ ان کی مستحب پر عمل کی مسلسل تاکید کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں نے فرائض کے مقابلے میں مستحبات پرزیادہ عمل کرنا شروع کر دیا اور فرائض پر عمل میں کوتاہی کرنے لگ گئے ،اس لئے ہونا یہ چاہئے فرائض پر عمل کی ترغیب دینا اَوّلین تَرجیح ہو اور اس کے لئے کوشش بھی زیادہ ہو تاکہ لوگوں کی نظر میں فرائض کی اہمیت میں اضافہ ہو اور وہ فرائض کی بجا آوری کی طرف زیادہ مائل ہوں البتہ اس کے ساتھ مستحب پر عمل کا بھی ذہن دیا جائے تاکہ لوگوں میں زیادہ نیکیاں کرنے کاجذبہ پیدا ہو۔
{اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ:اللہ ہی کی طرف تمہارا لوٹنا ہے۔} یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کی طرف آخرت میں تمہارالوٹنا ہے، وہاں نیکیوں اور بدیوں کی جزا و سزا ملے گی اور وہ ہر شے پر جیسے دنیا میں تمہیں روزی دینے پر ،موت دینے پر ،موت کے بعد زندہ کرنے اور ثواب و عذاب سب پرقادرہے۔ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۴، ۲ / ۳۴۰، ابوسعود، ہود، تحت الآیۃ: ۴، ۳ / ۵، ملتقطاً)
اَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْهُؕ-اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَهُمْۙ-یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَۚ-اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ(۵)
ترجمۂ کنزالایمان: سنو وہ اپنے سینے دوہرے کرتے ہیں کہ اللہ سے پردہ کریں سنو جس وقت وہ اپنے کپڑوں سے سارا بدن ڈھانپ لیتے ہیں اس وقت بھی اللہ ان کا چھپا اور ظاہر سب کچھ جانتا ہے بیشک وہ دلوں کی بات جاننے والا ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: سن لو! بیشک وہ لوگ اپنے سینوں کو دوہرا کرتے ہیں تاکہ اللہ سے چھپ جائیں۔سن لو! جس وقت وہ اپنے کپڑوں سے سارا بدن ڈھانپ لیتے ہیں اس وقت بھی اللہ ان کا چھپا اور ظاہر سب کچھ جانتا ہے ،بیشک وہ دلوں کی بات جاننے والا ہے۔
{اَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ: سن لو! بیشک وہ لوگ اپنے سینوں کو دوہرا کرتے ہیں۔} مفسرین نے اس آیت کے مختلف شانِ نزول بیان کئے ہیں ،ان میں سے 3 شان نزولِ درج ذیل ہیں
(1)…حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا: یہ آیت اخنس بن شریق کے حق میں نازل ہوئی ،یہ بہت شیریں گفتار شخص تھا، رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سامنے آتا تو بہت خوشامد کی باتیں کرتا اور دل میں بغض و عداوت چھپائے رکھتا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔آیت کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے سینوں میں عداوت چھپائے رکھتے ہیں جیسے کپڑے کی تہ میں کوئی چیز چھپائی جاتی ہے۔
(2)… ایک قول یہ ہے کہ بعض منافقین کی عادت تھی کہ جب رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا سامنا ہوتا تو سینہ اور پیٹھ جھکاتے ، سر نیچا کرتے اور چہرہ چھپالیتے تاکہ انہیں رسولِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دیکھ نہ پائیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۵، ۲ / ۳۴۰)
(3)…صحیح بخاری میں ہے، حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’کچھ لوگ تنہائی میں بھی کھلے آسمان کے نیچے قضائے حاجت سے شرماتے اور اپنی بیویوں سے حقِ زَوجِیَّت ادا کرتے ہوئے شرماتے تھے جس کے باعث آسمان کی طرف سے جھک کر پردہ کر لیتے تھے۔ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ۔ (بخاری، کتاب التفسیر، سورۃ ہود، ۱-باب الا انّہم یثنون صدورہم۔۔۔ الخ، ۳ / ۲۴۴، الحدیث: ۴۶۸۱)کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے بندے کا کوئی حال چھپا ہی نہیں ہے لہٰذا چاہیے کہ وہ شریعت کی اجازتوں پر عامل رہے۔
خیال رہے کہ تنہائی میں بھی ننگا ہونا منع ہے لیکن اس لئے نہیں کہ رب عَزَّوَجَلَّ سے چھپا جائے بلکہ اس لئے کہ اس میں شرم و حیا کااِ ظہار ہے اور یہ رب تعالیٰ کا حکم ہے اور ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اس حکم پر عمل پیرا ہو۔یہاں حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی شرم و حیا کی جھلک ملاحظہ ہو،چنانچہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی شرم وحیا کایہ عالَم تھا کہ مکان میں تنہا ہونے اور دروازہ بند ہونے کے باوجود شرم و حیا کی وجہ سے پانی بہانے کے لئے بدن سے کپڑا نہ ہٹاتے اور ان کی شرم و حیا کی شدت کی وجہ سے فرشتے بھی ان سے اس طرح حیاء کرتے تھے جس طرح وہ اللہ تعالیٰ اور رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے حیاء کرتے تھے ، نیزحضور پُر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بھی ان سے حیا فرمایا کرتے تھے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع