30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سورۂ ہود کے بارے میں اَحادیث:
(1) …حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ،حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر بڑھاپے کے آثار نمودار ہوگئے۔ ارشاد فرمایا : ’’مجھے سورۂ ہود، سورۂ و اقعہ، سورۂ مرسلات، سور ۂ عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَ، اور سورۂ اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ ، نے بوڑھا کردیا۔( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الواقعۃ، ۵ / ۱۹۳، الحدیث: ۳۳۰۸)غالباً یہ اس وجہ سے فرمایا کہ ان سورتوں میں قیامت ، مرنے کے بعد اٹھائے جانے ، حساب اور جنت و دوزخ کاذکر ہے۔( خازن، تفسیرسورۃ ہود، ۲ / ۳۳۹)
(2) …حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جسے یہ بات پسند ہو کہ وہ قیامت کے دن کو اس طرح دیکھے گویا کہ وہ نگاہوں کے سامنے ہے تو اسے چاہئے کہ وہ سورۂ اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ، سورۂ اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ اور سورۂ اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ پڑھ لے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : میرا گمان ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے سورۂ ہود پڑھنے کا بھی فرمایا۔( مسند امام احمد، مسند عبد اللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہما، ۲ / ۲۵۷، الحدیث: ۴۸۰۶)
(3) …حضرت کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جمعہ کے دن سورۂ ہود پڑھا کرو۔ (شعب الایمان، التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی فضائل السور والآیات، ذکر سورۃ ہود، ۲ / ۴۷۲، الحدیث: ۲۴۳۸)
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں بھی سورۂ یونس کی طرح توحید، رسالت، مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور قیامت کے دن اَعمال کی جزاء ملنے کو دلائل کے ساتھ بیان کیاگیا ہے۔ اس کے علاوہ اس سورت میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں۔
(1) …قرآنِ پاک کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے کو دلیل کے ساتھ ثابت کیا گیا ۔
(2) …آسمان و زمین اور ان میں موجود مَنافع پیدا کرنے کی حکمت بیان کی گئی کہ ا س سے مقصود نیک اور گناہگار انسان میں اِمتیاز کرنا ہے۔
(3) … مصیبت اور آسانی میں مومن اور کافر کی فِطرت کا مُوازنہ کیا گیا ہے کہ مومن مصیبت آنے پر صبر کرتا ہے اور آسانی ملنے پر شکر کرتا ہے جبکہ کافر نعمت ملنے پر تکبر و غرور کرتا ہے جبکہ مصیبت کی حالت میں بڑا مایوس اور ناشکرا ہوجاتا ہے۔
(4) …ہر انسان کی فطرت مختلف ہے حتّٰی کہ دین قبول کرنے میں بھی ہر ایک کی فطرت جدا ہے۔
(5) …کفار کی طرف سے پہنچے والی اَذِیَّتوں پر اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی تسلی کے لئے سابقہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات بیان فرمائے اوران واقعات میں تمام مسلمانوں کے لئے بھی عبرت اور نصیحت ہے۔ چنانچہ اس سورت میں حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم کا واقعہ، حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم عادکا واقعہ، حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم ثمود کا واقعہ، حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور ان کے مہمان فرشتوں کا واقعہ، حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا واقعہ، حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا واقعہ اور حضرت موسیٰ کا فرعون کے ساتھ واقعہ بیان کیا گیا ہے۔
(6) …انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوموں کے واقعات بیان کرنے سے حاصل ہونے والی عبرت و نصیحت کا بیان ہے۔
(7) …دین میں اِستقامت کا حکم دیاگیا اور یہ بتایاگیا کہ سرکشی بربادی کا راستہ ہے اور کفر و شرک کی طرف مَیلان جہنم کے عذاب کا سبب ہے۔
(8) …نماز کو ا س کے اَوقات میں قائم کرنے اور نیک اَعمال پر صبر کرنے کا حکم دیاگیا ۔
(9) …دین کی دعوت سے اِعراض کرنے والوں کو عذاب کی وَعید سنائی گئی اور متقی لوگوں کے اچھے انجام کو بیان کیا گیا جس سے واضح ہوتا ہے کہ ترغیب اور ترہیب اِنفرادی اور اِجتماعی اصلاح میں بہت فائدہ مند ہے۔
سورۂ ہود کی اپنے سے ماقبل سورت ’’یونس‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ یہ معنی، موضوع، ابتداء اور اختتام میں سورۂ یونس کے موافق ہے اور سورۂ یونس میں جن اِعتقادی اُمور اور انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات کو اِجمالی طور پر بیان کیاگیا ہے، سورہ ٔ ہود میں انہیں تفصیل کے ساتھ بیان کیاگیا ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂ کنزالایمان:اللہ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحم والا ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
الٓرٰ- كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍۙ(۱)
ترجمۂ کنزالایمان: یہ ایک کتاب ہے جس کی آیتیں حکمت بھری ہیں پھر تفصیل کی گئیں حکمت والے خبردار کی طرف سے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: ’’الٓرٰ‘‘، یہ ایک کتاب ہے جس کی آیتیں حکمت بھری ہیں پھرانہیں حکمت والے، خبردار کی طرف سے تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
{ الٓرٰ}یہ حروفِ مُقَطَّعات میں سے ایک حرف ہے، اس کی مراد اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
{ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ:یہ ایک کتاب ہے جس کی آیتیں حکمت بھری ہیں۔} جیسا کہ دوسری آیت میں ارشاد ہوا
’’تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ‘‘(یونس :۱)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع