30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَۚ-وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖؕ-یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖؕ-وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ(۱۰۷)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر تجھے اللہ کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کا کوئی ٹالنے والا نہیں اس کے سوا اور اگر تیرا بھلا چاہے تو اس کے فضل کا رد کرنے والا کوئی نہیں اسے پہنچا تا ہے اپنے بندوں میں جسے چاہے اور وہی بخشنے والا مہربان ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سواکوئی تکلیف کو دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تیرے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمائے تو اس کے فضل کو کوئی رد کرنے والا نہیں۔ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنا فضل پہنچاتاہے اور وہی بخشنے والا مہربان ہے۔
{فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ:تو اس کے سوا کوئی تکلیف کو دور کرنے والا نہیں۔} یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا میں لوگ ایک دوسرے کو نفع بھی پہنچاتے ہیں اور نقصان بھی جبکہ آیت میں کسی مخلوق کے نفع نقصان پہنچانے کا انکار کیا گیا ہے۔ اِس سوال کا جواب آیت کے الفاظ میں ہی موجود ہے کہ مخلوق کے نفع نقصان پہنچانے کا انکار نہیں کیا گیا بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو نفع پہنچانا چاہے تو کوئی اسے روک کرنقصان نہیں پہنچا سکتا اور جب اللہ تعالیٰ کسی کے نقصان کا ارادہ فرمائے تو کوئی اس نقصان کو ٹال کر نفع نہیں پہنچا سکتا۔
{وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ:اور اگر وہ تیرے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمائے۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تیرے ساتھ وُسعت اور آسانی کا ارادہ فرمائے تو اس کے رزق کو روکنے والا کوئی نہیں ،وہی نفع و نقصان میں ہر ایک کا مالک ہے تمام کائنات اسی کی محتاج ہے وہی ہر چیز پر قادر اور جودو کرم والا ہے، بندوں کو اس کی طرف رغبت اور اس کا خوف اور اسی پر بھروسہ اور اسی پر اعتماد چاہیے اور نفع و ضَرر جو کچھ بھی ہے وہی اسے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے پہنچاتا ہے اور وہی اپنے بندوں کے گناہوں کو چھپانے والا اور ان پر مہربان ہے۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۱۰۷، ۲ / ۳۳۸)
قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْۚ-فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖۚ-وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَاۚ-وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ(۱۰۸)
ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ اے لوگوتمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق آیا تو جو راہ پر آیا وہ اپنے بھلے کو راہ پر آیا اور جو بہکا وہ اپنے برے کو بہکا اور کچھ میں کڑوڑا نہیں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق آیا تو جو ہدایت حاصل کرلے تو وہ اپنے فائدے کے لئے ہی ہدایت حاصل کررہا ہے اور جو کوئی گمراہ ہوتا ہے تو اپنے ہی نقصان کو گمراہ ہوتا ہے اور میں تم پر کوئی نگران نہیں۔
{قُلْ:تم فرماؤ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، تم فرماؤ کہ اے اہلِ مکہ! تمہارے پاس اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے قرآن اور اس کا رسول محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لائے ہیں تواُن سے جوہدایت حاصل کر لے تو وہ اپنے فائدے کیلئے ہی ہدایت حاصل کررہا ہے کیونکہ اس کی ہدایت کا ثواب اسے ہی ملے گا اور اگر تم میں سے کوئی کفر کرے تو اس سے اللہ تعالیٰ کا کچھ نقصان نہیں اور کوئی ایمان لائے تو اس سے اللہ عَزَّوَجَلَّکا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اُسے کوئی نفع یا نقصان پہنچے اور جو کوئی گمراہ ہوتا ہے تو وہ اپنے ہی نقصان کو گمراہ ہوتا ہے کیونکہ اس کی گمراہی کا عذاب اسی کی جان پر ہو گا۔ خلاصہ یہ کہ ا س کی ہدایت اور گمراہی میں کوئی اور شریک نہیں بلکہ ہر جان اپنے کمائے ہوئے اَعمال میں گِروی رکھی ہے اور میں تم پرکوئی نگران نہیں کہ تمہیں ہدایت حاصل کرنے پر مجبور کروں۔ (جلالین مع صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ۳ / ۸۹۶)
وَ اتَّبِـعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ ۚۖ-وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠(۱۰۹)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اس پر چلو جو تم پر وحی ہوتی ہے اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ حکم فرمائے اور وہ سب سے بہتر حکم فرمانے والا ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اس وحی کی پیروی کرو جو آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے اور صبر کرتے رہو حتّٰی کہ اللہ فیصلہ فرما دے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔
{وَ اتَّبِـعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ:اور اس کی پیروی کرو جو آپ کی طرف وحی بھیجی جاتی ہے۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اللہ تعالیٰ آپ کی طرف جو وحی فرماتا ہے آپ اسی کی پیروی کر یں اور آپ کی قوم کے کفار کی طرف سے آپ کو جو اَذِیَّت پہنچتی ہے اس پر صبر کرتے رہیں حتّٰی کہ اللہ تعالیٰ آپ کے دین کو غلبہ عطا فرما کر ان کے خلاف آپ کی مدد کا فیصلہ فرمائے ،اللہ عَزَّوَجَلَّ سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۱۰۹، ۲ / ۳۳۸)
سورۂ ہود کا تعارف
حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت حسن ا ور حضرت عکرمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اور دیگر مفسرین فرماتے ہیں کہ سورۂ ہود مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے ایک روایت یہ بھی مروی ہے کہ آیت ’’ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ‘‘ کے سوا باقی تمام سورت مکیہ ہے ۔ مقاتل نے کہا کہ آیت ’’ فَلَعَلَّكَ تَارِكٌ ‘‘ اور ’’ اُولٰٓىٕكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ‘‘ اور ’’اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِ‘‘ کے علاوہ پوری سورت مکی ہے۔ (خازن، تفسیرسورۃ ہود، ۲ / ۳۳۸)
اس سورت میں 10 رکوع اور 123 آیتیں ہیں۔
’’ہود ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
ا س سورت کی آیت نمبر 50تا 60 میں اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم عاد کا واقعہ بیان کیا گیا ہے ، اس واقعے کی مناسبت سے اس سور ت کا نام ’’سورۂ ہود‘‘ رکھا گیا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع