دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

قدرت پر موجود دلائل میں غورو فکر کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ انسان مجبورِ محض ہے۔آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان نشانیاں طلب کرنے والے مشرکین سے فرما دیں کہ تم دل کی آنکھوں سے دیکھو اور غور کرو کہ آسمانوں اور زمین میں توحیدِباری تعالیٰ کی کیاکیا نشانیاں ہیں ، اوپر سورج اور چاند ہیں جو کہ دن اور رات کے آنے کی دلیل ہیں ، ستارے ہیں جو کہ طلوع اور غروب ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش نازل فرماتا ہے۔ زمین میں پہاڑ ،دریا، دفینے، نہریں ، درخت نباتات یہ سب اللہ تعالیٰ کے واحد ہونے اور ان کا خالق ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔(تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۶ / ۳۰۶، خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۲ / ۳۳۶، ملتقطاً) توعظمتِ  خداوندی، توحید ِ الہٰی اور قدرتِ رَبّانی سمجھانے کیلئے یہی دلائل کافی ہیں ، اب اگر ان سب دلائل کے باوجود کوئی ایمان نہیں لاتا تو پھر اس کا ارادہ جہنم میں جانے کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے۔

فَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْؕ-قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ(۱۰۲)ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَۚ-حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ۠(۱۰۳)

ترجمۂ کنزالایمان: تو انہیں کاہے کا انتظار ہے مگر انہیں لوگوں کے سے دنوں کا جو ان سے پہلے ہو گزرے تم فرماؤ تو انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار میں ہوں۔پھر ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کو نجات دیں گے بات یہی ہے ہمارے ذمہ کرم پر حق ہے مسلمانوں کو نجات دینا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو انہیں ان لوگوں کے دنوں جیسے (دنوں ) کا انتظار ہے جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ تم فرماؤ: تو  انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار میں ہوں۔ پھر ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کو نجات دیں گے۔ہم پر اسی طرح حق ہے کہ ایمان والوں کو نجات دیں۔

{فَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ:تو انہیں ان لوگوں کے دنوں جیسے (دنوں ) کا انتظار ہے جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔} آیت کا معنی یہ ہے کہ ان لوگوں کا طرزِ عمل یہ بتاتا ہے کہ گویایہ لوگ گزشتہ اُمتوں کے دنوں جیسے دنوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ گزشتہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے زمانوں میں کفار کو اُن دنوں کے آنے سے ڈراتے تھے جن میں مختلف قسم کے عذاب نازل ہوں جبکہ کفار اسے جھٹلاتے اور مذاق اڑاتے ہوئے عذاب نازل ہونے کی جلدی مچاتے تھے اسی طرح نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے زمانے کے کفار بھی انہی کی رَوِش اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے فرمایا : آپ ان سے فرما دیں کہ تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار میں ہوں۔ (تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۶ / ۳۰۷)

{ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا:پھر ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کو نجات دیں گے۔} حضرت ربیع بن انس  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ عذاب کا خوف دلانے کے بعد اس آیت میں یہ بیان فرمایا کہ جب عذاب واقع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ رسول کو اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو نجات عطا فرماتا ہے۔ (تفسیر طبری، یونس، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۶ / ۶۱۷)

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ ۚۖ-وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ(۱۰۴) وَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًاۚ-وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ(۱۰۵)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ اے لوگو اگر تم میرے دین کی طرف سے کسی شبہہ میں ہو تو میں تو اسے نہ پوجوں گا جسے تم  اللہ کے سوا پوجتے ہو ہاں اس اللہ کو پوجتا ہوں جو تمہاری جان نکالے گا اور مجھے حکم ہے کہ ایمان والوں میں ہوں۔ اور یہ کہ اپنا منھ دین کے لیے سیدھا رکھ سب سے الگ ہوکر اور ہرگز شرک والوں میں نہ ہونا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ، اے لوگو! اگر تم میرے دین کی طرف سے کسی شبہ میں ہو تو (جان لو کہ) میں ان چیزوں کی عبادت نہیں کروں گا جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو البتہ میں اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری جان نکالے گا اور مجھے حکم ہے کہ میں ایمان والوں میں سے رہوں۔او ر یہ  کہ ہر باطل سے جدا رہ کر اپنا چہرہ دین کے لئے سیدھا رکھو اور ہرگز مشرکوں میں سے نہ ہونا۔

{قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ:تم فرماؤ، اے لوگو!} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یہ حکم دیا ہے کہ اپنے دین کا اِظہار کریں اور یہ اعلان کردیں کہ وہ مشرکین سے علیحدہ ہیں تاکہ مشرکین کے ساتھ رہنے والوں کے بارے میں مشرکوں کے شکوک و شُبہات زائل ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت چھپ کر ہونے کی بجائے اِعلانیہ ہونے لگے۔ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اہلِ مکہ سے فرما دیں کہ اے لوگو! اگر تم میرے دین کی حقیقت اور اس کی صحت کی طرف سے کسی شُبہ میں مبتلا ہو اور اس وجہ سے غیرُاللہ کی عبادت میں مشغول ہو تو میں تمہیں اپنے دین کی حقیقت بتادیتا ہوں کہ میں ان بتوں کی عبادت نہیں کروں گا جن کی تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہوکیونکہ بت خود مخلوق ہے اورعبادت کے لائق نہیں البتہ میں اس اللہ عَزَّوَجَلَّکی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری روحیں قبض کر کے تمہاری جان نکالے گاکیونکہ وہ قادر، مختار، برحق معبود اور مُستحقِ عبادت ہے اور مجھے حکم ہے کہ میں ایمان والوں میں سے رہوں اور یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہر باطل سے جدا رہ کر دینِ حق پر اِستقامت کے ساتھ قائم رہوں اور ہرگز مشرکوں میں سے نہ ہوں۔(تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۱۰۴، ۶ / ۳۰۸، جلالین مع صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۱۰۴، ۳ / ۸۹۵، روح البیان، یونس، تحت الآیۃ: ۱۰۴، ۴ / ۸۷، ملتقطاً)

وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ وَ لَا یَضُرُّكَۚ-فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ(۱۰۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اللہ کے سوا اس کی بندگی نہ کر جو نہ تیرا بھلا کرسکے نہ برا پھر اگر ایسا کرے تو اس وقت تو ظالموں سے ہوگا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اللہ کے سوا اس کی عبادت نہ کر جو نہ تجھے نفع دے سکے اور نہ تجھے نقصان پہنچا سکے پھر اگر تو ایسا کرے گاتو اس وقت تو ظالموں میں سے ہوگا۔

{وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ:اور اللہ کے سوا اس کی عبادت نہ کر جو تجھے نفع نہ دے سکے ۔} مفسرین فرماتے ہیں کہ اس آیت میں بظاہر خطاب نبیٔ  کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ہے لیکن اس سے مراد آپ کا غیر ہے کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کبھی بھی اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کسی کی عبادت نہیں کی تو اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے انسان! تو اللہ تعالیٰ کے علاوہ اس کی مستقل یا شریک بنا کر عبادت نہ کر جو عبادت کرنے اور پکارنے کے باوجود تجھے کوئی نفع نہ دے سکے اوراگر تو اس کی عبادت کرنا اور اسے پکارنا چھوڑ دے تو وہ تجھے کوئی نقصان نہ پہنچا سکے اور اگر میرے منع کرنے کے باوجود تو نے ایسا کیاتو اس وقت تو اپنی جان پر ظلم کرنے والوں میں سے ہوگا۔( خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۱۰۶، ۲ / ۳۳۸، روح البیان، یونس، تحت الآیۃ: ۱۰۶، ۴ / ۸۷، ملتقطاً)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن