دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

الآیۃ: ۹۸، ص۴۸۶)

{ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ:لیکن یونس کی قوم۔} حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ موصل کے علاقے نینوٰی میں رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کی طرف بھیجا، آپ نے انہیں بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا حکم دیا، ان لوگوں نے انکار کیا اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کی، آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے عذاب نازل ہونے کی خبر دی، ان لوگوں نے آپس میں کہا کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کبھی کوئی بات غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی توحضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح کے وقت عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا ، بہت سارا دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہوگیا کہ عذاب آنے والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو تلاش کیاتو آپ کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا، شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے بارگاہِ الہٰی میں گریہ و زاری شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جودین حضرت یونسعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتّٰی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کردیا ۔ اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔(خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۲ / ۳۳۵-۳۳۶)

فرعون کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں فرق:

            اس مقام پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بارے میں ذکر فرمایا کہ اس نے آخری وقت توبہ کی لیکن اس کی توبہ قبول نہ ہوئی جبکہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے بارے میں ذکر فرمایا کہ انہوں نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، دونوں کی توبہ میں کیا فرق ہے؟ امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ فرعون کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں واضح فرق ہے وہ یہ کہ فرعون نے عذاب کا مشاہدہ کرنے کے بعد توبہ کی تھی جبکہ حضرت یونسعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر جب وہ نشانیاں ظاہر ہوئیں جو عذاب کے قریب ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے اسی وقت ہی توبہ کر لی تھی ۔ (تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۶ / ۳۰۳) اس کا مطلب یہ نکلا کہ نزولِ عذاب کے بعد توبہ قبول نہیں البتہ نزولِ عذاب سے پہلے صرف علاماتِ عذاب کے ظہور کے بعد توبہ قبول ہوسکتی ہے۔

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًاؕ-اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ(۹۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر تمہارا رب چاہتا زمین میں جتنے ہیں سب کے سب ایمان لے آتے تو کیا تم لوگوں کو زبردستی کرو گے یہاں تک کہ مسلمان ہوجائیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  اور اگر تمہارا رب چاہتا توجتنے لوگ زمین میں ہیں سب کے سب ایمان لے آتے توکیا تم لوگوں کومجبور کرو گے یہاں تک کہ مسلمان ہوجائیں ؟

{وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ:اور اگر تمہارا رب چاہتا۔} یعنی ایمان لانا سعادتِ اَزلی پر مَوقوف ہے، ایمان وہی لائیں گے جن کیلئے توفیق الہٰی شاملِ حال ہو، اس آیت میں سیّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ چاہتے ہیں کہ سب ایمان لے آئیں اور راہِ راست اختیار کریں لیکن آپ کی خواہش وکوشش کے باوجود بھی جو لوگ ایمان سے محروم رہ جاتے ہیں ان کا آپ کو غم ہوتا ہے تواس کا آپ کو غم نہ ہونا چاہیے کیونکہ اَزل سے جو شقی ہے وہ ایمان نہ لائے گا۔( خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹۹، ۲ / ۳۳۶)

{اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ:توکیا تم لوگوں کومجبور کرو گے۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کو یہ روا نہیں کہ لوگوں کو ایمان قبول کرنے پر مجبور کریں کیونکہ ایمان تصدیق اور اِقرار کا نام ہے اور کسی پر جَبر اور زبر دستی کرنے سے تصدیقِ قلبی حاصل نہیں ہوتی۔ (مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۹۹، ص۴۸۶)معلوم ہوا کہ کسی کو جبراً مسلمان بنانا درست نہیں ،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

’’لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ‘‘ (البقرہ:۲۵۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: دین میں کوئی زبردستی نہیں۔

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِؕ-وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ(۱۰۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کسی جان کی قدرت نہیں کہ ایمان لے آئے مگر اللہ کے حکم سے اور عذاب ان پر ڈالتا ہے جنہیں عقل نہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کسی جان کو قدرت نہیں کہ وہ اللہ کے حکم کے بغیرایمان لے آئے اوراللہ ان لوگوں پر عذاب ڈالتا ہے جو سمجھتے نہیں۔

{وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ:اور کسی جان کو قدرت نہیں۔} خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہتا ہے تو بندہ اپنے اختیار سے ایمان قبول کرتا ہے، اپنے چاہنے کی وجہ سے وہ ثواب کا مستحق ہوتا ہے اور جب اللہ عَزَّوَجَلَّ ہدایت کا ارادہ نہ کرے تو بندہ اپنی رَغْبت سے کفر پر رہتا ہے اور اس رغبت کا عذاب پاتا ہے۔ لہٰذا اس آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بندہ مجبور ہے کیونکہ بندے کی رغبت بھی مَشِیَّتِ الہٰی میں داخل ہے۔ مجبور کرنے کی بات تب ہو جب آدمی کفر پر اس طرح مجبور ہو جیسے رعشے میں مبتلا آدمی کے ہاتھ کانپتے ہیں کہ اگرچہ وہ کتنا ہی اسے روکنا چاہے روک نہیں پاتا تو اگر کوئی آدمی کفر پر اس طرح مجبور ہے کہ وہ دل سے ایمان لانا چاہتا ہے مگر اسے قدرت ہی نہیں ، وہ ایمان لاہی نہیں پاتا، اس کا دل تصدیق ہی نہیں کرتا اور اس کی زبان اقرارِ اسلام کرتی ہی نہیں پھر تو کہا جائے گا کہ اسے کفر پر مجبور کردیا گیا لیکن اگر دل میں قبول کرنے کا اختیار موجود ہے لیکن پھر بھی کوئی ایمان قبول نہیں کرتا تو وہ ہرگز مجبور نہیں ہے۔

قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ(۱۰۱)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ دیکھو آسمانوں اور زمین میں کیا کیاہے اور آیتیں اور رسول انہیں کچھ نہیں دیتے جن کے نصیب میں ایمان نہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: تم دیکھو کہ آسمانوں اور زمین میں کیا کیا (نشانیاں ) ہیں اور نشانیاں اور رسول ان لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں دیتے جو ایمان نہیں لاتے۔

{قُلِ:تم فرماؤ۔} اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا تھا کہ اس کی تخلیق اور مَشِیَّت کے بغیر ایمان حاصل نہیں ہو سکتا اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن