30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوسرا قول یہ ہے کہ ’’مِنْ قَوْمِهٖ‘‘ میں ضمیر فرعون کی طرف لوٹ رہی ہے ،اس صورت میں قوم کی ذریت سے قومِ فرعون کی ذریت مراد ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ وہ قومِ فرعون کے تھوڑے لوگ تھے جو ایمان لائے۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۸۳، ۲ / ۳۲۷)
بندے کا حد میں رہنا اللہ تعالٰی کی نعمت ہے:
فرعون کے بارے میں فرمایا کہ وہ متکبر تھا کیونکہ وہ خود کو خدا کہتا تھا اور اس سے بڑھ کر کیا تکبر ہوسکتا ہے، نیز فرعون کو حد سے بڑھنے والا کہا گیا کیونکہ اس نے بندہ ہو کر بندگی کی حد سے گزرنے کی کوشش کی اور اُلُوہیت کا مدعی ہوگیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حد میں رہنا اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے ۔ پانی حد سے بڑھ جائے تو طوفان بن جاتا ہے اور آدمی حد سے بڑھ جائے تو شیطان بن جاتاہے۔
وَ قَالَ مُوْسٰى یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ(۸۴)فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَاۚ-رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ(۸۵) وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ(۸۶)
ترجمۂ کنزالایمان: اور موسیٰ نے کہا اے میری قوم اگر تم اللہ پر ایمان لائے تو اسی پر بھروسہ کرو اگر اسلام رکھتے ہو۔ بولے ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا الہٰی ہم کو ظالم لوگوں کے لیے آزمائش نہ بنا۔ اور اپنی رحمت فرماکر ہمیں کافروں سے نجات دے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور موسیٰ نے کہا: اے میری قوم! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو اگر تم مسلمان ہوتو اسی پر بھروسہ کرو۔ انہوں نے کہا: ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا۔ اے ہمارے رب! ہمیں ظالم لوگوں کے لیے آزمائش نہ بنا۔ اور اپنی رحمت فرما کر ہمیں کافروں سے نجات دے۔
{وَ قَالَ مُوْسٰى:اور موسیٰ نے کہا۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنی قوم سے فرمایا: اگر تم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے ہوتو اسی پر بھروسہ کرو ،وہ اپنے فرمانبرداروں کی مدد کرتا اور دشمنوں کو ہلاک فرماتا ہے ۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ پر بھروسہ کرنا کمالِ ایمان کا تقاضا ہے۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۸۴، ۲ / ۳۲۸)
{فَقَالُوْا:انہوں نے کہا۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم نے جواب دیتے ہوئے عرض کی: ہم نے اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی پر بھروسہ کیا اس کے علاوہ کسی اور پر بھروسہ نہیں کرتے، پھر اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے دعا کرتے ہوئے عرض گزار ہوئے ’’ اے ہمارے رب!عَزَّوَجَلَّ، ہمیں ظالم لوگوں کے لیے آزمائش نہ بنا یعنی انہیں ہم پر غالب نہ کر اور ان کے گناہوں کی وجہ سے ہمیں ہلاک نہ فرماتا کہ وہ یہ گمان نہ کریں کہ وہ حق پر ہیں اور یوں سرکشی و کفر میں بڑھ جائیں اور اپنی رحمت فرما کر ہمیں قومِ فرعون کے کافروں کے قبضے سے نجات دے اور ان کے ظلم و ستم سے بچا۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۸۵، ۲ / ۳۲۸)
وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَؕ-وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۷)
ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کو وحی بھیجی کہ مصر میں اپنی قوم کے لیے مکانات بناؤ اور اپنے گھروں کو نماز کی جگہ کرو اور نماز قائم رکھو اور مسلمانوں کو خوشخبری سنا۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کو وحی بھیجی کہ مصر میں اپنی قوم کے لیے مکانات بناؤ اور اپنے گھروں کو نماز کی جگہ بناؤ اور نماز قائم رکھو اور مسلمانوں کو خوشخبری سناؤ۔
{وَ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً:اوراپنے گھروں کو نماز کی جگہ بناؤ۔ }حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا قبلہ کعبہ شریف تھا اور ابتداء میں بنی اسرائیل کو یہی حکم تھا کہ وہ گھروں میں چھپ کر نماز پڑھیں تاکہ فرعونیوں کے شر واِیذا ء سے محفوظ رہیں۔ (مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۸۷، ص۴۸۲-۴۸۳)
آیت’’وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
اس آیت سے پانچ باتیں معلوم ہوئیں :
(1)… گھر بنانا بھی سنتِ اَنبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہے لیکن شرط یہ ہے کہ فخر کے لئے نہ ہو بلکہ ضرورت پوری کرنے کے لئے ہو۔
(2)…رہنے سہنے کے گھروں میں گھریلو مسجد بنانا، جسے مسجد بیت کہا جاتا ہے، یہ ایک قدیم طریقہ ہے ، لہٰذا یہ ہونا چاہیے کہ مسلمان اپنے گھر کا کوئی حصہ نماز کے لئے پاک و صاف رکھیں اور اس میں عورت اِعتکاف کرے۔
(3)… خوف کے وقت چھپ کر گھروں میں نماز پڑھنا جائز ہے کیونکہ بنی اسرائیل اس زمانہ میں ایسے ہی نماز پڑھتے تھے۔
(4)… مصیبت کے وقت اچھی خبریں سنانی چاہئیں تاکہ لوگوں کا حوصلہ بڑھے اور مایوسی دور ہو۔
(5)… حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دین میں نماز فرض تھی، اس وقت زکوٰۃکا حکم اس لئے نہ دیا گیا کہ بنی اسرائیل غریب و مساکین تھے، جب ان کے پاس مال آیا تو پھر ان پر مال کا چوتھائی حصہ زکوٰۃ نکالنی فرض ہوئی۔
وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۙ-رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَۚ-رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ(۸۸)
ترجمۂ کنزالایمان: اور موسیٰ نے عرض کی اے رب ہمارے تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو آرائش اور مال دنیا کی زندگی میں دیئے اے رب ہمارے اس لیے کہ تیری راہ سے بہکاویں اے رب ہمارے ان کے مال برباد کردے اور ان کے دل سخت کردے کہ ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور موسیٰ نے عرض کی: اے ہمارے رب! تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں آرائش اور مال دیدیا، اے ہمارے رب! تاکہ وہ تیرے راستے سے بھٹکا دیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع