30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی وجہ سے عذاب آیا اس لئے یہاں ان کا ذکر پہلے فرمایا گیا۔ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ دیکھا کہ ان کا اپنی قوم کے درمیان مدتِ دراز تک ٹھہرنا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کرنا انہیں ناگوار گزراہے اوراس پر انہوں نے مجھے قتل کر دینے اور اپنے علاقے سے نکال دینے کا ارادہ کیا ہے تو آپ نے ان سے فرمایا: ’’مجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی پر کامل بھروسہ ہے اور میں نے اپنے معاملات اسی کے سپرد کر دئیے ہیں ، تم میری مخالفت میں اور مجھے اِیذاء پہنچانے کیلئے جس قدر اَسباب جمع کر سکتے ہو کر لوبلکہ اپنے باطل معبودوں کو بھی ملا لو اور تمہاری یہ سازش پوشیدہ نہ رہے بلکہ علی الاعلان سب کچھ کرو، پھر میرے خلاف جو کچھ کرسکتے ہو کر گزرو اور مجھے کوئی مہلت نہ دو مجھے تمہاری کوئی پرواہ نہیں۔ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا یہ کلام انہیں عاجز کر دینے کے طور پر تھا،مُدَّعا یہ ہے کہ مجھے اپنے قوی وقادر پروردگار عَزَّوَجَلَّ پر کامل بھروسہ ہے تم اور تمہارے بے اختیار معبود مجھے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچاسکتے۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۷۱، ۲ / ۳۲۵-۳۲۶، ملخصاً)
حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کامختصر تعارف:
حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دنیا میں چوتھے نبی اور پہلے رسول ہیں۔ آپ کا نام یَشْکُرْ اور لقب نوح ہے کیونکہ آپ خوفِ الہٰی سے نوحہ و گریہ بہت کرتے تھے۔ آپ آدمِ ثانی کہلاتے ہیں کیونکہ طوفانِ نوح کے بعد آپ ہی سے نسلِ انسانی چلی۔ قرآنِ پاک میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تبلیغ کے واقعات کو متعدد جگہ کافی تفصیل سے بیان فرمایا گیا ہے۔
آیت ’’ وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
اس آیت سے پانچ چیزیں معلوم ہوئیں :
(1)… انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نہایت شُجاع، بہادر ، جَری، باہمت اور اُولُوالعزم ہوتے ہیں ، جیسے یہاں ایک طرف پوری قوم دشمن اور مخالف ہے اور دوسری طرف تنِ تنہا صرف اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بھروسے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کس قدرت جرأت کے ساتھ مخالفین کو پکار رہے ہیں۔ اسی سے معلوم ہوا کہ قادیانی نبی نہیں تھا کیونکہ وہ انتہا درجے کا ڈرپوک تھا، ساری زندگی اسی ڈر سے حج کو نہ گیا اور جہاں جانے سے اسے نقصان پہنچنے کا خوف ہوتا تھا وہاں نہ جاتا تھا۔
(2)… لوگوں کی ایذاء کی وجہ سے تبلیغ سے کنارہ کشی نہیں کرنی چاہیے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے تکالیف برداشت کرنے کے باوجود ساڑھے نو سو سال تک تبلیغ فرمائی۔
(3)… تبلیغِ دین کیلئے جرأت اور ہمت کی ضرورت ہوتی ہے، بُزدل اور ڈرپوک آدمی تبلیغ کا حق ادا نہیں کرسکتا۔
(4)…انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، اولیاءِ عِظام اور صالحین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کے سچے واقعات پڑھنا سننا عبادت ہے۔ اس لئے آیات ِ قرآنیہ کے ذریعے اور سیرت و واقعات کی کتابوں کے ذریعے بزرگانِ دین کی سیرت سے واقفیت حاصل کرتے رہنا چاہیے۔
(5)…یہ بھی معلوم ہوا کہ تاریخ کا علم بھی بہت عمدہ ہے کہ اس میں عبرت پوشیدہ ہوتی ہے البتہ تاریخ وہی پڑھی جائے جو حقائق پر مبنی ہو۔ آج کل ظالموں کو عادل، مسلمانوں کو قتل کرنے والوں کو مجاہد اور اُمت کو تباہ کرنے والوں کو امت کا مُصلِح و مُحسن بنا کر پیش کرنا عام ہے۔ ایسی تاریخ سے دور رہنا ہی مناسب ہے۔
فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍؕ-اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِۙ-وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ(۷۲)
ترجمۂ کنزالایمان: پھر اگر تم منہ پھیرو تو میں تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا میرا اجر تو نہیں مگر اللہ پر اور مجھے حکم ہے کہ میں مسلمانوں سے ہوں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر اگر تم منہ پھیرو تو میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا، میرا اجر تو اللہ کے ذمہ کرم پر ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔
{فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ:پھر اگر تم منہ پھیرو۔} یعنی اگر تم میرے وعظ و نصیحت سے اِعراض کرو تو میں نے تم سے وعظ و نصیحت پر کوئی مُعاوضہ نہیں مانگا کہ تمہارے منہ پھیرنے کی وجہ سے مجھے اس کے نہ ملنے کا افسوس ہو، میرا اجر تو اللہ عَزَّوَجَلَّکے ذمۂ کرم پر ہے وہی مجھے جزا دے گا ۔مدعا یہ ہے کہ میرا وعظ و نصیحت خاص اللہ عَزَّوَجَلَّکے لئے ہے، کسی دنیوی غرض سے نہیں ہے۔ (مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۷۲، ص۴۸۰)
تبلیغِ دین پر اُجرت نہ لی جائے:
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تبلیغِ دین پر اُجرت نہ لی جائے، ہاں امامت وخطابت ، تدریس اور تعلیمِ قرآن وغیرہ میں جہاں شریعت کی طرف سے اجازت ہے وہ جدا بات ہے لیکن اس میں بھی ممکن ہو تو بغیر پیسے ہی کے کام کرے۔
{وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ: اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔} اس کا ایک معنی یہ ہے کہ تم دینِ اسلام قبول کرو یا نہ کرو مجھے دینِ اسلام پر قائم رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور میں اس پر قائم ہوں۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ دینِ اسلام کی دعوت دینے کی بنا پر مجھے تمہاری طرف سے خواہ کیسی ہی اَذیت پہنچے ہر حال میں مجھے اللہ تعالیٰ کے حکم کا فرمانبرداررہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۷۲، ۲ / ۳۲۶)
فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ جَعَلْنٰهُمْ خَلٰٓىٕفَ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۚ-فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَ(۷۳)
ترجمۂ کنزالایمان: تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو ہم نے اسے اور جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے ان کو نجات دی اور انہیں ہم نے نائب کیا اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں ان کو ہم نے ڈبو دیا تو دیکھو ڈرائے ہوؤں کا انجام کیسا ہوا۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان:تو انہوں نے نوح کو جھٹلایا تو ہم نے اسے اور کشتی میں اس کے ساتھ والوں کو نجات دی اور انہیں ہم نے جانشین بنایااور جنہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی انہیں ہم نے غرق کردیا تو دیکھو ان لوگوں کا کیسا انجام ہوا جنہیں ڈرایا گیا تھا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع