30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنزُالعِرفان: (کافروں نے )کہا: اللہ نے اپنے لیے اولاد بنا رکھی ہے۔ وہ پاک ہے، وہی بے نیاز ہے، جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ تمہارے پاس اس کی کوئی بھی دلیل نہیں ، کیا تم اللہ پر وہ بات کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں۔ تم فرماؤ: بیشک اللہ پر جھوٹ باندھنے والے فلاح نہیں پائیں گے۔
{قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا:(کافروں نے )کہا: اللہ نے اپنے لیے اولاد بنارکھی ہے ۔} کفار کا یہ کلمہ نہایت قبیح اور اِنتہا درجہ کے جہل کا حامل ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مشرکین کے اس قول کے تین رد فرمائے ہیں ،
پہلا رد تو کلمہ ’’سُبْحٰنَهٗ ‘‘ میں ہے جس میں بتایا گیا کہ اس کی ذات اولاد سے منزہ و پاک ہے کہ وہ واحدِ حقیقی ہے۔
دوسرا رد ’’ هُوَ الْغَنِیُّ ‘‘ فرمانے میں ہے کہ وہ تمام مخلوق سے بے نیاز ہے تو اولاد اس کے لئے کیسے ہوسکتی ہے؟ اولاد تو یا کمزور چاہتا ہے جو اس سے قوت حاصل کرے یا فقیر چاہتا ہے جوا س سے مدد لے یا کم عزت چاہتا ہے جو اس کے ذریعے سے عزت حاصل کرے ، الغرض جو چاہتا ہے وہ حاجت رکھتا ہے تو جو غنی ہو، بے نیاز ہو، کسی کا محتاج نہ ہو اس کے لئے اولاد کس طرح ہوسکتی ہے۔
تیسرا رد ’’لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ ‘‘ میں ہے کہ تمام مخلوق اس کی مملوک ہے اور مملوک ہونا بیٹا ہونے کے ساتھ نہیں جمع ہوتا لہٰذا ان میں سے کوئی اس کی اولاد نہیں ہوسکتا۔ (مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۶۸، ص۴۷۹-۴۸۰)اسی سِیاق میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے کافرو! تم جو اللہ تعالیٰ کیلئے اولاد قرار دیتے ہو اس کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں بلکہ اس کے برخلاف پر قطعی دلائل موجود ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اسی آیت میں بیان فرمائے ہیں۔
اللہ تعالٰی کی عظمت و شان:
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’بنی آدم نے مجھے جھٹلایا حالانکہ یہ اس کے لئے جائز نہیں اور اس نے مجھے گالی دی حالانکہ یہ بھی ا س کے لئے جائز نہیں ہے، اس کا جھٹلانا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے: جس طرح میں نے اسے پہلے پیدا کیا اسی طرح دوبارہ زندہ نہیں کروں گا حالانکہ پہلی دفعہ بنانا میرے لئے دوبارہ زندہ کرنے سے زیادہ آسان نہیں ہے ، اور اس کا گالی دینا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے: اللہ کا بیٹا بھی ہے، حالانکہ میں اکیلا ہوں ، بے نیاز ہوں ، نہ میں نے کسی کو جنا ہے اور نہ مجھے کسی نے جنا ہے اور کوئی ایک بھی میری برابری کرنے والا نہیں ہے۔ (بخاری، کتاب التفسیر، سورۃ قل ہو اللہ احد، ۱-باب، ۳ / ۳۹۴، الحدیث: ۴۹۷۴)
نوٹ: یہاں حدیث پاک میں جو یہ فرمایا گیا ’’پہلی دفعہ بنانا میرے لئے دوبارہ زندہ کرنے سے زیادہ آسان نہیں ہے‘‘یہ کلام بندوں کے اعتبار سے ہے اور مراد یہ ہے کہ بندوں کے نزدیک کسی چیز کو پہلی بار بنانا مشکل ہوتا ہے اور دوسری بار بنانا آسان جبکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے پہلی اور دوسری دونوں بار بنانا ایک جیسا ہے، تو جب لوگوں کے نزدیک جو چیز مشکل ہے یعنی پہلی بار بنانا وہ اللہ تعالیٰ نے کر دیا اور اس کا کافروں کو بھی اقرار ہے تو دوسری بار بنانے پر اس کی قدرت مانتے ہوئے کافروں کوکیا تکلیف ہے حالانکہ قیامت کے دن پہلے پیدا کر دی گئی مخلوق کو ہی دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔
{قُلْ:تم فرماؤ۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے فرمایا ہے کہ جولوگ اللہ تعالیٰ کیلئے اولاد کا دعویٰ کر کے اس پر جھوٹ باندھتے ہیں آپ انہیں تَنبیہ فرما دیں کہ ان کا انجام بہت برا ہوگا اور یہ لوگ اپنی کوششوں میں کامیاب نہ ہوں گے بلکہ ناکام و نامُراد ہوں گے، اگرچہ ان پر نعمتوں کی بہتات ہو لیکن انجامِ کار زوال ہی ہے۔ (صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۶۹، ۳ / ۸۸۳)
مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠(۷۰)
ترجمۂ کنزالایمان: دنیا میں کچھ برت لینا ہے پھر انہیں ہماری طرف واپس آنا پھر ہم انہیں سخت عذاب چکھائیں گے بدلہ ان کے کفر کا۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: دنیا میں تھوڑا سا فائدہ اٹھانا ہے پھر انہیں ہماری طرف واپس آنا ہے پھر ہم انہیں ان کے کفر کے بدلے میں شدیدعذاب کا مزہ چکھائیں گے۔
{مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا:دنیا میں تھوڑا سافائدہ اٹھانا ہے۔}اس آیت میں کچھ لوگوں کے اِس شُبہے کا جواب دیا گیا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ پر جھوٹ باندھنے والے بہت سے افراد عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں اور دنیاوی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں تو وہ ناکام کہاں سے ہوئے؟ ان کے شبہ کے ازالے کیلئے فرمایا گیا کہ یہ عارضی آرام ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں بلکہ اعتبار انجام کا ہے اور ان کاانجام خراب ہی ہے ۔ (صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۷۰، ۳ / ۸۸۳)
وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍۘ-اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْكِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا یَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَیْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ(۷۱)
ترجمۂ کنزالایمان: اور انہیں نوح کی خبر پڑھ کر سناؤ جب اس نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم اگر تم پر شاق گزرا ہے میرا کھڑا ہونا اور اللہ کی نشانیاں یاد دلانا تو میں نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا تو مل کر کام کرو اور اپنے جھوٹے معبودوں سمیت اپنا کام پکا کرلو تمہارے کام میں تم پر کچھ گنجلک نہ رہے پھر جو ہو سکے میرا کرلو اور مجھے مہلت نہ دو۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور انہیں نوح کی خبر پڑھ کر سناؤ جب اس نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم اگر میرا قیام کرنا اور میرا اللہ کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کرنا تم پر بھاری ہے تو میں نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا تو تم اپنا کام اور اپنے شریکوں کو جمع کرلو پھر تمہارا کام تم پر پوشیدہ نہ رہے پھر میرے بارے میں جو کچھ کرسکتے ہو کرلو اور مجھے کوئی مہلت نہ دو۔
{وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ:اور انہیں نوح کی خبر پڑھ کر سناؤ ۔} اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفارِ قریش کے اَحوال اور ان کے کفر و عناد کو بیان فرمایا اس کے بعد اب ان آیات سے اللہ تعالیٰ نے انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات اور جو کچھ ان کی امتوں کے ساتھ پیش آیا اس کا بیان شروع فرمایا ہے، گزشتہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حالاتِ زندگی بتاکر حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دینا مقصود ہے تاکہ کفارِ قریش کی طرف سے پہنچنے والی اَذیت کی تکلیف آسان ہو نیز ان واقعات اور ماضی میں کفر کرنے والی امتوں پر آنے والے عذاب اور دنیا میں ان کی ہلاکت کا بیان کفارِ قریش کے لئے قلبی خوف کا سبب ہو اور وہ ایمان قبول کرنے کی طرف مائل ہوں اور چونکہ سب سے پہلے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر ان کے کفر و سرکشی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع