30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَلَیْہِمْ اور اپنے فرمانبردار بندوں سے فرمائے ہیں۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۶۴، ۲ / ۳۲۴)
وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْۘ-اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًاؕ-هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۶۵)
ترجمۂ کنزالایمان: اور تم ان کی باتو ں کا غم نہ کرو بیشک عزت ساری اللہ کے لیے ہے وہی سنتا جانتا ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور تم ان کی باتو ں کا غم نہ کروبیشک تمام عزتوں کا مالک اللہ ہے ، وہی سننے والا جاننے والاہے۔
{وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ:اور تم ان کی باتو ں کا غم نہ کرو۔} اس آیت میں سرورِ دو عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو تسلی دی گئی ہے کہ کفار نابکار جو آپ کی تکذیب کرتے ہیں اور آپ کے خلاف برے مشورے کرتے ہیں آپ اس کا کچھ غم نہ فرمائیں۔ بیشک تمام عزتوں کا مالک اللہ عَزَّوَجَلَّہے، وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے ، اے سیّدِ انبیاء! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کا ناصر و مددگار ہے، اس نے آپ کو اور آپ کے صدقے میں آپ کے فرمانبرداروں کو عزت دی، جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا کہ
’’وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ ‘‘ (منافقون:۸)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اللہ کے لئے عزت ہے اور اس کے رسول کے لئے اور ایمانداروں کے لئے۔( خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۶۵، ۲ / ۳۲۴، ملخصاً)
بلکہ کائنات میں عزت کا پیمانہ ہی حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ذات ِ مبارکہ ہے جو آپ سے جتنا قریب ہے وہ اتنا ہی زیادہ معزز ہے چنانچہ صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سب سے زیادہ قریب تھے تو اُمت میں سب سے معزز بھی وہی ہیں اور ابوجہل سب سے زیادہ دور تھا اس لئے کفار میں سب سے خبیث ترین بھی وہی قرار پایا۔
اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِؕ-وَ مَا یَتَّبِـعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَؕ-اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ(۶۶)
ترجمۂ کنزالایمان: سن لو بیشک اللہ ہی کی مِلک ہیں جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمینوں میں اور کاہے کے پیچھے جا رہے ہیں وہ جو اللہ کے سوا شریک پکار رہے ہیں وہ تو پیچھے نہیں جاتے مگر گمان کے اور وہ تو نہیں مگر اٹکلیں دوڑاتے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: سن لو! بیشک اللہ ہی مالک ہے سب کا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور اللہ کے سوا اور شریکوں کی عبادت کرنے والے کس کی پیروی کررہے ہیں ؟ وہ تو صرف گمان کے پیچھے چل رہے ہیں اور وہ صرف جھوٹے اندازے لگا رہے ہیں۔
{اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ:سن لو! بیشک سب کا مالک اللہ ہی ہے۔} اس آیت سے پہلے آیت نمبر 55 میں ارشاد ہوا تھا کہ ’’ اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ‘‘ اور اس آیت میں ارشاد ہوا ’’ اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ‘‘ ان دونوں آیتوں کا خلاصۂ کلام یہ ہے کہ عقل والے ہوں یا بے عقل تمام جمادات، نباتات، حیوانات، جن ، انسان اور فرشتے سب کا مالک اللہ عَزَّوَجَلَّہی ہے اور جب ہر چیز اس کی مَملوک ہے تو ان میں سے کوئی معبود کیسے ہو سکتا ہے۔ اسی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا اور شریکوں کی عبادت کرنے والے کس دلیل کی بنا پر ان کی عبادت کر رہے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں اور وہ صرف جھوٹے اندازے لگارہے ہیں اور بے دلیل محض گمانِ فاسد سے اپنے باطل معبودوں کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں ، اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ایک کی پرستش باطل ہے۔ (تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۶۶، ۶ / ۲۷۹، ملخصاً)
یہ تو حید کی ایک عمدہ دلیل ہے اوراس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی قدرت و نعمت کا اظہار فرماتا ہے۔
هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًاؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ(۶۷)
ترجمۂ کنزالایمان: وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اس میں چین پاؤ اور دن بنایا تمہاری آنکھیں کھولتا بیشک اس میں نشانیاں ہیں سننے والوں کے لیے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو آنکھیں کھولنے والا بنایا بیشک اس میں سننے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
{هُوَ الَّذِیْ:وہی ہے جس نے۔} ارشاد فرمایا کہ وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ اس میں راحت و سکون حاصل کرواور آرام کرکے دن بھر کی تھکان دور کرو اور دن کو آنکھیں کھولنے والا بنایا تاکہ تم اس کی روشنی میں اپنی ضروریاتِزندگی اور اَسباب ِمَعاش فراہم کرسکو۔ بیشک اس میں سننے والوں کے لیے نشانیاں ہیں جو سنیں اور سمجھیں کہ جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا وہی معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۶۷، ۲ / ۳۲۴-۳۲۵، مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۶۷، ص۴۷۹، ملتقطاً)
رات اور دن اللہ تعالٰی کی عظیم نعمتیں ہیں :
یاد رہے کہ رات اور دن دونوں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عظیم نعمتوں میں سے ہیں۔ رات کے وقت آدمی آرام کرتا ہے اور سکون حاصل کرتا ہے، گزشتہ دن کی تھکاوٹ اتارتا ہے اور اگلے دن کیلئے چاق و چوبند ہوجاتا ہے اور دن کے وقت آدمی ہزاروں کام سرانجام دیتا ہے، دنیا بھر کے کام کرتا ہے اوراس کے ساتھ دن کی روشنی سے بھی راحت و آرام پاتا ہے ۔ دن یا رات میں سے کوئی ایک ختم ہوجائے تو زندگی نہایت کٹھن ہوجائے ۔ اگردن ختم ہوجائے اور ہمیشہ رات ہی رہے تو زمین پر کچھ کھانے کو نہ اُگ سکے گا اور سردی کی شدت بڑھتے بڑھتے انسان ہلاک ہوجائے اور اگر رات ختم ہوجائے اور ہمیشہ دن ہی رہے تو فصلیں سورج کی تَمازت سے جل جائیں اور لوگوں کا راحت و آرام چھن جائے۔ الغرض رات اور دن دونوں ہی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمت ہیں اور نعمتوں کی اہمیت کا صحیح اندازہ ان ممالک میں رہنے سے ہو سکتا ہے جہاں کئی کئی مہینے دن یا کئی کئی مہینے رات رہتی ہے ۔
قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗؕ-هُوَ الْغَنِیُّؕ-لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَاؕ-اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۶۸)قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ(۶۹)
ترجمۂ کنزالایمان: بولے اللہ نے اپنے لیے اولاد بنائی پاکی اس کو وہی بے نیاز ہے اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں تمہارے پاس اس کی کوئی بھی سند نہیں کیا اللہ پر وہ بات بتاتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں۔ تم فرماؤ وہ جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع