30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اپنی شرمندگی عام کافروں سے چھپانے کی کوشش کریں گے اور اس دن ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر کچھ بھی ظلم نہ ہو گا۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۵۴، ۲ / ۳۱۹، جلالین، یونس، تحت الآیۃ: ۵۴، ص۱۷۵، ملتقطاً )چونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کفر و شرک کی سزا کا دائمی ہونا بیان فرما دیا اور قانون بنا دیا تو اب جسے یہ سزا ملے گی اسے یقیناً قانون کے مطابق ملے گی اور قانون کے مطابق سزا انصاف ہی ہوتی ہے۔
اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(۵۵)هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ(۵۶)
ترجمۂ کنزالایمان: سن لو بیشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں سن لو بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے مگر ان میں اکثر کو خبر نہیں۔وہ جِلاتا اور مارتا ہے اور اسی کی طرف پھرو گے ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: سن لو بیشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے۔ سن لو! بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے مگر ان میں اکثر نہیں جانتے۔ وہ زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
{اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ:سن لو بیشک اللہ ہی کا ہے۔} اس سے پہلی آیت میں بیان ہوا کہ ہر کافر تمنا کرے گا کہ اگر روئے زمین کی تمام چیزیں میری ملک میں ہوتیں تو وہ سب فدیے میں دے دیتا اور اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اس کی ملکیت میں کوئیچیز نہیں ہے ۔ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ زمین و آسمان میں موجود ہر چیز کا مالک اللہ عَزَّوَجَلَّ ہے،اس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا اور کوئی شریک نہیں تو قیامت کے دن کسی کافر کے پاس اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات پانے کیلئے فدیے کے طور پر دینے کیلئے کوئی چیز نہ ہوگی کیونکہ سب چیزوں کا مالک اللہ عَزَّوَجَلَّہے بلکہ کافر خود بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ملک میں ہے تو اس کا فدیہ دینا کیسے ممکن ہے۔ (صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۵۵، ۳ / ۸۷۶، خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۵۵، ۲ / ۳۱۹، ملتقطاً)
{اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ:سن لو! بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو ثواب اور عذاب کا وعدہ فرمایا ہے وہ سچا ہے اور ضرور پورا ہو گا لیکن ان میں سے اکثر لوگ اپنی عقل کی کمی اور غفلت کے غلبے کی وجہ سے اسے نہیں جانتے اور وہ صرف دنیا کی ظاہری زندگی کو جاننے تک ہی محدود ہیں اسی لئے وہ ایسی غلط باتیں بولتے اور غلط کام کرتے ہیں۔( روح البیان، یونس، تحت الآیۃ: ۵۵، ۴ / ۵۳)
{ هُوَ یُحْیٖ:وہ زندہ کرتا ہے۔} یعنی اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ کسی کی دخل اندازی کے بغیر وہی دنیا میں زندہ کرتا اور موت دیتا ہے اور آخرت میں تم دوبارہ زندہ ہو کر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (روح البیان، یونس، تحت الآیۃ: ۵۶، ۴ / ۵۳)
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِۙ۬-وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ(۵۷)
ترجمۂ کنزالایمان: اے لوگو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی اور دلوں کی صحت اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کے لیے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی شفا اور مومنوں کیلئے ہدایت اور رحمت آگئی۔
{ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ:اے لوگو!۔} اس آیت میں قرآنِ کریم کے آنے اور اس کے نصیحت، شفا،ہدایت ا ور رحمت ہونے کا بیان ہے کہ یہ کتاب اُن فوائدِ عظیمہ کی جامع ہے۔
اس آیت میں قرآنِ کریم کے تین عظیم فائدے بیان کئے گئے
(1)… ’’ مَوْعِظَةٌ ‘‘اس کے معنی ہیں وہ چیز جو انسان کو پسندیدہ چیزکی طرف بلائے اور خطرے سے بچائے ۔ خلیل نے کہا کہ ’’ مَوْعِظَةٌ ‘‘نیکی کی نصیحت کرنا ہے جس سے دل میں نرمی پیدا ہو۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۵۷، ۲ / ۳۲۰)
تفسیر جمل میں ہے کہ ’’ مَوْعِظَةٌ‘‘ کا معنی ہے وعظ و نصیحت یعنی مُکَلَّف کے سامنے نیک اعمال جو کہ اس کیلئے فائدہ مند ہیں اور برے اعمال جو کہ اس کے لئے نقصان دِہ ہیں بیان کر کے اسے نصیحت کرنا اسی طرح اچھے عمل کرنے کی ترغیب دینا اور برے اعمال کے انجام سے ڈرانا بھی اس میں داخل ہے۔ (جمل، یونس، تحت الآیۃ: ۵۷، ۳ / ۳۷۲) اور قرآنِ کریم سے یہ فائدہ انتہائی احسن طریقے سے حاصل ہوتاہے۔
(2)…شفاء :اس سے مراد یہ ہے کہ قرآنِ پاک قلبی اَمراض کودور کرتا ہے، دل کے امراض سے مراد مَذموم اَخلاق ، فاسد عقائد اور مُہلِک جہالتیں ہیں ، قرآنِ پاک ان تمام اَمراض کو دور کرتا ہے۔
(3)…قرآنِ کریم کی صفت میں ہدایت بھی فرمایا ،کیونکہ وہ گمراہی سے بچاتا اور راہِ حق دکھاتا ہے اور ایمان والوں کے لئے رحمت اس لئے فرمایا کہ وہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۵۷، ۲ / ۳۲۰، ملخصاً)
شریعت ،طریقت اور حقیقت کی طرف اشارہ:
علامہ صاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ’’ مَوْعِظَةٌ‘‘ کا معنی یہ ہے کہ نفع دینے والی چیزوں یعنی اچھے اعمال کی ہدایت اور نقصان دینے والی چیزوں یعنی برے اعمال سے ڈرانا۔’’ مِنْ رَّبِّكُمْ‘‘ ’’ مَوْعِظَةٌ ‘‘ کی صفت ہے اور ارشاد فرمایا ’’ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ‘‘ اس میں سینوں سے مراد دل ہیں اور معنی یہ ہے کہ قرآن وعظ و نصیحت کرنے والا ہے اوراسی کے ذریعے دلوں کے اَمراض یعنی کینہ ،حسد، بغض اور برے عقائد سے شفاء نصیب ہوتی ہے۔اور ارشاد فرمایا ’’وَهُدًى‘‘ یعنی نور جو کہ کامل مسلمانوں کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے اور اس کے ذریعے وہ حق و باطلمیں اِمتیاز کر لیتے ہیں۔ مزید فرماتے ہیں ’’اس آیت میں شریعت ، طریقت اور حقیقت تینوں کی طرف اشارہ ہے۔ شریعت کی طرف اشارہ آیت کے اس حصے’’مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ‘‘ میں ہے، کیونکہ شریعت سے ظاہری طہارت حاصل ہوتی ہے اور طریقت کی طرف اشارہ آیت کے اس حصے’’وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ‘‘ میں ہے کیونکہ طریقت باطن کو ہر نا مناسب چیز سے پاک کرتی ہے۔ جبکہ حقیقت کی طرف اشارہ آیت کے اس حصے ’’وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ‘‘ میں ہے کیونکہ حقیقت ہی کے ذریعے دلوں میں ان اَنوار کی تجلیات پھیلتی ہیں جن کے ذریعے چیزیں اپنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع