دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

عَنْہُکو جنت عطا فرمانا، حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے گھر تھوڑے سے آٹے اور گوشت میں لعابِ دہن ڈال کر سینکڑوں لوگوں کو کھلا دینا، غزوۂ بدر میں حضرت ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی آنکھ زخمی ہونے پر اسے صحیح کر دینا، غزوۂ اُحد کے موقع پر حضرت قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی تیر لگنے سے آنکھ نکل جانے پر ان کی آنکھ درست کر دینا، حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے لئے سورج کو واپس لوٹا کر گئے ہوئے دن کو عصر کردینا ، غزوۂ خیبر کے موقع پر آپ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو ہونے والی آشوبِ چشم کی بیماری دور کردینا، ایک غزوے کے موقع پر 1500 صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری کر کے سیراب کر دینا، اسی طرح وصالِ ظاہری کے بعد حضرتِ بلال بن حارث مزنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مزارِ اقدس پر حاضر ہو کر بارش کی دعا کرنے کی عرض پر بارش ہونے کی خوشخبری دینا، مزارِ اقدس پر حاضر ہو کر مغفرت طلب کرنے والے اَعرابی کو مغفرت ہو جانے کی بشارت دینا، قیامت کے انتہائی سخت لمحات میں اُمتوں کا حساب شروع کروا کر اَوَّلین و آخرین تمام انسانوں ، جنوں اور حیوانوں کی مدد کرنا، گنہگار امتیوں کی شفاعت کرنا، حوضِ کوثر پر پیاسے اُمتیوں کو سیراب کرنا، میزانِ عمل پر گنہگار اُمتیوں کے اَعمال کے وزن کو بڑھانا اورپل صراط پر کھڑے ہو کر اپنے امتیوں کی سلامتی کی دعائیں مانگنا، یہ سب تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے نفع پہنچانے کی واضح مثالیں ہیں ، اور جس طرح آپ نے دینِ اسلام کے حامیوں کو نفع پہنچایا ہے اسی طرح اسلام کے دشمنوں کو نقصان بھی پہنچایا ہے۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ(۵۰)

اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖؕ- ﰰ لْــٴٰـنَ وَ قَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ(۵۱)

ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِۚ-هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ(۵۲)

ترجمۂ کنزالایمان:تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر اس کا عذاب تم پر رات کو آئے یا دن کو تو اس میں وہ کونسی چیز ہے کہ مجرموں کو جس کی جلدی ہے۔تو کیا جب ہو پڑے گا اس وقت اس کا یقین کرو گے کیا اب مانتے ہو پہلے تو اس کی جلدی مچا رہے تھے۔ پھر ظالموں سے کہا جائے گا ہمیشہ کا عذاب چکھو تمہیں کچھ اور بدلہ نہ ملے گا مگر وہی جو کماتے تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:تم فرماؤ: بھلا بتاؤ تو کہ اگر اس کا عذاب تم پر رات کو آئے یا دن کو تو اس میں وہ کونسی چیز ہے جس کی مجرم جلدی مچا رہے ہیں ؟تو کیا جب وہ (عذاب) واقع ہوجائے گا اس وقت اللہ پر ایمان لاؤگے؟ (ان سے کہا جائے گا کہ)کیا اب (تم ایمان لارہے ہو) حالانکہ اس سے پہلے تو تم اس کی بڑی جلدی مچا رہے تھے۔پھر ظالموں سے کہا جائے گا: ہمیشہ کے عذاب کا مزہ چکھو ۔ تمہیں تمہارے کمائے ہوئے اعمال ہی کا بدلہ دیا جارہا ہے۔

{قُلْ اَرَءَیْتُمْ:تم فرماؤ : بھلا بتاؤ تو۔} یعنی اے حبیب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اپنی قوم کے مشرکین سے فرما دیں کہ ذرا بتاؤ تو سہی کہ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا وہ عذاب جس کے نازل ہونے کی تم جلدی مچا رہے ہو،  تم پر رات میں اس وقت آئے جب تم غافل پڑے سو رہے ہو یا دن میں اس وقت آئے جب تم مَعاش کے کاموں میں مشغول ہو تو تمہاری تکلیف میں کیا فرق پڑے گا یعنی عذاب کا ہر حصہ عذاب ہے اور ہر وقت کا عذاب عذاب ہی ہے تو تمہارے لئے تو بہرحال مُہلِک ہے تو پھر تم اس کے جلدی وُقوع کا مطالبہ کیوں کررہے ہو؟

{اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ:تو کیا جب وہ (عذاب)واقع ہوجائے گا ۔} یعنی اگر اللہ عَزَّوَجَلَّکا عذاب تم پر آجائے گا توکیا اس کے نازل ہونے کے بعد اللہ عَزَّوَجَلَّ پر ایمان لاؤ گے؟ اس وقت کا ایمان کچھ فائدہ نہ دے گا اور جب عذاب نازل ہونے کے بعد ایمان لائیں گے توان سے کہا جائے گا کہ تم اب ایمان لارہے ہوحالانکہ اس سے پہلے تو تم سر کشی اور اِستہزاء کے طور پر اس کی بڑی جلدی مچا رہے تھے۔ (بیضاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۵۲،۳ / ۲۰۲)

{ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا:پھر ظالموں سے کہا جائے گا۔} یعنی جن لوگوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے شرک اور کفر کر کے اپنی جانوں پر ظلم کیا ان سے کہا جائے گا: جس عذاب میں تمہیں ہمیشہ رہنا ہے اس کا مزہ چکھو، تم دنیا میں جو کفر اور انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کرتے تھے یہ اسی کا بدلہ دیا جا رہا ہے۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۵۲، ۲ / ۳۱۹، مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۵۲، ص۴۷۶، ملتقطاً)

وَ یَسْتَنْۢبِــٴُـوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ ﳳ-قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ ﱢ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۠(۵۳)

ترجمۂ کنزالایمان:اور تم سے پوچھتے ہیں کیا وہ حق ہے تم فرماؤ ہاں میرے رب کی قسم بیشک وہ ضرور حق ہے اور تم کچھ تھکا نہ سکو گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تم سے پوچھتے ہیں : کیا وہ حق ہے؟ تم فرماؤ ، ہاں !میرے رب کی قسم بیشک وہ ضرور حق ہے اور تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکو گے۔

{ وَ یَسْتَنْۢبِــٴُـوْنَكَ:اور تم سے پوچھتے ہیں۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا قیامت اور وہ عذاب جس کے نازل ہونے کی آپ نے ہمیں خبر دی ہے واقعی حق ہے؟ آپ ان سے فرما دیں ، ہاں ! میرے رب عَزَّوَجَلَّکی قسم! بیشک میں نے جس کی خبر دی ہے وہ ضرور حق ہے اوراس میں کوئی شک نہیں اورتم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب سے بھاگ کر اسے عاجز نہیں کرسکتے بلکہ وہ  عذاب تمہیں ضرور پہنچے گا۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۵۳، ۲ / ۳۱۹، صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۵۳، ۳ / ۸۷۵، ملتقطاً)

وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖؕ-وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَۚ-وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۵۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر ہر ظالم جان زمین میں جو کچھ ہے سب کی مالک ہوتی ضرور اپنی جان چھڑانے میں دیتی اور دل میں چپکے چپکے پشیمان ہوئے جب عذاب دیکھا اور ان میں انصاف سے فیصلہ کردیا گیا اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زمین میں جو کچھ ہے اگر ہر ظالم جان اس سب کی مالک ہوجائے تو وہ یقیناًاپنی جان چھڑانے کے معاوضے میں دیدے اور وہ جب عذاب دیکھیں گے تو دل میں چپکے چپکے پشیمان ہوں گے اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

{وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ:اور زمین میں جو کچھ ہے اگر ہر ظالم جان اس کی مالک ہوجائے۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا میں زمین کے اندر جو خزانہ اور مال و دولت ہے یہ سب اگر ہر کافر و مشرک کی مِلک میں ہوتا تو وہ یقیناًاپنی جان چھڑانے کے معاوضے میں دیدیتا اور قیامت کے دن اسے اپنی رہائی کے لئے فِدیہ کر ڈالتا، لیکن یہ فدیہ قبول نہیں اور تمام دنیا کی دولت خرچ کرکے بھی اب رہائی ممکن نہیں۔ جب قیامت میں یہ منظر پیش آئے گا اور کفار کی امیدیں ٹوٹ جائیں گی اور کافروں کے سردار عذاب دیکھیں گے تو وہ دل ہی دل میں شرمندہ اور پشیمان ہوں گے لیکن

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن