دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

دیکھتے ہی نہ ہوں کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے دل کی نظروں کو اندھا کر دیا ہے اسی لئےانہیں ہدایت کی کوئی چیز نظر ہی نہیں آتی۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس آیت اوراس سے اوپر والی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دی ہے کہ جس کی سماعت کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے سَلب فرما لیا ہے آپ اسے سنا نہیں سکتے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جس کی بصارت لے لی ہے آپ اسے ہدایت کی راہ نہیں دکھا سکتے اور جس کے ایمان نہ لانے کا اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فیصلہ فرما دیا ہے آپ اسے ایمان کی توفیق نہیں دے سکتے لہٰذا آپ ان مشرکین کے ایمان قبول نہ کرنے پر غمزدہ نہ ہوں۔(خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۴۳، ۲ / ۳۱۷، مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۴۳، ص۴۷۴،صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۴۳، ۳ / ۸۷۲، ملتقطاً)گویا فرمایا گیا کہ کفار حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو دیکھتے تو ہیں لیکن  صرف سر کی آنکھوں سے، دل کی آنکھوں سے نہیں جس سے(دیکھنے والا) صحابی بن جائے اور جو حضور ِاقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو صرف محمد بن عبداللہ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) ہونے کے لحاظ سے دیکھے وہ محرومِ اَزلی ہے اور جو محمَّد رسولُ اللہ(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) ہونے کے لحاظ سے دیکھے وہ جنتی ہے، اس لئے ا ن دیکھنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے اندھا فرمایا یعنی دل کے اندھے جنہیں ہدایت نہ نصیب ہو سکے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جمالِ مصطفٰی دیکھنے والی نگاہ اور ہوتی ہے اور وہ آنکھ وہ ہے جس سے حضرت ابوبکر و عمر اورصحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے دیکھا ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْــٴًـا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ(۴۴)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اللہ لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا ہاں لوگ ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اللہ لوگوں پر کوئی ظلم نہیں کرتا، ہاں لوگ ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔

{اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْــٴًـا :بیشک اللہ لوگوں پرکوئی ظلم نہیں کرتا۔} اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ مشرکین کی عقل ، سماعت اور بصارت اللہ تعالیٰ نے سَلب فرما لی ہے جس کی وجہ سے وہ ہدایت حاصل نہیں کر سکتے اور اس آیت میں بیان فرمایا کہ یہ لوگوں پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کاظلم نہیں کیونکہ کفار کا ہدایت سے محروم ہونا ان کے اپنے کرتوتوں اور ضد و عناد کے سبب ہے ، یہ نہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان میں حق قبول کرنے کی صلاحیت ہی پیدا نہیں کی تھی بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے یہ صلاحیت ان میں پیدا کی مگر انہوں نے خود اسے تباہ کردیا تو قصور خود ان کا ہے کسی اور کا نہیں۔

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَهُمْؕ-قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ(۴۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جس دن انہیں اٹھائے گا گویا دنیا میں نہ رہے تھے مگر اس دن کی ایک گھڑی آپس میں پہچان کریں گے پورے گھاٹے میں رہے وہ جنہوں نے اللہ سے ملنے کو جھٹلایا اور ہدایت پر نہ تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جس دن (اللہ) انہیں اٹھائے گا گویا وہ دنیا میں دن کی ایک گھڑی سے زیادہ ٹھہرے ہی نہیں تھے، آپس میں ایک دوسرے کو پہچان رہے ہوں گے۔ بیشک اللہ کی ملاقات کو جھٹلانے والے نقصان میں رہے اور وہ ہدایت یافتہ نہیں تھے۔

{وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ:اور جس دن انہیں اٹھائے گا۔}  یہاں قیامت کا حال بیان کیا گیا ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،آپ وہ وقت یاد کیجئے جس دن اللہ عَزَّوَجَلَّ ان مشرکوں کو قبروں سے حساب کی جگہ میں حاضر کرنے کے لئے اٹھائے گا تو اس روز کی ہَیبت و وحشت سے یہ حال ہوگا کہ وہ دنیا میں رہنے کی مدت کو بہت تھوڑا سمجھیں گے اور یہ خیال کریں گے کہگویا وہ دنیا میں دن کی ایک گھڑی کے علاوہ ٹھہرے ہی نہیں تھے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کفار نے طلب ِدنیا میں اپنی عمریں ضائع کردیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت جو آج کار آمد ہوتی وہ بجا نہ لائے تو ان کی زندگانی کا وقت ان کے کام نہ آیا اس لئے وہ اسے بہت ہی کم سمجھیں گے ،نیز قبروں سے نکلتے وقت تو ایک دوسرے کو ایسا پہچانیں گے جیسا دنیا میں پہچانتے تھے پھر قیامت کے دن کے ہَولناک اور دہشت آمیز مَناظِر دیکھ کر یہ معرفت باقی نہ رہے گی اور ایک قول یہ ہے کہ قیامت کے دن حالات مختلف ہوں گے کبھی ایسا حال ہوگا کہ ایک دوسرے کو پہچانیں گے کبھی ایسا کہ نہ پہچانیں گے اور جب پہچانیں گے تو کہیں گے جس نے اپنی باقی رہنے والی آخرت کو فانی دنیا کے بدلے بیچ دیا وہ نقصان میں رہا کیونکہ اس نے فانی کو باقی پر ترجیح دی ۔آیت کے آخر میں فرمایا کہ انہیں ا س چیز کی ہدایت نہ تھی جو انہیں روزِ قیامت کے اس خسارے سے نجات دیتی۔( خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۴۵، ۲ / ۳۱۷-۳۱۸، مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۴۵، ص۴۷۵، ملتقطاً)

وَ اِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ(۴۶)

ترجمۂ کنزالایمان:اور اگر ہم تمہیں دکھا دیں کچھ اس میں سے جو انہیں وعدہ دے رہے ہیں یا تمہیں پہلے ہی اپنے پاس بلالیں بہرحال انہیں ہماری طرف پلٹ کر آنا ہے پھر اللہ گواہ ہے ان کے کاموں پر۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور ہم تمہیں اس چیزکا کچھ حصہ دکھا دیں جس کا ہم ان سے وعدہ کررہے ہیں یا ہم تمہیں پہلے ہی اپنے پاس بلالیں بہرحال انہیں ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے پھر اللہ ان کے کاموں پرگواہ ہے ۔

{وَ اِمَّا نُرِیَنَّكَ:اور ہم تمہیں دکھا دیں۔} فرمایا گیا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جس عذاب کا ہم نے کفار سے وعدہ کیا ہے اگر اس کا کچھ حصہ آپ کو دنیا میں ہی دکھا دیں تو وہ ملاحظہ کیجئے اور اگر دنیا میں وہ عذاب دکھانے سے پہلے ہم آپ کواپنے پاس بلالیں تو عنقریب آخرت میں آپ ان کے عذاب کو دیکھ لیں گے کیونکہ آخرت میں انہیں بہر حال ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے اورکفار دنیا میں جو اَعمال کرتے ہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ ان پر گواہ ہے اور قیامت کے دن وہ انہیں ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔  اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کافروں کے بہت سے عذاب اور ان کی ذلت و رسوائیاں آپ کی حیاتِ دنیا ہی میں دکھائے گا چنانچہ بدر وغیرہ میں ذلت و رُسوائیاں دکھائی گئیں اور جو عذاب کافروں کے لئے کفر و تکذیب کی وجہ سے آخرت میں مقرر فرمایا ہے وہ آخرت میں دکھائے گا۔( خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۴۶، ۲ / ۳۱۸)

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌۚ-فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۴۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہر امت میں ایک رسول ہوا جب ان کا رسول ان کے پاس آتا ان پر انصاف کا فیصلہ کردیا جاتا اور ان پر ظلم نہ ہوتا۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن