30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلا کر کیسے کیسے عذابوں میں مبتلا ہوئیں ، اس لئے اے سیّدُ الانبیاء ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،آپ کی تکذیب کرنے والوں کو بھی ڈرنا چاہیے کہ کہیں وہ بھی میرے عذاب میں گرفتار نہ ہو جائیں۔( خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۳۹، ۲ / ۳۱۶، مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۳۹، ص۴۷۴، ملتقطاً)
وَ مِنْهُمْ مَّنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهٖؕ-وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠(۴۰)
ترجمۂ کنزالایمان: اور ا ن میں کوئی اس پر ایمان لاتا ہے اور ان میں کوئی اس پر ایمان نہیں لاتا اور تمہارا رب مفسدوں کو خوب جانتا ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ان میں کوئی تواس پر ایمان لاتا ہے اور ان میں کوئی اس پر ایمان نہیں لاتا اور تمہارا رب فسادیوں کو خوب جانتا ہے۔
{وَ مِنْهُمْ مَّنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ:اور ان میں کوئی تواس پرایمان لاتا ہے۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، قریش میں سے بعض وہ لوگ ہیں جو اس قرآن پر عنقریب ایمان لے آئیں گے اور بعض وہ ہیں جو اس قرآن پر کبھی بھی نہ ایمان لائیں گے ، نہ کبھی اس کا اقرار کریں گے اور آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ ان جھٹلانے والوں کو خوب جانتا ہے اور عنقریب انہیں اس کے عذاب کا سامنا ہو گا۔ (تفسیر طبری، یونس، تحت الآیۃ: ۴۰، ۶ / ۵۶۳)
کفارِ مکہ کے ایمان لانے سے متعلق غیبی خبر:
اس آیت میں یہ غیبی خبر ہے کہ موجودہ مکہ والے نہ تو سار ے ایمان لائیں گے اورنہ سارے ایمان سے محروم رہیں گے، چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ بعض لوگ ایمان لے آئے اور بعض ایمان سے محروم رہے۔
وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْۚ-اَنْتُمْ بَرِیْٓــٴُـوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ(۴۱)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر وہ تمہیں جھٹلائیں تو فرمادو کہ میرے لیے میری کرنی اور تمہارے لیے تمہاری کرنی تمہیں میرے کام سے علاقہ نہیں اور مجھے تمہارے کام سے تعلق نہیں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور اگر وہ تمہیں جھٹلائیں تو تم فرمادو کہ میرا عمل میرے لیے ہے اور تمہارا عمل تمہارے لئے ہے اور تم میرے عمل سے الگ ہو اور میں تمہارے اعمال سے بیزار ہوں۔
{وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ:اور اگر وہ تمہیں جھٹلائیں۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اگر آپ کی قوم آپ کو جھٹلانے پر قائم رہے اور ان کے راہِ راست پر آنے اور حق و ہدایت قبول کرنے کی امید مُنقطع ہوجائے توتم ان سے فرما دو کہ میرا عمل میرے لیے ہے اور تمہارا عمل تمہارے لئے ہے اور ہم میں سے کسی کے عمل پر دوسرے کی پکڑنہ ہوگی بلکہ جو پکڑا جائے گا خود اپنے عمل کی وجہ سے پکڑا جائے گا اور تم میرے عمل سے الگ ہو اور میں تمہارے اعمال سے بیزار ہوں۔ یہ فرمانا بطور زَجر کے ہے کہ تم نصیحت نہیں مانتے اور ہدایت قبول نہیں کرتے تو اس کا وبال خود تم پر ہوگا کسی دوسرے کا اس سے نقصان نہیں۔( خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۴۱، ۲ / ۳۱۷، مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۴۱، ص۴۷۴، ملتقطاً)
نیکی کی دعوت دینے والے کو نصیحت:
اس آیت ِ مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی کو نیکی کی دعوت دیں تو اسے دعوت دے کر اپنے آپ کو بریٔ الذمہ سمجھیں ، یہ نہیں کہ بس سامنے والے کو سیدھا کرکے ہی چھوڑنا ہے اگرچہ وہ پہلے سے زیادہ بگڑ جائے۔
وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَؕ-اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ(۴۲)
ترجمۂ کنزالایمان:اور ان میں کوئی وہ ہیں جو تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو کیا تم بہروں کو سنا دو گے اگرچہ انہیں عقل نہ ہو۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور ان میں کچھ وہ ہیں جو تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو کیا تم بہروں کو سنا دو گے؟ اگرچہ وہ سمجھتے نہ ہوں۔
{ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ:اور ان میں کچھ وہ ہیں جو تمہاری طرف کان لگاتے ہیں۔} یعنی ان مشرکین میں سے بعض ایسے ہیں کہ جو اپنے ظاہری کانوں کے ساتھ سننے کیلئے جھکتے ہیں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے قرآنِ پاک اور دین کے اَحکام سنتے ہیں لیکن آپ سے شدید بغض اور عداوت کی وجہ سے یہ سننا انہیں کوئی فائدہ نہیں دیتا تو جس طرح آ پ بہرے کو نہیں سنا سکتے اسی طرح اسے بھی نہیں سنا سکتے جس کے دل کو اللہ تعالیٰ نے سننے سے بہرہ کر دیا ہے اور جو کچھ یہ سنتے ہیں اس سے نفع اٹھانے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو پھیر دیا اور اسے قبول کرنے کی توفیق سے محروم کر دیا ہے اورجب وہ سن کر عمل نہیں کرتے تو وہ جاہلوں کی مانند ہیں۔(خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۴۲، ۲ / ۳۱۷، مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۴۲، ص۴۷۴، ملتقطاً)
آیت’’وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
اس آیت سے تین چیزیں معلوم ہوئیں :
(1)… بغض و عناد کی وجہ سے آدمی کا دل اندھا ، بہرا ہوجاتا ہے ، اس لئے وہ سامنے والے کی بات نہیں مانتا۔
(2)… کسی سے بات منوانی ہو تو پہلے اس کے دل میں اپنے لئے نرم گوشہ پیدا کرنا چاہیے۔
(3)…علم ہونے کے باوجود عمل نہ کرنے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک جاہل ہی کے حکم میں ہے۔
وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَؕ-اَفَاَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ(۴۳)
ترجمۂ کنزالایمان: اور ان میں کوئی تمہاری طرف تکتا ہے کیا تم اندھوں کو راہ دکھا دو گے اگرچہ وہ نہ سوجھیں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ان میں کوئی تمہاری طرف دیکھتا ہے توکیا تم اندھوں کو راستہ دکھا دو گے؟ اگرچہ وہ دیکھتے ہی نہ ہوں۔
{وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَ:اور ان میں کوئی تمہاری طرف دیکھتا ہے۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ان مشرکین میں سے بعض ایسے ہیں کہ جو تمہاری طرف اپنی ظاہری آنکھوں سے دیکھتے ہیں ، آپ کی سچائی کے دلائل اور نبوت کی نشانیوں کا مُشاہدہ بھی کرتے ہیں لیکن وہ تصدیق نہیں کرتے تو کیا آپ دل کے اندھوں کو راستہ دکھا دیں گے اگرچہ وہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع