دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

گا، یہاں تک کہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اُس کے چہرہ پر گوشت کا ٹکڑا نہ ہوگا۔ (مسلم، کتاب الزکاۃ، باب کراہۃ المسألۃ للناس، ص۵۱۸، الحدیث: ۱۰۴(۱۰۴۰))

             بیویوں میں انصاف نہ کرنے والے کی ایک کروٹ ٹیڑھی ہوگی۔ حضرت ابوہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، نبیٔ  کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ا رشاد فرمایا جب کسی کے پاس دو بیویاں ہوں پھر ان میں انصاف نہ کرے تو وہ قیامت میں اس طرح آئے گا کہ اس کی ایک کروٹ ٹیڑھی ہوگی۔  (ترمذی، کتاب النکاح، باب ما جاء فی التسویۃ بین الضرائر، ۲ / ۳۷۵، الحدیث: ۱۱۴۴)

             زکوٰۃ ادا کرنے میں بخل کرنے والے پر گنجا سانپ مُسلّط ہو گا، چنانچہ حضرت ابوہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس کو اللہتعالیٰ مال دے اور وہ اُس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن وہ مال گنجے سانپ کی صورت میں کر دیا جائے گا، جس کے سر پر دونشان ہوں گے۔ وہ سانپ اُس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا پھر اس کی باچھیں پکڑے گا اور کہے گا میں تیرا مال ہوں ، میں تیرا خزانہ ہوں۔‘‘ اس کےبعد حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اس آیت کی تلاوت کی 

’’ وَ  لَا  یَحْسَبَنَّ  الَّذِیْنَ  یَبْخَلُوْنَ  بِمَاۤ  اٰتٰىهُمُ  اللّٰهُ  مِنْ  فَضْلِهٖ  هُوَ  خَیْرًا  لَّهُمْؕ-بَلْ  هُوَ  شَرٌّ  لَّهُمْ ‘‘ (اٰل عمران:۱۸۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو لوگ اس چیز میں بخل کرتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہے وہ ہرگز اسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں بلکہ یہ بخل ان کے لئے برا ہے۔(بخاری، کتاب الزکاۃ، باب اثم مانع الزکاۃ، ۱ / ۴۷۴، الحدیث: ۱۴۰۳)

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْۚ-فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ(۲۸)فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِیْنَ(۲۹)هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠(۳۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جس دن ہم ان سب کو اٹھائیں گے پھر مشرکوں سے فرمائیں گے اپنی جگہ رہو تم اور تمہارے شریک تو ہم انہیں مسلمانوں سے جدا کردیں گے اور ان کے شریک ان سے کہیں گے تم ہمیں کب پوجتے تھے۔تو اللہ گواہ کافی ہے ہم میں اور تم میں کہ ہمیں تمہارے پوجنے کی خبر بھی نہ تھی۔یہاں ہر جان جا نچ لے گی جو آگے بھیجا اور اللہ کی طرف پھیرے جائیں گے جو ان کا سچا مولیٰ ہے اور ان کی ساری بناوٹیں ان سے گم جائیں گی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جس دن ہم ان سب کو اٹھائیں گے پھر مشرکوں سے فرمائیں گے: تم اور تمہارے شریک اپنی جگہ ٹھہرے رہو، تو ہم انہیں مسلمانوں سے جدا کردیں گے اور ان کے شریک ان سے کہیں گے: تم ہماری عبادت کرتے ہی نہیں تھے۔تو ہمارے اور تمہارے درمیان گواہی کے لئے اللہ کافی ہے ۔ بیشک ہم تمہاری عبادت سے بے خبر تھے۔ وہاں ہر آدمی اپنے سابقہ اعمال کو جانچ لے گا اور انہیں اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا جو ان کا سچا مولیٰ ہے اور ان کے سارے گھڑے ہوئے (شریک) ان سے غائب ہوجائیں گے۔

{وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا:اور جس دن ہم ان سب کو اٹھائیں گے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب کواٹھائے گا اور تمام مخلوق کو حساب کی جگہ میں اکٹھا فرمائے گا، پھر مشرکوں سے فرمائے گا کہ تم اور تمہارے شریک یعنی وہ بت جن کو تم پوجتے تھے اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ یوں اللہ  تعالیٰ مشرکوں کو مسلمانوں سے جدا کر دے گا اور جب مشرکوں سے سوال جواب ہوگا تو اس وقت ایک ساعت ایسی شدت کی آئے گی کہ بت اپنے پجاریوں کی پوجا کا انکار کردیں گے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہیں گے کہ ہم نہ سنتے تھے، نہ دیکھتے تھے، نہ جانتے تھے، نہ سمجھتے تھے کہ تم ہمیں پوجتے ہو۔ اس پر بت پرست کہیں گے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! ہم تمہیں کو پوجتے تھے، تو بت کہیں گے: اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم ہمیں پوجتے تھے یا نہیں ہم بہرحال تمہاری عبادت سے بے خبر تھے۔ (صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۲۳، ۳ / ۸۶۶-۸۶۷)

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن اللہ  تعالیٰ بتوں کو قوتِ گویائی دے گا اور وہ اپنے پجاریوں کی مخالفت کریں گے۔

{هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ:وہاں ہر آدمی اپنے سابقہ اعمال کو جانچ لے گا۔} یعنی اس مَوقف میں سب کو معلوم ہوجائے گا کہ انہوں نے پہلے جو عمل کئے تھے وہ کیسے تھے اچھے یا برے ،مُضِر یا مفید، مقبول یا مردود اور مشرکوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف لوٹایا جائے گا جو اُن کارب ہے اور اپنی رَبوبیت میں سچا ہے اور مشرک جن بتوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شریک ٹھہراتے تھے وہ ان سے غائب ہو جائیں گے یا جو جھوٹی باتیں مثلاً بتوں کاان کی شفاعت کرنا گھڑتے تھے وہ سب باطل اور بے حقیقت ثابت ہوں گی۔ (مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۳۰، ص۴۷۱-۴۷۲)

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِ جُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِ جُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَؕ-فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰهُۚ-فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ(۳۱)فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّۚ-فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ۚۖ-فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ(۳۲)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ تمہیں کون روزی دیتا ہے آسمان اور زمین سے یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کا اور کون نکالتا ہے زندہ کو مردے سے اور نکالتا ہے مردہ کو زندے سے اور کون تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے تو اب کہیں گے کہ اللہ تو تم فرماؤ تو کیوں نہیں ڈرتے۔تو یہ اللہ ہے تمہارا سچا رب پھر حق کے بعد کیا ہے مگر گمراہی پھر کہاں پھرے جاتے ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: آسمان اور زمین سے تمہیں کون روزی دیتا ہے؟یاکان اور آنکھوں کا مالک کون ہے؟ اور زندہ کو مردے سے اور مردے کو زندہ سے کون نکالتا ہے ؟ اور کون تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے؟ تو اب کہیں گے : ’’ اللہ‘‘ ۔ تو تم فرماؤ تو تم ڈرتے کیوں نہیں ؟تو یہ اللہ ہے جو تمہارا سچا رب ہے ۔پھر حق کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا ہے؟ پھر تم کہاں پھیرے جاتے ہو؟

{قُلْ:تم فرماؤ۔} اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی مذمت بیان فرمائی اور ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکوں کے مذہب کے باطل ہونے اور اسلام کے حق ہونے کو واضح فرما رہا ہے،چنانچہ اس آیت میں بیان فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان مشرکوں سے فرما دیں کہ آسمان سے بارش برسا کر اور زمین سے سبزہ اُگا کر  تمہیں کون روزی دیتا ہے؟ تمہیں یہ حواس کس نے دئیے ہیں جن کے ذریعے تم سنتے اور دیکھتے ہو،آفات کی کثرت کے باوجود کان اور آنکھ کو لمبے عرصے تک کون محفوظ رکھتا ہے حالانکہ یہ اتنے نازک ہیں کہ ذرا سی چیز انہیں نقصان پہنچا سکتی ہے اور زندہ کو مردہ سے جیسے انسان کونطفہ سے، پرندے کو انڈے سے کون نکالتا ہے اور یونہی مردہ کو زندہ سے جیسے نطفہ کو انسان سے اور انڈے کو پرندے سے کون نکالتا ہے؟ اور ساری کائنات کے تمام کاموں کی تدبیر کون کرتا ہے؟ آپ کے سوالات سن کر وہ کہیں گے کہ بے شک ان چیزوں پر قدرت رکھنے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ ہے ۔ جب وہ لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قدرتِ کاملہ کا اِعتراف کر لیں تواے حبیب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، تم ان سے فرماؤ : جب تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ربوبیت کا اعتراف کرتے ہو تو بتوں کو عبادت میں اس کا شریک ٹھہرانے سے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب سے ڈرتے کیوں

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن