30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باب الاقتداء بسنن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ۴ / ۴۹۹، الحدیث: ۷۲۸۱)
{وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ:اور جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔}اس آیت میں صراطِ مستقیم سے مراد دینِ اسلام ہے۔(بغوی، یونس، تحت الآیۃ: ۲۵، ۲ / ۲۹۶) آیت کے اس حصے سے معلوم ہو اکہ اللہ تعالیٰ کی دعوت تو عام ہے کہ سب کوبلایا جا رہا ہے مگر اس کی ہدایت خاص ہے کہ وہ کسی کسی کو ملتی ہے۔
لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌؕ-وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌؕ-اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۲۶)
ترجمۂ کنزالایمان:بھلائی والوں کے لیے بھلائی ہے اور اس سے بھی زائد اور ان کے منھ پر نہ چڑھے گی سیاہی اور نہ خواری وہی جنت والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بھلائی کرنے والوں کے لیے بھلائی ہے اور اس سے بھی زیادہ ہے اور ان کے منہ پر نہ سیاہی چھائی ہوگی اور نہ ذلت۔یہی جنت والے ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
{لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌ:بھلائی کرنے والوں کے لیے بھلائی ہے اور اس سے بھی زیادہ۔} بھلائی والوں سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فرمانبردار بندے مومنین مراد ہیں اور یہ جو فرمایا کہ ان کے لئے بھلائی ہے، اس بھلائی سے جنت مراد ہے اور اس پر زیادت سے مراد دیدارِ الہٰی ہے۔ (مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۲۶، ص۴۷۰)
اَحادیث سے بھی ثابت ہے کہ اس آیت میں زیادت سے مراد دیدارِ الہٰی ہے ،چنانچہ حضرت صہیب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ جنتیوں کے جنت میں داخل ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا :کیا تم چاہتے ہو کہ تم پر اور زیادہ عنایت کروں۔ وہ عرض کریں گے: یارب! عَزَّوَجَلَّ، کیا تو نے ہمارے چہرے سفید نہیں کئے، کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں فرمایا ، کیا تو نے ہمیں دوزخ سے نجات نہیں دی۔ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: پھر پردہ اٹھادیا جائے گا تودیدارِ الہٰی انہیں ہر نعمت سے زیادہ پیارا ہوگا۔ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ پھر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ’’ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌ ‘‘ (مسلم، کتاب الایمان، باب فی قولہ علیہ السلام: انّ اللہ لا ینام۔۔۔ الخ، ص۱۱۰، الحدیث: ۲۹۷-۲۹۸(۱۸۱))
یہی روایت الفاظ کی کچھ تبدیلی کے ساتھ ترمذی ،نسائی اور ابن ماجہ میں بھی موجود ہے، صحیح بخاری میں ہے ’’امام مجاہد کے علاوہ کے نزدیک آیت میں زیادت سے مراد اللہ تعالیٰ کا دیدار ہے۔(بخاری، کتاب التفسیر، سورۃ یونس، ۱-باب، ۳ / ۲۴۳، عمدۃ القاری، ، کتاب التفسیر، سورۃ یونس، ۱-باب وقال ابن عباس: فاختلط فنبت بالماء من کلّ لون، ۱۳ / ۴۴)
وَ الَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَاۙ-وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌؕ-مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍۚ-كَاَنَّمَاۤ اُغْشِیَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًاؕ-اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۲۷)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جنہوں نے برائیاں کمائیں تو برائی کا بدلہ اسی جیسا اور ان پر ذلت چڑھے گی انہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا گویا ان کے چہروں پر اندھیری رات کے ٹکڑے چڑھا دیئے ہیں وہی دوزخ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جنہوں نے برائیاں کمائیں تو برائی کا بدلہ اسی کے برابر ہے اور ان پر ذلت چھائی ہوگی، انہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا، گویا ان کے چہروں کو اندھیری رات کے ٹکڑوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ وہی دوزخ والے ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
{وَ الَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّاٰتِ:اور جنہوں نے برائیوں کی کمائی کی۔} اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے اُخروی حالات اور انعامات بیان فرمائے اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے چار اخروی اَحوال بیان فرمائے ہیں۔
(1)…جتنا گناہ ہو گا اتنی ہی سزا ملے گی۔ اس قید سے اس بات پر تَنبیہ مقصود ہے کہ نیکی اور گناہ میں فرق ہے کیونکہ نیکی کا ثواب ایک سے لے کر سات سوگنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ بڑھایا جاتا ہے اور یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فضل و کرم ہے اور گناہ کی سزا اتنی ہی دی جاتی ہے جتنا گناہ ہو اور یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عدل ہے۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۳۱۳)
(2)… ان پر ذلت چھائی ہوگی۔ اس میں ان کی توہین اور تحقیر کی طرف اشارہ ہے۔
(3)…انہیں اللہ کے عذاب اور اس کی ناراضی سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔
(4)… گویا ان کے چہروں کو اندھیری رات کے ٹکڑوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ ان کی روسیاہی کا یہ حال ہوگا خدا کی پناہ۔
قیامت کے دن بعض مسلمانوں پر بھی عذابِ الٰہی کے آثار ہوں گے:
اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن مومن و کافر چہروں ہی سے معلوم ہو جائیں گے۔ رب عَزَّوَجَلَّفرماتا ہے
’’ یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمٰىهُمْ ‘‘ (رحمٰن:۴۱)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:مجرم اپنے چہروں سے پہچانے جائیں گے۔
اور فرماتا ہے:
’’ تَبْیَضُّ وُجُوْهٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْهٌ ‘‘ (اٰل عمران:۱۰۶)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: کئی چہرے روشن ہوں گے اور کئی چہرے سیاہ ہوں گے۔
البتہ کئی مسلمان بھی ایسے ہوں گے جو قیامت کے دن اپنے عذاب کی علامات لئے ہوئے ہوں گے جیسے
پیشہ ور بھکاری کے منہ پر گوشت نہ ہوگا ،چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’آدمی سوال کرتا رہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع