دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-4-Para-10-To-12 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-چہارم- پارہ دس تا بارہ

ہوجاتا ہے اور جیسے ہی معاملہ ختم ہوا تو کہاں کی نماز و مسجد اور کہاں کی ذکر و تلاوت؟ دوبارہ پھر اپنی پرانی دنیا میں لوٹ جاتے ہیں۔ مسلمان کا قول تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ کہتا ہے کہ میرا جینا مرنا سب اللہ کیلئے ہے ،لیکن افسوس کہ آج مسلمان کا عمل اِس کے خلاف نظر آ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت اور عقلِ سلیم عطا فرمائے،اٰمین۔

اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُؕ-حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤۙ-اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِؕ-كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ(۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان: دنیا کی زندگی کی کہا وت تو ایسی ہی ہے جیسے وہ پانی کہ ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے سبب زمین سے اگنے والی چیزیں گھنی ہوکر نکلیں جو کچھ آدمی اور چوپائے کھاتے ہیں یہاں تک کہ جب زمین نے اپنا سنگار لے لیا اور خوب آراستہ ہوگئی اور اس کے مالک سمجھے کہ یہ ہمارے بس میں آگئی ہمارا حکم اس پر آیا رات میں یا دن میں تو ہم نے اسے کردیا کاٹی ہوئی گویا کل تھی ہی نہیں ہم یونہی آیتیں مفصل بیان کرتے ہیں غور کرنے والوں کے لیے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:دنیا کی زندگی کی مثال تو اس پانی جیسی ہے جسے ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے سبب زمین سے اگنے والی چیزیں گھنی ہو کر نکلیں جن سے انسان اور جانور کھاتے ہیں یہاں تک کہ جب زمین نے اپنی خوبصورتی پکڑلی اور خوب آراستہ ہوگئی اور اس کے مالک سمجھے کہ (اب) وہ اس فصل پر قادر ہیں تو رات یا دن کے وقت ہمارا حکم آیا تو ہم نے اسے ایسی کٹی ہوئی کھیتی کردیا گویا وہ کل وہاں پر موجود ہی نہ تھی۔ ہم غور کرنے والوں کیلئے اسی طرح تفصیل سے آیات بیان کرتے ہیں۔

{اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا:دنیا کی زندگی کی مثال۔} اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تھا کہ ’’اے لوگو! تمہاری زیادتی (درحقیقت) صرف تمہارے ہی خلاف ہے ۔ ‘‘ اورا س آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے بارے میں ایک عجیب مثال بیان فرمائی ہے جو دنیا کی لذتوں میں گم ہو کر اپنی آخرت سے بے پر واہ ہو جاتا ہے ۔اس مثال کا خلاصہ یہ ہے کہ آسمان سے اترنے والے پانی کی وجہ سے زمین کی پیداوار بہت گھنی ہوجاتی ہے کیونکہ جب بارش ہوتی ہے تو اس کے سبب زمین سے رنگ برنگے پھول، خوبصورت بیلیں ،خوش ذائقہ پھل اوران کے علاوہ طرح طرح کی اَجناس پیدا ہوتی ہیں حتّٰی کہ جب باغات اور کھیتوں کا مالک پھلوں سے لدے ہوئے درختوں اور ہری بھری،لہلہاتی فصلوں کو دیکھتا ہے تو خوشی سے پھولے نہیں سماتا ،پھر وہ اس پیداوار سے فوائد حاصل کرنے سے متعلق بڑے بڑے منصوبے بناتا ہے ، اس کا دل ان منصوبوں میں ہی مشغول ہوتا ہے اور یوں وہ بالکل غافل ہوتا ہے اور اسی حالت میں اللہ تعالیٰ دن یا رات میں ان پُرکشش باغوں اور کھیتوں پر ژالہ باری، آندھی یا طوفان وغیرہ کوئی بڑی آفت نازل فرما دیتا ہے جس سے یہ باغات اور فصلیں ایسے تباہ ہوجاتے ہیں جیسے کبھی تھے ہی نہیں اور ان کا مالک حسرت زدہ اور شدید غم میں مبتلا ہو کر بس ہاتھ ملتا ہی رہ جاتا ہے۔ (تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۲۴، ۶ / ۲۳۶-۲۳۷)

دُنیوی زندگی امیدوں کا سبز باغ ہے:

            اس آیت میں بہت بہترین طریقے سے دل میں یہ بات بٹھائی گئی ہے کہ دنیوی زندگانی امیدوں کا سبز باغ ہے، اس میں عمر کھو کر جب آدمی اس مقام پر پہنچتا ہے جہاں اس کو مراد حاصل ہونے کا اطمینان ہوتا ہے اور وہ کامیابی کے نشے میں مست ہو جاتا ہے تو اچانک اس کو موت آ پہنچتی ہے اور وہ تمام نعمتوں اور لذتوں سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت قتادہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ دنیا کا طلب گار جب بالکل بے فکر ہوتا ہے اس وقت اس پر عذابِ الہٰی آتا ہے اور اس کا تمام سازو سامان جس سے اس کی امیدیں وابستہ تھیں غارت ہوجاتا ہے۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۲۴، ۲ / ۳۱۰، ملخصاً)

{كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ:ہم غور کرنے والوں کیلئے اسی طرح تفصیل سے آیات بیان کرتے ہیں۔} یعنی جس طرح ہم نے تمہارے سامنے دُنیوی زندگی کی مثال اور اس کا حکم بیان فرمایا اسی طرح ہم غور وفکر کرنے والوں کیلئے تفصیل سے اپنے دلائل بیان کرتے ہیں تاکہ وہ نفع حاصل کریں اور شک و وہم کی ظلمتوں سے نجات پائیں اور دنیائے ناپائیدار کی بے ثَباتی سے باخبر ہوں۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۲۴، ۲ / ۳۱۱)

وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِؕ-وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۲۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف پکارتا ہے اور جسے چاہے سیدھی راہ چلاتا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔

{وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ:اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔} دنیا کی بے ثباتی بیان فرمانے کے بعد اس آیت میں باقی رہنے والے گھر جنت کی طرف دعوت دی گئی اور فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کو اس گھر کی طرف بلاتا ہے جس میں ہر قسم کی تکلیف اور مصیبت سے سلامتی ہے۔ حضرت قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ دارُالسَّلام سے مراد جنت ہے۔ اوریہ اللہ عَزَّوَجَلَّکی بے انتہاء رحمت اور اس کا کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو جنت کی دعوت دی۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۲۵، ۲ / ۳۱۱)

جنت کے داعی:

            یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو جنت کی طرف دعوت دیتا ہے اور یہ دعوت اللہ تعالیٰ کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ذریعے ہے چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نبیٔ  کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں کچھ فرشتے اس وقت حاضر ہوئے جب آپ سوئے ہوئے تھے ،ان میں سے بعض نے کہا کہ’’ آپ تو سوئے ہوئے ہیں اور بعض نے کہا کہ’’ ان کی آنکھ سوتی ہے اور دل جاگتا ہے ۔بعض کہنے لگے کہ ’’ان کی کوئی مثال بیان کرو تو انہوں نے کہا :ان کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک مکان بنایا اور اس میں طرح طرح کی نعمتیں مہیا کیں اور ایک بلانے والے کوبھیجا کہ لوگوں کو بلائے جس نے اس بلانے والے کی اطاعت کی وہ اس مکان میں داخل ہوا اور ان نعمتوں کو کھایا پیا اور جس نے بلانے والے کی اطاعت نہ کی وہ نہ مکان میں داخل ہوسکا، نہ کچھ کھا سکا ۔ پھر وہ کہنے لگے کہ اس کا مطلب بیان کیجئے تاکہ بات سمجھ میں آجائے۔ انہوں نے کہا کہ مکان سے مراد جنت ہے اور بلانے والے سے محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مراد ہیں ، جس نے ان کی اطاعت کی اس نے اللہ عَزَّوَجَلَّکی اطاعت کی ، جس نے ان کی نافرمانی کی اس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کی۔ (بخاری، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنّۃ،

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن